شہیدوں کے لواحقین کو یادگارشہداء اور شہداء قبرستان جانے تک کی اجازت نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#MQMMartyrsOurHero
دنیا کے کسی معاشرے، مذہب اورآئین وقانون کے مطابق کسی بھی شہری کوماورائے عدالت قتل کردینے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ سیکوریٹی فورسزکا کسی بھی شہری کوکسی بھی الزام میں گرفتارکرنے کے بعد عدالت میں پیش کرنے کے بجائے قتل کرنے کا عمل ماورائے آئین اور غیرقانونی ہے۔
قتل قتل ہوتا ہے خواہ کوئی سویلین کرے یاکسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کااہلکارکرے،وہ قتل میں شمارہوگا اور قانون کے مطابق قاتل کو سزا دی جانی چاہیے۔
یہ انتہائی افسوسناک اورالمیہ ہےکہ پاکستان میں مہاجروں، اندرون سندھ، صوبہ بلوچستان اورصوبہ خیبرپختونخوا میں بےشمار شہریوں کوماورائے عدالت قتل کیاگیالیکن ماورائے عدالت قتل کرنے والوں کو قانون کے مطابق کوئی سزا نہیں دی گئی۔آخر پاکستان میں آئین اورقانون کی بالادستی کیوں نہیں کی جاتی؟
ایم کیوایم کے خلاف کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں 19جون 1992ء کو اعلانیہ فوجی آپریشن شروع کیاگیا جو آج تک جاری ہے،اس آپریشن کے دوران ہمارے ہزاروں بے گناہ کارکنوں کوماورائے عدالت قتل کردیاگیا، ایم کیوایم کوئی مسلح گروہ نہیں جوفوج یا پولیس سے مقابلہ کرے، ایم کیوایم نے انصاف کے حصول کیلئے عدالتوں سےرجوع کیا لیکن ماورائےعدالت قتل کیے گئے شہیدوں کےلواحقین کی نہ تو عدلیہ کی جانب سے فریاد سنی گئی اورنہ ہی انہیں انصاف فراہم کیاگیا۔
اب پاکستان کے عوام بتائیں کہ مظلوم عوام اپنی فریاد لیکر کہاں جائیں؟ ان کے پاس صبر کرنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں ہے۔
ایم کیوایم 9، دسمبرکو”یوم شہداء“ مناتی ہے،شہداء کے لواحقین اور کارکنان یادگارشہداپر جاکر فاتحہ خوانی کرتے تھے اورشہداقبرستان جاکران کی قبروں پر پھول چڑھاتے تھے،فاتحہ پڑھتے تھے،شہیدوں کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کا اہتمام کرتے تھے لیکن 22 اگست 2016ء سے شہیدوں کے لواحقین کوفاتحہ خوانی کے لئے یادگارشہداء اور شہداء قبرستان جانے تک کی اجازت نہیں ہے۔اگر شہداء کے لواحقین کواپنے شہداء کی قبروں پر حاضری دینے اورفاتحہ خوانی کیلئے شہداقبرستان اور یادگارشہداء جانے کی بھی اجازت نہ دی جائے تو یہ ان غمزدہ خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔
آج 9، دسمبر2025ء اوریوم شہداء ہے اور شہداء کے لواحقین کو شہداء قبرستان اوریادگارشہداء جانے سے روکنے کیلئے گزشتہ روز شام سے ہی جناح گراؤنڈ عزیزآباد میں واقع یادگارشہداء اور شہداء قبرستان یاسین آباد جانے والےتمام راستوں پر پیراملٹری رینجرزاورپولیس کی موبائیلوں کی بڑی تعداد نے گشت شروع کردیااورآج صبح سے ہی عزیزآباد میں یادگارشہدااور یاسین آباد میں شہداء قبرستا ن جانے والے علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔ تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے آنے جانے والے شہریوں کی تلاشی لی جارہی ہے،ان کےفون چیک کیے جارہے ہیں اورعلاقے میں خوف وہراس پھیلایاجارہا ہے۔ یہ انتہائی سفاکانہ عمل ہے کہ ملک میں امن پسند شہری اپنے شہداء کی قبروں پر نہیں جاسکتے، قبروں پرپھول نہیں چڑھاسکتے اور فاتحہ خوانی نہیں کرسکتے۔
ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران ہزاروں کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا۔اسی آپریشن کے دوران 5اور6 دسمبر1995ء کی رات رینجرز، پولیس اور سادہ لباس میں ملبوس سرکاری ایجنسیوں کے اہلکاروں کی بہت بڑی تعداد نے کراچی میں میرے بڑے بھائی77 سالہ ناصر حسین اور28 سالہ بھتیجے عارف حسین ��وگھرسے گرفتار کیا اور انہیں حراست میں لیکر میرے ایک ایک بھائی اوربہن کے گھرپر چھاپے مارے اوران کے گھروں کے تالے توڑ کرلوٹ مارکی۔میرے بڑے بھائی ناصر حسین اور بھتیجے عارف حسین کوتین روز تک بہیمانہ تشددکانشانہ بنانے کے بعدکراچی کے علاقے گڈاپ میں لیجاکرگولیاں مارکرشہید کردیاگیاجبکہ میرے بھتیجے کے سر کوکلہاڑی کے وارسے دوٹکڑے کئے گئے۔
میرے بہنوئی اسلم ابراہانی کو اڈیالہ جیل میں چھ ماہ قید رکھ کروحشیانہ تشددکانشانہ بنایاگیا جس کے بعد وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ میرے بھائی، بھتیجے اوربہنوئی کا ایم کیوایم یاکسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا، ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ الطاف حسین کے رشتے دار تھے تو کیارشتہ دار ہونا ان کاجرم تھا؟
1/2
بعض جلاوطن یوٹیوبرز جواپنے پروگراموں میں پی ٹی آئی سے ہمدردی کااظہار کرتے ہیں ، مگرمیری ایم کیوایم پر دہشت گردی، غداری اور ملک دشمنی کے الزامات لگانے اوراس پر بہتان لگاتے ہیں۔ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ جب ایم کیوایم قائم ہوئی تھی تو وہ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔پی ٹی آئی والے انہیں بغور سن کرانہیں بھاری تعداد میں ڈالرزبھی فراہم کررہے ہیں اورآج بھی ایم کیوایم کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا ذکر کرکے سوالات کرتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہےکہ اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود تحریک انصاف والے الطاف حسین کو آج بھی تعصب کی عینک سے دیکھتے ہیں،ایسے میں قدرت کامکافات عمل (Karma) توہونا ہے۔ آج تحریک انصاف اور عمران خان پر دہشت گردی کے الزامات لگ رہے ہیں کہ انہوں نے 9، مئی کا واقعہ کروایا، کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملہ کرکے وہاں آگ لگائی اور جی ایچ کیو پر حملہ کیا۔عمران خان سے لاتعلقی اختیار کرنےوالے پی ٹی آئی کے رہنماء پریس کانفرنس کرکے کہتے رہے کہ عمران خا�� دہشت گردی کی بات کرتا تھااورہمیں پتہ نہیں تھا۔ گزشتہ دو تین دنوں سے مسلم لیگ (ن) اورعمران خان سے لاتعلقی کرنے والے پی ٹی آئی کے لوگ کھل کرکہہ رہے ہیں کہ اگر PTI کو زندہ رکھنا ہے تو انہیں”مائنس ون فارمولے“ پر عمل کرنا ہوگا اورعمران خان سے لاتعلقی کرنی ہوگی۔ کہا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی والوں کے پاس دو راستے ہیں کہ وہ یا تو عمران خان سے لاتعلقی اختیارکریں یا تحریک انصاف پر پابندی کیلئے تیاررہیں۔
یہ مائنس ون فارمولہ بہت سے جماعتوں کے خلاف اختیار کیاجاتارہا ہے۔ایم کیوایم سے تو یہ مطالبہ 33 سال سے کیاجاتارہا ہے کہ الطاف حسین سے علیحدگی اختیارکرو۔مجھے یاد ہے کہ جب ایم کیوایم سے تعلق رکھنے والوں نے PSP بنائی، MQM-P بنائی تو اس وقت PTI والے خوشی میں بھنگڑے ڈال رہے تھے۔آج انہیں مائنس ون فارمولے کا پتہ چل رہا ہے۔ جولوگ مجھ سے سوال کرتے تھے کہ ایم کیوایم کے پرانے لوگوں نے الگ ہوکر دوسری پارٹی کیوں بنائی،وہ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ پی ٹی آئی کے سینئررہنماؤں نے الگ ہوکرجہانگیرترین کی قیادت میں استحکام پاکستان پارٹی اورپی ٹی آئی پارل��منٹرین کیسے وجودمیں آئی۔ اب قدرت کے مکافات عمل کے تحت PTI کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے تو شائد انہیں سمجھ میں آرہا ہو کہ پرانے پرانے لوگ ایم کیوایم سے کیسے الگ ہوئے۔ میں نے پی ٹی آئی والوں کو بہت سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں سمجھے، اب جلدہی قدرت انہیں سمجھائے گی۔
ستمبر2015ء میں لاہورہائی کورٹ کے ذریعے الطاف حسین کی تحریر، تقریر اورتصویر پر پابندی لگوائی گئی تو PTI والوں نے خوشی کااظہارکیاکہ الطاف حسین فوج کے خلاف بات کرتا ہے اس پر پابندی ٹھیک ہے۔ 22 اگست 2016ء کو ایم کیوایم کے مرکز اور میرے گھر ”نائن زیرو“ کو seal کردیا گیا، بعدمیرے گھرکو آگ لگادی گئی، اسے بم سے اڑا کر بلڈوز کردیاگیا لیکن کہیں سے کوئی مذمت کی آوازبلند نہیں ہوئی۔
آج بہت سی باتیں کی جارہی ہیں۔سوال تویہ بھی بنتاہے کہ کیامسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ میں فوج کے خلاف سنگین تقاریرنہیں کیں؟ کیا نواز شریف کے لوگوں نے سپریم کورٹ پرحملہ نہیں کیا؟ کیامسلم لیگ (ن) کے لوگ سپریم کورٹ پر حملے کے دوران چیف جسٹس کے چیمبرمیں نہیں گھسے؟ کیا مسلم لیگ (ن) کے لوگوں نے اخبارات کے دفاترپر حملے نہیں کیے؟ پھرانہیں سیاست کی اجازت کیوں دی گ��ی؟
اسی طرح آج پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری صدارت کی کرسی پربیٹھے ہوئے ہیں، جبکہ پیپلزپارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جس نے جنرل ضیاء کے مارشل لادورمیں بھٹوحکومت کے خاتمہ کے بعد دہشت گرد تنظیم الذوالفقار بنائی۔ الذوالفقار نے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں کیں، آئل ریفائنریوں پر راکٹوں سے حملے کئے، پی آئی اے کاطیارہ ہائی جیک کیا،دہشت گردی کی اس کاروائی میں ایک فوجی افسر کرنل طارق رفیع کو قتل کیا۔ طیارہ ہائی جیکنگ میں مسافروں کےبدلے پیپلزپارٹی کے150 کارکنوں کو کراچی سینٹرل جیل سے چھڑایاگیا اور افغانستان پہنچایاگیا، پھر پیپلزپارٹی کو سیاست میں حصہ لینے کی اجازت کیوں دی گئی؟
پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن نے ملک کوجس طرح لوٹا، اگروہ پیسہ ملک میں واپس آجائے توپاکستان کاقرضہ واپس ہوسکتاہے۔ عوام میں یہ شعورپھیل رہاہے اوریہ شعورہی پاکستان کوبچائے گا۔
ٓؒالطاف حسین
ٹک ٹاک پر 359ویں فکری نشست سے خطاب
7، دسمبر2025ء
وہ جس پر مرنا گوارہ ہے میرا قائد ہے
عظیم قائد عظیم رہنما عظیم لیڈر ۔۔
جناب الطاف حسین بھائی ۔۔
#یوم_شہداء
9_دسمبر
#MQMMartyrsOurHero
وہ یہیں سے لوٹ جائیں جنہیں سر عزیز ہیں
ہم سر پھروں کے ساتھ،کوئی سر پھرا چلے
@AltafHussain_90
وہ جس پر مرنا گوارہ ہے میرا قائد ہے
عظیم قائد عظیم رہنما عظیم لیڈر ۔۔
جناب الطاف حسین بھائی ۔۔
#MQMMartyrsOurHero
تحریک کے تمام شہداء حق کو سرخ سلام
اللہ پاک تحریک کے تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
@AltafHussain_90
مظلوموں کا ساتھی ہے الطاف حسین
#الطاف_حسین_ضروری_ہے
ساتھیوں، ہمدردوں، الطاف حسین بھائی کے چاہنے والوں سے گذارش ہے کہ اس ہیش ٹیگ پر زیادہ سے زیادہ ٹویٹس کریں۔
شکریہ
جبری گمشدگی کے بارے میں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کے ورکنگ گروپ کا ایم کیوایم کے لاپتہ رہنماؤں نثارپہنور اور انورخان ترین کی جبری گمشدگی پر اظہار تشویش۔
ورکنگ گروپ نے ارجنٹ ایکشن پروسی��ر کے تحت کیس کو حکومت پاکستان کوبھیجا ہے۔
ورکنگ گروپ کاایم کیوایم کے انٹرنیشنل ریلیشنزاینڈہیومن رائٹس ونگ کے نام خط۔
ورکنگ گروپ کا ایم کیوایم کے انٹرنیشنل ریلیشنزاینڈ ہیومن رائٹس ونگ کو26 سے 30جنوری 2026ء تک ہونے والے ورکنگ گروپ کے 138ویں سیشن میں شرکت اور ماہرین سے ملاقات کی دعوت۔
لندن …28 نومبر 2025
جبری گمشدگی کے بارے میں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کے ورکنگ گروپ نے ایم کیوایم کے لاپتہ رہنماؤں نثارپہنور اور انور خان ترین کی جبری گمشدگی پراپنی تشویش کااظہار کیا ہے۔ایم کیوایم کے انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈہیومن رائٹس ونگ کو موصول ہونے والے اپنے خط میں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کے ورکنگ گروپ کی جانب سے کہا گیا کہ ورکنگ گروپ نے نثار پہنوراور انورخان ترین کی جبری گمشدگی کے کیس پر غورکیا ہے اور اپنے ارجنٹ ایکشن پروسیجر کے تحت اس کیس کوحکومت پاکستان کوبھیجا گیا ہے اورورکنگ گروپ نے اس امید کا اظہارکیا ہےکہ نثار پہنور اورانور ترین کےحقوق کے تحفظ کے لئے ان کی بازیابی اوران کےمقام کے بارے میں معلومات کے لئے اس کیس کی مناسب تحقیقات کی جائیں گی اوراس کیس کے سلسلے میں حکومت پاکستان کی جانب سے جوبھی معلومات حاصل ہوں گی وہ آپ کوبھیجی جائیں گی۔
اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے ایم کیوایم کے انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈہیومن رائٹس ��نگ کے نام اپنے خط میں کہاہے کہ اس کیس کے سلسلے میں مزید تفصیلات یا جو مزید اطلاعات ہوں تووہ بھی بھیج دیں تاکہ 26 سے 30جنوری 2026ء تک ہونے والے ورکنگ گروپ کے 138 ویں سیشن میں اس پر غور کیاجائے۔
اقوام متحدہ ہیومن رائٹس کونسل کے ورکنگ گروپ نے ایم کیوایم کے انٹرنیشنل ریلیشنزاینڈہیومن رائٹس ونگ کوانسانی حقوق کے بارے میں جنیوا میں ہونے والے اپنے آئندہ سیشن میں شرکت اورورکنگ گروپ کے ماہرین سے ملاقات کی بھی دعوت دی ہے۔
واضح رہے کہ ایم کیوایم کے انٹرنیشنل ریلیشنزاینڈہیومن رائٹس ونگ کی جانب سے اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کونسل کے ورکنگ گروپ برائے جبری گمشدگی کو نثار پہنور اور انورخان ترین کی جبری گمشدگی کے بارے میں پٹیشنز بھیجی گئی تھیں۔
پیپلزپارٹی کے جاگیرداروں اور وڈیروں کی صفوں میں کھلبلی
بانی وقائد @AltafHussain_90 کا نام کرپٹ زرداری سسٹم کیلئے دہشت کی علامت بن چکا ہے
کہا الطاف حسین آرہے ہیں؟
کہا الطاف حسین تو آئیں گے
کہا الطاف حسین کا ڈر ہے
کہا الطاف حسین کا ڈر تو ہوگا
جب کمینے عروج پاتے ہیں
اپنی اوقات بھول جاتے ہیں
کتنے کم ظرف ہیں یہ غبّارے
چند پھونکوں سے پھول جاتے ہیں
یہ مکار عیار غدار جھوٹ بول رہا ہے بکواس کر رہا ہے، کیا اس نے صولت مرزا بھائی کی نماز جنازہ میں شرکت کی تھی؟
کیا یہ را کے ایجنٹ کی سربراہی میں کام نہیں کر رہا ہے؟
کیا یہ اب بھی مہاجر ہے؟
یہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو مہاجر نام اور ایم کیو ایم کو دفن کرنے آئے تھے درست یا غلط؟
کیا یہ عدالت جاکر صولت مرزا بھائی کے کیس کو ری اوپن کرنے کی درخواست کرئے گا؟
فیصل بیٹا ذرا اپنا رپلائی کا آپشن تو کھولو پھر دیکھو تمہاری لوگ عوام کس طرح سے تواضع کرتے ہیں۔
دعائے صحت کی اپیل!
ایم کیو ایم برطانیہ کے جوائنٹ آرگنائزر وجہیہ احمد کی علالت پر بانی وقائد جناب الطاف حسین کا اظہار تشویش
وفاپرست عوام وکارکنان وجہیہ احمد کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لئے اللہّ تعالیٰ کے حضور خصوصی دعا کریں ، جناب الطاف حسین کی اپیل
مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلزپارٹی نے 27ویں ترمیم کرکے آئین، قانون، عدلیہ، نظام انصاف اوراپنے وعدوں، دعووں اورنعروں کے پرخچے اڑادیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#27thConstitutionalAmendments
مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلزپارٹی جوجمہوریت، آئین کے تقدس، عدلیہ کی آزادی وخودمختاری اورانصاف کے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے لیکن ان دونوں جماعتوں نے آئین میں 27ویں ترمیم کرکے آئین، قانون، عدلیہ، نظام انصاف اوراپنے وعدوں، دعووں اورنعروں کے پرخچے اڑادیے ہیں۔
فارم 47کے تحت وزارت عظمیٰ کی کرسی پر فائز ہونے والے وزیراعظم میاں محمدشہبازشریف 15سال پہلے اپنے جلسوں میں عوامی شاعر حبیب جالبؔ کی مشہورنظم کایہ شعر بہت پڑھاکرتے تھے،
ایسے دستورکو ، صبح ِ بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
وزیراعظم میاں شہباز شریف یہ شعراس قدرجوش اورجذبات میں پڑھاکرتے تھے کہ ایک روزانہوں نے جوش خطابت میں ڈائس پر رکھے مائیک تک گرادیے تھے۔اُس وقت لوگ شاید سمجھ نہیں سکے تھے کہ دراصل شہباز شریف اُس وقت کے اُس آئین کونہیں مانتے تھے جس میں جمہوری اقدار اوراصولوں کے تحت صدراور وزیراعظم کے پاس اختیارات ہوتے تھے، آئین کے تحت تمام ادارے اورحکمراں آئین کے ماتحت اوراس کوجواب دہ ہوتے تھے۔شہباز شریف اُس دستور کو نہیں مانتے تھے، دراصل وہ ایسا دستور چاہتے تھے جس کے ذریعےاُن تمام جمہوری اقدار اورتقاضوں کاخاتمہ ہوجائے، وہ ایسا دستورچاہتے تھے جس کے تحت ملک میں ایسا وزیراعظم ہو جو کٹھ پتلی ہو، جوبےاختیار ہو، آزاد عدلیہ نہ ہو، جس میں حکمران اورادارے آئین وقانون کوجوابدہ نہ ہوں، جوقانون سے بالاترہوں اوراحتساب سے مستثنیٰ ہوں،وہ چاہتے تھے کہ شریف خاندان اور زرداری خاندان نے ملک کی جودولت لوٹی ہو،کرپشن کا جو بازارگرم کیاہواور اپنے مخالفین کا ماورائے عدالت قتل کیا،ہواُس کے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں اورکٹھ پتلی وزیراعظم ریشمی کپڑے سے بوٹوں کی پالش کرتے رہیں۔
عوام جمہوریت اورانصاف چاہتے ہیں اسی لئے نوازشریف، انکی بیٹی مریم نواز،شہبازشریف اوراپنی تقاریر میں عوام کوبیوقوف بنانے کے لئے بڑے زوروشور سے ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ لگاتے تھے۔8، فروری 2024ء کے انتخابات میں پاکستان کے عوام نے تحریک انصاف اور عمران خان کو سب سے زیادہ ووٹ دیئے تھے۔میرا سوال ہے کہ فارم 47کے تحت انتخابی نتائج کوجس طرح تبدیل کیاگیا، جیتے ہوئے لوگوں کوہرایا گیااورہارے ہوئے لوگوں کوجتایاگیا،کیان لیگ والوں نے اس دھاندلی کوقبول کرکے عوا م کے ووٹوں کوعزت دی تھی یا ان کی تذلیل کی؟
27ویں آئینی ترمیم کرکے انہوں نے ووٹ کو عزت دی ہے یا ووٹ کی عزت کے پرخچے اُڑادیئے ہیں؟
محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیپلزپارٹی کی جانب سے ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگایا گیا تھا اوربے نظیربھٹو کے صاحبزادے بلاول زرداری نے ”جمہوریت بہترین انتق��م ہے“ کا نعرہ لگایا۔
لیکن پیپلزپارٹی نے ن لیگ کے ساتھ ملکر فارم 47 کے دھاندلی زدہ انتخابی نتائج قبول کرکے حکومت قائم کرلی، کیایہ عمل کرکے دونوں جماعتوں نے عوام کی خواہشات اورامنگوں کے مطابق دیئے گئے ووٹوں کے پرخچے نہیں اڑائے؟ کیا پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے عوام کے ووٹوں کی عزت واحترام کو برقراررکھایا عوام کے ووٹوں کا تقدس پامال کیا؟ یہ عمل کرتے وقت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) والوں کی شرم وحی��کہاں چلی گئی؟
ن لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں جمہوریت، عدلیہ کی آزادی اور انصاف کے نظام کی بات کرتی تھی مگر دونوں جماعتوں نے آئین اورنظام انصاف کے جس طرح پرخچے اُڑائے ہیں وہ پوری قوم خوب جانتی ہے، یہ دونوں جماعتیں ہرگزرتے دن کے ساتھ نظام انصاف کے مکمل خاتمے کیلئے رات دن مصروف عمل ہیں۔
میں علم الاعداد کا ماہر نہیں ہوں اپنی تحقیق کے مطابق بتارہاہوں کہ مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی نے اپنے خاندانوں کے اقتدارکو برقراررکھنے کیلئے آئین میں جو 27 ویں ترمیم کی ہے اس 27کے ہندسے کے 2 اور 7 کو جمع کیاجائے تواس کا مجموعہ 9 بنتا ہے۔ اسی طرح یہ ترمیم سن 2025 ء میں کی گئی ہے۔2025 کے ان اعداد کو جمع کیاجائے تواس کا مجموعہ بھی 9 بنتا ہے۔اگر 9 اور 9 کو جمع کیاجائے تووہ بھی 18 کاعدد بنتا ہے۔ ان دونوں ہندسوں کو جمع کیا جائے تواس کاعدد بھی 9 بنتا ہے۔ یہ ترمیم نومبر کے مہینے میں کی گئی ہے جوکہ سال کا 11 واں مہینہ ہے اور 11 کے اعداد کو جمع کیاجائے تویہ 2 کاہندسہ بنتا ہے۔آئینی ترمیم لانے اورپاس کرانے میں مرکزی کردار ادا کرنے والی جماعتیں بھی 2 ہیں۔ لہٰذا 27 ویں آئینی ترمیم اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ مستقبل میں پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) دونوں کا انشاء اللہ نو دو گیارہ (9+2=11) ہونے والا ہے۔
1/2
ضمیرفروشوں کے نام
اپنےضمیر کے ساتھ ساتھ غیرت تو تم نے بیچ ہی کھائی تھی لہٰذا غیرت کا توسوال ہی نہیں بنتا لیکن کبھی تنہائی میں سوچنا کہ قائد سے بے وفائی کرکے، تحریک کی عزت ، شہیدوں کے لہو ، قوم کے حقوق اور قومی غیرت و ��اقت کا سودا کرکے تم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔
تم نے ذلت کے جس راستے کا انتخاب کیا ہے اس میں اب صرف مالکوں کے حکم پر سر جھکا کر دُم ہلانا اور ٹکے ٹکے کے لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ہونا تمہارا مقدر ہے۔ تمہیں نہ کل 26 ویں ترمیم میں کچھ ملا تھا، نہ ہی آج 27 ویں ترمیم میں کچھ ملا ہے، اور نہ ہی 28 ویں میں کچھ ملے گا کیونکہ جس قائد کی قیادت اور جس مرکز سے تعلق کی بدولت سب کچھ ملتا تھا اس کا تو تم اپنے ہاتھوں سے خون کرچکے ہو۔ لہٰذ اب ؛
کسی در سے تمہیں کچھ نہ ملے گا
کہ تم نے قوم کا سودا کیا ہے
وفا تم سے کوئی اب کیا کرے گا
کہ تم نے باپ سے دھوکہ کیا ہے