انھی مناظر نے ابھی تک گورنر راج اور ایمرجنسی کے آگے بند باندھ رکھا ہے۔ یاد رہے کہ اس صوبے میں وفاق امن و امان کا جواز بنا کر ایمرجنسی لگانا چاہتا ہے جس کا وزیر اعلی ہر روز بغیر سیکیورٹی پروٹوکول عوام میں جاتا ہے۔ لوگ سیر وتفریح کے لئے آتے ہیں اور جہاں ہزاروں عوام مارچ کرتے ہیں۔
آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟
بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟
ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو درانی@SalooDurrani بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش ہم نہ دیکھتے۔
ہمارے ساتھ حامد میر کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔
انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔
ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھا۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔
جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔
وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے فوجیوں سے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔
انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘
وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔
یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ اختر مینگل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔
سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔
تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔
عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔
عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔
مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اس کے بارے میں 2011 میں گفتگو۔ 👇
افغانستان جو چار دہائیوں سے جنگ میں ہے ان کی GDP گروتھ 4.3 پرسنٹ ہے جبکہ پاکستان 2.3 پرسنٹ پر گروتھ کررہا ہے،
شکریہ کس کا ادا کرنا ہے کسی جرنیل کا یا پھر کسی جج کا یا وزیر اعظم کا ؟
بنگالیوں کا مینڈیٹ چھینا تو سانحہ ہوگیا اور پشتونوں کا مینڈیٹ چھین کر اسٹیبلشمنٹ کیا کرنا چاہتی ہے؟
پاکستان کے ہر حصے میں موجود پشتون محب وطن شہری ہے انہیں اپنے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا بہت مہنگا پڑے گا۔
وزیراعلٰی سہیل آفریدی 🚨
4 اکتوبر کو ہمارا لانگ مارچ ہونے جا رہا ہے وہ پاکستان کی تاریخ کا بڑا لانگ مارچ ہوگا
کوئی بھی بندوق، کوئی بھی ڈنڈا، ہمیں اپنے مقصد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا سکتا
جو جو ایم پی ایز، ایم این ایز یا پارٹی قائدین 4 اکتوبر کو پاکستان میں موجود نہیں ہوں گے، ان کا پاکستان تحریکِ انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ وہ اپنے لیے کوئی دوسری پارٹی بنا لیں۔