19 گریڈ کا پروفیسر جس کی جوانی علم کی روشنی پھیلتے ہوئے گزری اور اسکی موت بھی علم کی روشنی پھیلاتے ہوئے ہوئی۔۔۔وہ کباڑ سے خریدی 70 موٹر سائیکل پر ڈمپر کے نیچے آجاتا ہے جبکہ چار انگریزی کے لفظ پاس کرکے 17 گریڈ کا "بابو" سرکاری افسر دو کروڑ کی لینڈ کروزر میں چھ پولیس کمانڈوز کی حفاظت میں پیاز ٹماٹر کی ریڑھیاں الٹی کرتا ہے۔
19 گریڈ کا پروفیسر استاد چھ لاکھ کی پرانی مہران نہیں خرید سکتا، 14 گریڈ کا ایس ایچ او اسلام اباد ڈی ایچ اے اور کراچی کے بحریہ ٹاؤن میں دس کروڑ کا بنگلہ خرید لیتا ہے۔
بارہ گریڈ کا پچاس ہزار روپے تنخواہ لینے والے پٹواری کا بینک بیلنس تیس تیس کروڑ روپے ہوتا ہے اور وہ سو سو ایکڑ زرعی زمینوں کا مالک بن جاتا ہے جبکہ 19 گریڈ کا پروفیسر پوری زندگی کرائے کے مکان میں گزار دیتا ہے، ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر کے پاس بیٹی کی شادی کے لئے پیسے نہیں ہوتے جبکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ کانسٹیبل بیٹی یا بیٹے کی شادی میں پچاس لاکھ روپے اڑا دیتا ہے۔
ثابت ہوا پیسہ تعلیم میں نہیں ناجائز پاور اختیارات میں ہے۔تلخ حقیقت
یہ ہے پاکستانی اشرافیہ کا سفاک چہرہ۔۔۔ان کے سکول، ہسپتال، بنک اکاؤنٹس،جائیدادیں سب سوئٹزرلینڈ/یورپ میں ہیں، یہ صرف اقتدار کیلئے پاکستان میں ہوتے ہیں، گلگت بلتستان میں ترقی کے انقلاب کی نوید سنا کر،صحت کی معیاری سہولیات ہر گھر تک پہنچانے کے وعدے،سبز باغ دکھا کر جناب نواز شریف صاحب روٹین کی صحت معائنہ کیلئے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگئے۔۔۔۔یاد رہے کہ یہ روٹین معائنہ بھی پاکستان میں کرنے کا اپنی شان کیخلاف سمجھتے ہیں باقاعدہ علاج معالجہ کا تو پاکستان سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا؟؟؟
اشرافیہ کے نام پر مافیا ہی پاکستان کے مسائل کا اصل ذمہ دار ہے۔
امیر مقام کمپین کر رہا ہے آصفہ زرداری بلاول زرداری سب کمپین کے لیے آ رہے ہیں لیکن تحریک انصاف کو اجازت نہیں ہے تو بہتر ہے ہمیں گولیاں ماری کر ختم کر دیں آپکو زرداری بلاول چور مبارک اور انکو آپ مبارک
خالد خورشید
رواداری، سیاسی پختگی اور بھائی چارہ
ایسا ہے میرا خیبر پختونخوا
پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو صدارت کی کرسی پر بٹھایا
وفاق کیساتھ جرگے کا اختیار مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عباداللہ کو سونپ دیا
وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی اور سپیکر بابر سلیم سواتی خود سائیڈ پر بیٹھ گئے
لیکن
افسوس گلگت بلتستان میں ہمیں ایسی رواداری دیکھنے کو نہ مل سکی
منتخب نمائندوں کو گرفتار کیا گیا صوبہ بدر کیا گیا اور پی ٹی آئی کے امیدواروں سے نشان لینے کے باوجود انہیں مہم چلانے نہیں دی جارہی
امریکی وزیرِ خارجہ بھارت پہنچے تو اہلیہ کے ساتھ یادگار تصویر کے لیے نظرِ انتخاب 'تاج محل' پر ٹھہری۔
دعویٰ تو ہزاروں سال کی قدیم مقامی تاریخ کا ہے، لیکن جب دنیا کے سامنے اپنی پہچان پیش کرنے کی باری آئی، تو سہارا اس عمارت کا لینا پڑا جو ایرانی تہذیب اور مسلم معماروں کے فن کا شاہکار ہے۔ نام بھی خالص فارسی: تاج محل۔
یہ عظیم الشان عمارت آج کے دم کٹے امریکیوں اور تاریخ کا رخ موڑنے والوں کا منہ چڑا رہی ہے کہ:
"تم دنیا کے جس کونے میں بھی چلے جاؤ، ہماری تہذیب اور ہمارا فنِ تعمیر پورے قد سے وہاں تمہارا استقبال کرے گا۔"
باقی امریکہ دنیا بھر میں اپنی سیاسی بالادستی دکھاتا پھرے، مگر جب تصویر بنوانے کے لیے “تہذیب” چاہیے ہوتی ہے تو کیمرہ آخرکار انہی آثار کے سامنے کھڑا ہوتا ہے جو مشرق نے تخلیق کیے تھے۔
یہی فرق ہے عارضی طاقت اور دائمی تہذیب میں۔ سلطنتیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں، مگر تہذیب اپنے فن، زبان اور آثار کے ذریعے صدیوں بعد بھی بولتی رہتی ہے۔
تاریخ ساز دن، تاریخ ساز لیڈر
میدان کھیل کا ہو یا سیاست کا - دونوں کا ناقابلِ شکست بادشاہ عمران خان
آج سے 34 سال قبل، 25 مارچ 1992 کو عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا۔
آج 34 سال بعد 25 مارچ 2026 اندرونی اور بیرونی طاقتوں سے لڑتا امت مسلمہ کا لیڈر اپنی قوم کی حقیقی آزادی کی خاطر ڈٹ کر کھڑا ہے۔
خان کی قیادت جو ہمیشہ بہادری، ایمانداری اور جیت کے عزم کے ساتھ میدان میں اتری ہے اور جیت اس کا مقدر ہے!
انشاء اللہ
#KaptaanAndHisTigers
#ShameOnJudges
This Day in History: 25 March, 1992
On this day, Pakistan lifted the Cricket World Cup for the first time at the Melbourne Cricket Ground under the captaincy of Imran Khan.
#SKMCH#ImranKhan#WorldCup#WorldCup1992 (1/4)
نالائقوں سے ہوشیار ‼️
ن لیگ اپنی نالائقی اور نا اہلی کے لیے AI سے بنائی گئی وڈیو کے ذریعے جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا جھوٹ اور پراپیگنڈہ ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر ایکسپوز ہو چکا ہے ۔۔!!
کیا آپ جانتے ہیں؟
ہر 8 میں سے 1 فرد موٹاپے کا شکا ر ہے۔ موٹاپا قلبی امراض ذیابیطس، کچھ اقسام کے کینسر، اور پٹھوں کی بیماریوں کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔
صحت مند غذا اور باقاعدہ ورزش آپ کی صحت کی حفاظت کر سکتی ہے۔
ڈنمارک میں رہنے والا یہ شخص خود کو سائیکالوجسٹ کہتا ہے لیکن یہ خود ایک سائیکو کیس ہے
فلٹر والی اس تصویر میں زہنی مریض کا نام شہزاد ہے اور تشہیر کے لیے یہ اپنے باپ کو بھی گالی دے دے گا یہ انتہا کا شوخا اوچھا اور خودنما شخص ہے
حالیہ دنوں پاکستان گیا تو صحافیوں کو خود فون کر کے کہتا تھا مجھے روٹی کھلاؤ وہ بھی اس ڈر سے بلا لیتے تھے چول بندہ ہے کہیں کوئی ٹویٹ ہی نہ کر دے
اس کی زہنی حالت یہ ہے جس جس صحافی نے اسے کھانا کھلایا اس سائیکالوجسٹ صاحب نے ہر اس بندے کیساتھ کھانا کھاتے ہوئی تصویر لی اور ٹویٹ کی کہ آج میری اس صحافی نے دعوت کی تھی اور میں نے انہیں اپنی حاضری کا شرف بخشا
اس نے عمر چیمہ ابصار عالم اور سلیم صافی سے ملاقات کی اور ساتھ میں تصویریں لگا کر بتایا کہ فلاں صحافی نے مجھے آلو قیمہ کھلایا ساتھ میں دو نان اور سائیڈ پر پیاز بھی تھے کھیر بعد میں آئی اس کی تصویر نہیں لے سکا
ایک صحافی کیساتھ ملاقات میں کسی وجہ سے کھانے کی تصویر نہ لے سکا تو لکھ دیا آج ان صاحب سے ملاقات ہوئی ہے کھانا بھی کھلایا تھے اور کھانے میں مٹن پلاؤ ایک سالن اور چھوٹے پیالے میں پاۓ بھی تھے
یہ تشہیر اور اپنی بھلے بھلے کروانے کے لیے ہر حد پار کرتا ہے لوگوں کی ماؤں بہنوں پر بکواس کرتا ہے لیکن کسی کو یہ نہیں بتاۓ گا کہ اس اپنی بیٹی بھی کسی کے ہاں جاب کرتی ہے اور وہ اس جاب پر کیسے گئی اگر یہ اپنے کنجر خانے سے باز نہ آیا تو اس پر تفصیل سے بات ہو گی
مجھے کسی نے کہا کہ اس پر ٹویٹ نہ کرنا یہ اتنے میں بھی خوش ہو گا کہ میری تشہیر تو ہو رہی ہے چاہے دنیا تھو تھو کر رہی ہے
جس شخص کے اچھے تعلقات ہوں اور اللہ نے عزت دی ہو اسے بڑے لوگوں کیساتھ تصویریں لگا کر تشہیر کی ضرورت نہیں ہوتی
پاکستان میں دو صحافیوں کو خود ترلا منت کر کے بلا کر کھانا کھلایا اور انہیں کہا میں ی ٹویٹ کروں گا کہ کھانا آپ نے کھلایا تھا
فٹے منہ تیرے سائیکالوجسٹ تے
گزشتہ روز PRA نے موبائل ٹیرف اور غیر مجاز کٹوتیوں کے حوالے سے وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ ہماس بات کو appreciate کرتے ہیں کہ کم از کم ادارہ نے ردعمل دیا ،یہ ایک مثبت قدم ہے۔
لیکن چند نہایت سنجیدہ سوالات ہیں جن کا جواب ضروری ہے۔
موبائل نیٹ ورکس کمپنیوں کے خلاف ہماری مہم تقریبادس دن چل رہی ہے اور ہم بار بار پی ٹی اے کو متوجہ کررہے تھے یقینا آج کا اسٹیٹمنٹ اچانک جاری نہیں ہوا ہوگا۔
ظاہر ہے اس سے پہلے مختلف موبائل کمپنیوں جیز، زونگ، ٹیلی نار، یو فون وغیرہ کے ساتھ میٹنگز اور مشاورت ہوئی ہوگی۔ انہی بات چیت کے بعد یہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہوگا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ
آج اسی دن جب یہ اسٹیٹمنٹ جاری ہو رہا ہے، مجھے اب بھی درجنوں میسیجز موصول ہو رہے ہیں کہ لوگوں کے نمبرز پر نئی سروسز ایکٹیو ہوئیں اور کٹوتی ہوئی۔
اگر جس دن ریگولیٹر بیان جاری کر رہا ہے، اسی دن نیٹ ورکس اس کی روح پر عمل نہیں کر رہے تو آگے کیا ہوگا؟
کیا یہ ریگولیٹری رِٹ کی کمزوری نہیں؟
ہم ایک دس دن سے یہ مہم چلا رہے ہیں اور پورے پاکستان سے سینکڑوں اسکرین شاٹس موصول ہو چکے ہیں۔
روزانہ 5، 10، 25، 50 روپے کی کٹوتیاں — بغیر واضح اجازت کے۔
اب یہاں پہ PTA سے سوالات یہ ہیں:
• پچھلے ایک سال میں کتنی ویلیو ایڈڈ سروسز بغیر رضامندی کے ایکٹیویٹ ہوئیں؟
• کیا ان کا فرانزک آڈٹ ہوگا؟
• کیا صارفین کو خودکار ریفنڈ دیا جائے گا؟
• کیا ذمہ دار کمپنیوں پر جرمانہ ہوگا یا صرف ہدایات جاری ہوں گی؟
• تھرڈ پارٹی وی اے ایس نیٹ ورک کو بند کرنے کے لیے کیا عملی میکانزم ہے؟
• کیا کوئی ڈیڈ لائن دی گئی ہے یا سب کچھ “ہدایت جاری کر دی گئی” تک محدود رہے گا؟
آپ ریگولیٹری اتھارٹی ہیں۔
آپ کا قیام ہی صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہوا ہے۔
اگر صارفین رل رہے ہوں، ان کی جیب سے روزانہ کٹوتیاں ہو رہی ہوں اور وہ بے بس ہوں — تو پھر ریگولیٹری نظام کہاں کھڑا ہے؟
ہم شفافیت چاہتے ہیں۔
ہم سخت اور قابلِ نفاذ اقدامات چاہتے ہیں۔
ہم ماضی کی کٹوتیوں کا حساب چاہتے ہیں۔
لولی لنگڑی وضاحتوں اور لالی پاپ بیانات سے کام نہیں چلے گا۔
عملی اقدامات، انکوائری، آڈٹ، جرمانے اور ریفنڈ یہی اعتماد بحال کریں گے۔
یہ مہم جاری رہے گی ان شاءاللہ
عمار خان یاسر
تمام دوستوں کا شکریہ جنہوں نے اس کمپئین میں حصہ لیا نتیجہ آپ کے سامنے ہیں
پی ٹی اے آفیشل آپ ہمیں یہ جواب دیں اب تک جو ہر ماہ کے حساب سے یہ مہینے کا پیکج 100 روپے 200روپے مہنگا کرتے رہے ہیں
انکی اجازت آپ نے انکو دی تھی کیا ؟