جعلی ڈگری والے وکیلوں کی بار کونسلز ہر سال دو ڈھائی ارب کی سرکار سے گرانٹ لیتے جو ٹیکس دینے والی عوام کا پیسہ ہے اور پھر منہ پکا کر کے کہتے بار کے معاملات سے عام لوگ دور رہیں
سب وکیلوں کی ڈگریاں چیک ہونی چاہیں ہر پاکستانی یہ مطالبہ ہر طرف پھیلا دے
ڈئیر jazz
آپ کا، آپ کے مالکوں کا، آپ کے پیکجز کا
آپ کے بے غیرتی کی حد تک ڈھٹائی سے قیمتیں بڑھانے کا۔
آپ کی واہیات ٹوٹی بھجی سروس کا۔
اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نامی واچ ڈاگ کا
شدید در فٹے منہ ۔
وزیر اعلی پنجاب جاہلوں کے مشوروں پر عمل کر رہی ہیں: احسن بھون
اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو آپ جیسے نیوٹن حضرات کی خدمات حاصل ہیں جو فیس لے کر بھی عدالت نہیں جاتے۔
بھون صاحب
کوئی چپڑاسی، چوکیدار ڈرائیور جج بننے سے رہ تو نہیں گیا؟
عام آدمی کیلئیے حکومت نے جگر کی مفت پیوندکاری شروع کی تو سپریم کورٹ نے روک دیا۔
عام آدمی کیلئیے حکومت نے اورنج ٹرین شروع کی تو سپریم کورٹ نے بائیس ماہ تک سٹے آرڈر جاری کئیے رکھا۔
عام آدمی کی ملکیتی زمین پر حکومت نے قبضے ختم کروانے شروع کئیے تو ہائی کورٹ نے پابندی لگا دی۔
دو دو لاکھ مقدمات کے انبار سامنے ہوتے ہیں، اسکے باوجود انکو دو دو گاڑیاں، چار چار سکیورٹی گارڈ، ڈرائیور، پی اے، خانںسامے مفت پٹرول، مفت بجلی، مفت ٹیلی فون، مفت ائیر ٹکٹس، سال میں تین مہینے چھٹیاں، اٹھارہ اٹھارہ لاکھ روپے تنخواہ اور پھر تنخواہ کے برابر پینشن اور تمام سہولیات برقرار۔۔
اس سب کے باوجود کسی ایک سادہ سے سِول مقدمے کا فیصلہ کرنے کیلئیے انکو پندرہ سے بیس سال درکار ہوتے ہیں۔
نِکے نِکے ٹیڈی بئیر سائیز می لارڈز کا دماغ خراب ہونا تو بنتا ہے۔۔۔!
پاکستان کی عدلیہ انصاف کی لاش سرانڈ زدہ تعفن چھوڑ رہی ہے۔ کہاں گئے عشق عمران میں خط لکھنے والے جج؟
بچیوں کو کچلنے والے جج کے لیے سب خاموش ہیں۔
اس غلاظت کو دفن کرنا ہو گا۔ ججوں سے اختیار چھیننا کافی نہیں نشان عبرت بھی بنائیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ رجب بٹ کا برطانوی ویزہ جھوٹ کی وجہ سے کینسل ہوا، اسی لیے وہ واپس آیا، مگر سوال یہ ہے کہ بغیر ہیلمٹ اور لائسنس کے سکول جانے والے بچوں پر ایف آئی آر کاٹ کر ہتھکڑی لگائی جا سکتی ہے تو بغیر لائسنس والی گاڑی پر عدالت آنے پر قانون خاموش کیوں ہے؟
پاکستان الیٹ اور طاقتور وں کی جنت ہے رجب بٹ کی گاڑی بغیر پروسیجر فالو کیے بغیر ضمانت لیے ہائی کورٹ میں داخل ہو رہی کیس کے باوجود پہلے اسے خصوصی اجازت سے بیرون ملک فرار کروایا گیا
چند دن پہلے ایک جج کے کم عمر بیٹے نے دو لڑکیاں کچل دیں
باقی عام لوگوں کے سکول جاتے بچوں کو ہتھکڑیاں لگا کر قانون پر عمل ہو گا کی بھڑکیں ماری جاتی ہیں غریب تو پہلے جکڑا ہوا قانون طاقتور سے شروع ہوتا تب معاشرے میں قانون کی حکمرانی ممکن ہوتی ہے
دو بچیوں کے قاتل اور وہ بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کا بیٹا ہو اور فیملیوں پر دباؤ ڈال کر معاف کروا لیا یہ گناہ وزیر اعظم وزیر داخلہ وزیر
قانون کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ آئینی کورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کے منہ پر بھی طمانچہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عدلیہ کی رہی سہی عزت ایک بار پھر خاک میں مل چکی ہے یہ عدالتوں میں ججز نہیں دو معصوم بچیوں کے قاتل بیٹھے ہیں
ملک ریاض۔۔سالا ٹوپی باز
ریاض ٹھیکدار صرف ٹوپی گھمانا جانتا تھا۔
نا میڈیا چینل چلا سکا۔نا کبھی انڈسٹری لگا سکا
نا کوئی IT اور ٹیک میں سرمایہ کاری کر کے وہ بزنس شروع کر سکا۔
نا زراعت میں سرمایہ کاری کر سکا۔نا ائیرلائن،پٹرولیم،گیس،قدرتی زخائر کی تلاش میں سرمایہ کاری کر کے ملک کے کام آ سکا۔
ٹوپی باز تھا۔۔ٹوپیاں گھماتا تھا
اور لوگ اسے بڑی طرم خان چیز سمجھتے رہے۔
(اسد آر چوہدری)
چار روز قبل پاکستان سے برمنگھم پہنچنے والی 67 سالہ خاتون زاہدہ پروین کے سوٹ کیس سے 25 کلوگرام ہیروئن برآمد ہونے پر اسے گرفتار کر لیا گیا- زاہدہ پروین مانچسٹر کے علاقے اوپن شا کی رہائشی ہے-
اسی کیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے برمنگھم ائیرپورٹ پر تعینات 39 سالہ بارڈر افسر "سید شاہ" کو بڑی مقدار میں اے کلاس ہیروئن برطانیہ میں امپورٹ کروانے کے الزام میں ائیرپورٹ سے ہی گرفتار کر لیا گیا- بعد ازاں برمنگھم کے علاقے سالٹلے سے ایک اور تیسرے شخص 52 سالہ "شاہد بٹ" کو بھی اسی کیس میں گرفتار کیا گیا-
میرا ایک سادہ سا سوال ہے کہ پاکستان کے ائیرپورٹ سے زاہدہ پروین کا 25 کلوگرام ہیروئن والا سوٹ کیس کیسے کلیر ہو گیا؟
اس شفٹ میں موجود تمام متعلقہ اداروں کے افسران اور اہلکاروں کے خلاف انکوائری اور ذمہ داران کا تعین کر کے سزائیں دینا لازمی ہے-
@MohsinnaqviC42@PreventiveServc@ASFPakistan@Pak_Customs@anfpak
اور ناظرین پنجابیوں کا ہیش ٹیگ دوسرے نمبر پر تشریف لاچکا ہے اور آج تمام پنجابیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس ہیش ٹیگ کو پنجابی کی پگھ طرح اونچا کیجئے تاکہ آئندہ کوئی بھی پنجابیوں کی تضحیک کرنے سے پہلے سو بار سوچے
جاگ پنجابی جاگ
#پنجاب_نوں_عزت_مریم_دلائے_گی