ملک کے سب سے بڑے وکیل احسن بھون کا تعلیمی ریکارڈ چیک کریں خیر سے بی اے میں فیل تھے اور جولائی 1984میں سپلی میں کلئیر کیا جبکہ لا کالج میں 1981میں داخلہ لے کر 1983 میں پارٹ ون کر بھی لیا ابھی تو میٹرک چیک نہی ہوئی ہے
ڈگری مانگنے پر چیکیں ویسے نہی نکل رہیں
انڈین پنجاب میں رشوت لے کر یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل میں ایک ائرفوتس کے اہلکار کو داخل کیا جس نے ایک لڑکی ریپ کر دی اس کے بعد پنجابی مشتعل ہو چکے ہیں اور صورتحال بہت کشیدہ ہے یہ جالندھر کے مناظر ہیں
اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب شروع ہوتے ہی متعدد ممالک کے سفارتکاروں نے جب جنرل اسمبلی ہال سے واک آؤٹ کیا تو صاحب نے سٹیج سے ان سب کو Moral Cowards یعنی اخلاقی طور پر بزدل قرار دیا جس پر آئس لینڈ کی وزیر خارجہ نے جوابا کہا کہ ہم نے سنا کہ سٹیج سے ہمیں اخلاقی بزدل کہا گیا، میرے لیے بزدل وہ ہیں جو امن کے لیے بیٹھنے سے مزاکرات سے انکار کرتے ہیں، وہ لیڈر بزدل ہیں جو لوگوں کو اشد ضرورت ہونے کے باوجود ان تک انسانی امداد نہیں پہنچنے دیتے، اخلاقی بزدل وہ ہیں جو مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔۔۔
ریڑھی بان غریب خاتون کو جوتا مارنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد
آئی جی پنجاب عبدالکریم کے نوٹس پر یہ فرعون شخص عمران غفعور SHO تھانہ صدر کمالیہ گرفتار،مقدمہ درج
(اس مائنڈ سیٹ کے خنزیر کو نوکری سے ہر صورت نکال دینا چاہیے)
ایک سوال جو رپلائی میں بار بار پوچھا جاتا ہے کہ “ آپ ایران بارے سخت موقف کیوں رکھتے ہیں “ تو اس کا جواب نہایت سادہ ہے کہ جب ایران نے پاکستان پر میزائل حملے کئے تو اس وقت مورخ اپنی مادر وطن کے ساتھ کھڑا تھا اور جب ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو اس وقت ایران ہندوستان کے ساتھ کھڑا تھا اور جب امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اس وقت مورخ ایران کے ساتھ کھڑا تھا اور اس کے بعد ایران نے عرب ممالک پر جارحیت کی اور خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنایا تو عام عوام کو یہ سمجھ لگ گئی کہ امریکہ ایران لڑائی نورا فتیحی کشتی ہے اور آج ایران اپنی پراکسی حوثی دہشتگردوں ذریعے حرمین شریفین پر حملہ آور ہوا ہے اور پاکستان میں جواد نقوی جیسے لوگ حوثی باغیوں کے حملوں کا دفاع کررہے ہیں تو جب آپ سے پوچھا جائے کہ حرمین شریفین جیسی مقدس ترین دھرتی اور ایران میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے تو آپکا جواب حرمین شریفین ہوگا اور اگر آپ مجوسی ہیں تو پھر آپکا انتخاب ایران ہوگا
نہیں ھم میں کوئ اَن بَن نہیں ھے
بس اتنا ھے کہ اب وہ من نہیں ھے
میں اپنے آپ کو سلُجھا رھا ھوں
تمھیں لے کر کوئ الجھن نہیں ھے
میں اپنے دوستوں کے صدقے لیکن
مرا قاتل کوئ دشمن نہیں ھے
ایران: خلیجی مسلم ممالک کیلئے اسرائیل سے بڑا خطرہ
ایران امریکی مفادات کی تکمیل کر رہا؟ امریکہ ایران کو کبھی ختم نہیں ہونے دے گا؟
اس جنگ میں بیانات نہیں ایکشن اور رزلٹس پر نظر رکھیں
پاکستان کے اعلانیہ ایٹمی طاقت بننے کے فورا بعد پاکستان کے خاتمے کیلئے پہلے سے تیار کیے گئے جس منصوبے کا آغاز کیا گیا تھا اس کا پہلا قدم کرگل چڑھنا تھا،اگلا قدم بارہ اکتوبر کا مارشل لاء تھا،پھر نائن الیون کے نتیجے میں امریکہ کا اتحادی بننا تھا،پھر جنوری دو ہزار دو میں کشمیر واجپائی کو بخش دینا تھا،پھر پہلے دہشت گردی کو ایندھن فراہم کرنا اور اس کی سہولت کاری کرنا تھا اور اس کے بعد سوات سے لیکر بلوچستان تک مختلف ناموں سے شروع کیے گئے بہت سے آپریشنز کرنا تھا،اس کے بعد ایبٹ آباد آپریشن میں خفیہ سہولت کاری کرنا تھا،پھر پراجیکٹ عمران خان لانچ کرنا تھا جس کے نتیجے میں ملک نے پہلے ڈیفالٹ کرنا تھا،پھر ایٹمی طاقت سے محروم ہونا تھا،اس کے بعد فوج کی ڈاؤن سائزنگ ہونا تھی اور آخر میں ملک کے حصے بخرے کر دیے جانے تھے۔اندازہ تھا کہ آخری تین کام عمران کے مخالف سیاستدانوں کے ردعمل کے نتیجے کے طور پر وقوع پذیر ہوں گے مگر دو ہزار بائیس کی رجیم چینج کی وجہ سے ایک طرف آخری تین کاموں کے آگے بریک لگ گئی اور دوسری طرف عمران مخالف سیاستدان اقتدار میں آ کر نئی رجیم کے صفحے کے جھولوں سے لطف اندوز ہونے میں مشغول ہو گئے۔چنانچہ آخری تین کاموں کا سارا بوجھ اکلوتے عمران خان کے ناتواں کندھوں پر آ گیا جس کو منزل تک لیکر جانا اس کے بس سے باہر تھا۔
مگر اب دل تھام کر سنیے کہ اٹھانوے سے شروع ہونے والے درج بالا عمل کا اختتام قریب آ لگا ہے۔ایک صفحے پر خاصی اکھاڑ بچھاڑ کا امکان ہے۔نئی صف بندیاں ہوں گی۔دوست دشمن بنیں گے اور دشمن دوستوں کی صف میں آئیں گے۔پرویز مشرف کے اتحادی مولانا فضل الرحمان ہمیشہ کی طرح ہراول دستے کے طور پر گھوڑے کو ایڑھ لگا چکے ہیں،گڑھی خدا بخش سے رائیونڈ تک کھلبلی مچی صاف دکھائی دیتی ہے۔عمران خان کا مقتدرہ کی سائیڈ لینے کا جتنا امکان ہے اتنا ہی امکان سابقہ پی ڈی ایم کا عمران خان کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کا بھی ہے اور یہی نیا لندن پلین بھی ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف حافظ صاحب نے چار سال میں اپنی جڑیں اپنے ادارے کے اندر مضبوط کرنے اور بین الاقوامی ساکھ بنانے میں صرف کیے ہیں جبکہ سیاستدانوں نے عوام کا بھرکس نکال کر اپنی رہی سہی ساکھ بھی مٹی میں ملا لی ہے مگر انڈر ورلڈ اور خفیہ نیٹ ورکس بالخصوص برطانوی خفیہ اداروں اور ان سے جڑے مذہبی و سیاسی اثاثہ جات کی حمایت سیاستدانوں کو حاصل رہے گی۔گویا "جرمن بھی تگڑے ہیں اور میرا بچہ بھی ڈاڈا ہے" والی صورت سامنے آنے والی ہے۔گھمسان کے اس رن میں حافظ صاحب کو اگر طاقت کے ایوانوں سے بے دخل بھی ہونا پڑا تو ایوب خان کی جگہ کوئی یحییٰ خان ہی آئیگا مگر اس کا ڈنڈا حافظ صاحب کے ڈنڈے سے دس گنا بے رحم اور ستم کش ہو گا جبکہ وہ حافظ سے بڑہ کر مولوی بھی ہو گا۔المختصر برطانوی اثاثوں کا انجام قریب آ گیا ہے اور نیا لندن پلین برطانوی چیونٹیوں کو پر لگنے کا عمل ہے۔سب مل بیٹھ کر آپس میں اتفاق کر لیتے تو سب کیلئے بہتر تھا مگر انھوں نے ملکی مفاد پر ذاتی مفاد اور برطانوی آقاؤں کے منصوبوں کو ترجیح دی !!
ان پر کیسے افسوس کیا جائے۔۔۔۔۔!!!؟
(تحریر/خالد محمود عباسی)
جہاز کا معاملہ اتنی آسانی سے پنجاب حکومت کا پیچھا نہی چھوڑے گا ابھی پہلا اشو دبا نہی تھا کہ مریم کی تقریر نے دس سوال اور کھڑے کر دیے
شاہزیب خانزادہ نے بہت اہم سوالات اٹھا دیے ہیں
2022 سےعوام سے قربانیاں مانگی جا رہی ہیں، مگر اسی دوران حکمرانوں، بیوروکریٹس، ججز اور ارکانِ اسمبلی کی مراعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ایک طرف مہنگائی، ٹیکس اور بجلی و گیس کے بھاری بل، دوسری طرف شاہانہ سہولتیں۔کیا کفایت شعاری صرف عوام کے لیے ہے؟دیکھیے
ہم حرمین شریفین کی حرمت کیلئے اپنی آخری سانس تک لڑیں گے اور ہم سعودی عرب کے دفاع پر آنچ نہیں انے دیں گے اور ہم سعودی عرب جانب میلی آنکھ اٹھانے والے کے ڈیلے باہر نکال دیں گے
جنرل احمد شریف چوہدری
کہا تھا نہ حافظ ۔۔۔۔۔
انقلابِ ایران کے بعد اسرائیل مضبوط کیوں ہوا؟ یہ ہے وہ سچ جو کوئی نہیں بتاتا
ایک قابل غور منقول تحریر
آج کہا جاتا ہے کہ عرب بزدل ہیں انہوں نے کبھی اسرائیل سے جنگ نہیں کی، یہ تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ہے
1948 سے لے کر 1979 تک عرب دنیا اسرائیل کے خلاف سیسہ پلائی دیوار تھی
_1948 کی جنگ:_ مصر، اردن، شام، عراق، سعودی عرب، لبنان نے مل کر اسرائیل پر حملہ کیا
_1956 کی جنگ:_ مصر اکیلا اسرائیل، برطانیہ اور فرانس سے لڑا
_1967 کی جنگ:_ مصر، اردن، شام، عراق بمقابلہ اسرائیل
_1973 کی جنگ:_ مصر اور شام نے اسرائیل کو ناکوں چنے چبوا دیے، سعودی عرب نے تیل کا ہتھیار استعمال کر کے امریکہ کی کمر توڑ دی، الجزائر، مراکش، کویت، لیبیا، تیونس تک نے اپنے فوجی دستے بھیجے
اس وقت اسرائیل خوف میں تھا کہ عرب متحد ہیں
_پھر 1979 میں خمینی انقلاب آ گیا اور اسرائیل کی قسمت بدل گئی_
انقلاب کے بعد ایران نے اعلان کیا ہم اسرائیل کو مٹا دیں گے، القدس آزاد کرائیں گے، لیکن پریکٹیکل میں کیا کیا؟
ایران نے اسرائیل پر ایک گولی نہیں چلائی، بلکہ ان تمام عرب ممالک میں اپنی پراکسیز بنانی شروع کر دیں جنہوں نے اسرائیل سے جنگ کی تھی
1 - _جس لبنان نے 1948 میں اسرائیل سے جنگ کی تھی_ وہاں حزب اللہ بنا دی، آج لبنان کی فوج کمزور، حزب اللہ کی ریاست کے اندر ریاست، لبنان تباہ، اسرائیل محفوظ
2 - _جس شام نے 3 جنگیں اسرائیل سے لڑی تھیں_ وہاں زینبیون، فاطمیون، حزب اللہ بھر دی، شام میں 10 لاکھ سنی مسلمان قتل ہوئے، 50 لاکھ دربدر ہوئے، شامی فوج ختم، اسرائیل آج روزانہ شام پر بمباری کرتا ہے کوئی جواب نہیں
3 - _جس عراق نے 1948، 1967، 1973 میں اسرائیل سے جنگ کی تھی_ وہاں 2003 کے بعد بدر بریگیڈ، عصائب اہل الحق، کتائب حزب اللہ بنا دیں، عراق آج خانہ جنگی میں، اسرائیل محفوظ
4 - _یمن جو کبھی عرب اتحاد کا حصہ تھا_ وہاں حوثی کھڑے کر دیے، یمن تباہ، آج وہی حوثی سعودی عرب، پاکستان کے دوست ممالک پر میزائل مارتے ہیں، اسرائیل پر نہیں
5 - _خود سعودی عرب_ جس نے 1948 اور 1973 میں فوج اور تیل سے اسرائیل کے خلاف مدد کی تھی، آج اسی سعودیہ پر انہی پراکسیز سے حملے ہو رہے ہیں
یعنی فارمولا سمجھو
پہلے عرب اسرائیل سے لڑتے تھے
انقلاب ایران کے بعد عرب آپس میں لڑنے لگے
ایران نے ہر اس ملک میں آگ لگا دی جس نے کبھی اسرائیل سے جنگ کی تھی
نتیجہ کیا نکلا؟ عرب کمزور، ایران کے پراکسی گروپ مضبوط، اور اسرائیل سب سے زیادہ محفوظ
آج غزہ جل رہا ہے، 40 ہزار بچے شہید ہو چکے ہیں، لیکن ایران کی پراکسیز کا ایک میزائل بھی اسرائیل کو نقصان نہیں پہنچا رہا، سارے میزائل سعودی عرب، بحرین، کویت، پاکستان کے سمندروں کی طرف جا رہے ہیں
اور مزے کی بات، اسرائیل کبھی ان پراکسیز کو ختم نہیں کرتا، کیونکہ اسرائیل جانتا ہے یہی پراکسیز عرب دنیا کو کمزور رکھنے کا بہترین ہتھیار ہیں
یہی ایران کا مڈل ایسٹ میں رول ہے، اسرائیل کا محافظ
اسرائیل کو عرب فوجوں سے خطرہ تھا، ایران نے عرب فوج کو کمزور کر دیا
اب فیصلہ آپ کرو، 1979 سے پہلے اسرائیل غیر محفوظ تھا یا 1979 کے بعد؟
یہ ہے افغانیوں کا اصل چہرہ
پاکستان نے ان کو پانچ دہائیوں تک مفت میں پالا لیکن یہ اس پاکستانی پشتون ویلاگر کو پیسوں پر بھی کمرہ دینے سے انکاری ہیں۔
یہ وڈیو ان تک ضرور پہنچائیں جن کو مروڑ اٹھ رہے ہیں کہ غیر قانونی افغان سٹوڈنٹس کو کیوں نکالا
عاصم منیر۔۔۔جس کو فیلڈ مارشل کہا جاتا ہے۔یہ بھی ہمارا
مقابلہ نہیں کر سکتا۔
ہم تو مشرف اور ضیاءالحق سے بھی نہیں ڈرے۔
( نثار کھوڑو صدر پیپلز پارٹی سندھ)
سندھ اور پاکستان کا استحصال کرنے والی کرپٹ ترین پیپلز پارٹی کی دم پر پاوں آیا ہوا ہے۔کیونکہ ان کی کرپشن اور استحصال کو نئے صوبے بننے سے سخت نقصان ہو گا
یہ ہمیشہ کے لیے وفاق میں اقتدار کھو سکتے ہیں
لہذا۔۔زرداری کی آشیرآباد پر
نثار کھوڑو جیسے کئی باری باری اور لگاتار چاوں چاوں کر رہے ہیں۔
"کرارا جواب ملے گا انہیں"
بس۔۔خلیج کی صورتحال تھوڑی سنبھل جائے۔
(اسد آر چوہدری
ایران نے پہلے سے منصوبہ بندی کی تھی جس کا آج ہم مشاہدہ کر رہے ہیں یہ رویہ کوئی اتفاقی نہیں ایران کا پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے پراکسیوں کی حمایت پر مبنی تاریخی ریکارڈ ہے ۔ سعودی وزیر خارجہ
شام سے لبنان تک پاراچنار سے لیکر عراق “ یمن تک پراکسی فتنہ دنیا نے دیکھ رکھا ہے
@chsandhilaa سندھیلہ صاحب وہ تو ٹھہرے یوتھیے جو عقل اور شعور سے عاری لوگ ہیں مگر کیا آپ کا دماغ بھی کام کرنا چھوڑ گیا ہے جو حکومتی ہر بیغیرتی کو بھی ڈیفینڈ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اگر اس گرانی پر کوئی خاص بات یا حکمت عملی ہے تو ہمیں بھی سمجھا دیں
جس عمر میں والدین اپنے بچوں کی شادی کیلئے فکرمند ہوتے ہیں عین اس عمر میں عمران خان خاور مانیکا کی بڈھی دوڑا لایا اور پھر مکافات عمل کا پہیہ گھوما اور کیمرون عمران خان کی بڈھی دوڑا لایا اور قاسم سلیمان کے مقدر چیک کریں کہ پاکستان میں نئی امی اور برطانیہ میں نئے ابو دستیاب ہوتے ہیں
میاں جاوید لطیف مسلم لیگ ن کے اجلاس میں آج بولے اور کنڈا کھولے!
جب جماعت مشکل میں ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ ہن چپ رہو کیونکہ جماعت مشکل میں ہے۔
جب جماعت اقتدار میں ہو تو کہا جاتا ہے کہ ہن وی چپ رہو، او ناراض نا ہو جان۔
یہ بتایا جائے کہ پھر جماعت میں بات کب کرنی ہے؟