@EndGameWW3@TheCoeLaroosh 😂😂😂😂😂 welcome to India pak war .. that’s what exactly happening in war .. nobody knows
What going on .. and everybody is angry 😂😂😂
ہم اپنے بھائی ابوبکر قاسم کو دوبارہ شخصیت پرست گروہ کی منجی کامیابی سے ٹھوکنے پر سلام پیش کرتے ہیں!
شخصیت پرست بولیں گے کہ یہ ویڈیو فیک ہے لیکن ہر سچا پاکستانی جانتا ہے کہ یہ ویڈیو ہمارے جمیعت علما اسلام کے شیر @K4anSh3r نے خود اپنے 8 لاکھ کے DSLR کیمرے سے بنائی ہے
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اسٹیبلشمنٹ اور فوجی جرنیل ہیں لیکن اس سے بڑا مسئلہ اپنے اپنے دورِ اقتدار میں اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کرنے والے سیاستدان ہیں۔ پی ٹی آئی کے ہی دور کی مثال لے لیجیے۔۔۔
جنرل باجوہ کو ابو آپ نے کہا۔ بدترین جرنیل کو ایکسٹنشن آپ نے دی۔ تیسری بار ایکسٹنشن دینے پر آپ تیار تھے۔ ملٹری کورٹس کو آپ نے سپورٹ کیا۔ آج آپ کو فوج کے کاروبار پر اعتراض ہے لیکن جب احمد نورانی نے جنرل عاصم باجوہ کا پاپا جونز کا دھندہ بے نقاب کیا تو آپ ہی نے جنرل عاصم کو کلین چٹ دی۔ جرنیلوں کے کہنے پر ایک سیاستدان پر ہیروئین کا جعلی کیس آپ نے بنایا۔ اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر ساہیوال میں بچوں کے سامنے ماں باپ کو مارنے کا کیس آپ گول کر گئے۔۔۔
خدا نے جب آپ کو اقتدار دیا تو آپ نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے کہیں زیادہ بوٹ پالش کی اور جب اسٹبلشمنٹ نے آپ کو اقتدار سے نکالا تو بھی آپ نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے کہیں زیادہ رونا دھونا کیا۔ ن لیگ جب “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگاتی تھی میں تب بھی کہتا تھا کہ ن لیگ کو جمہوریت سمجھنے والے غلطی کر رہے ہیں، اور اب جب پی ٹی آئی حقیقی آزادی کی بات کر رہی ہے میں آج بھی اسے محض ایک نعرہ ہی سمجھتا ہوں۔ آج ن لیگ فوج کی گود میں بیٹھی ہے کل پی ٹی آئی پھر برخورداری کرے گی۔ لڑائی نظریے کی نہیں اقتدار کی ہے۔
مستقبل کے پانچ ارب صحافی
تحریر/رئوف کلاسرا
برسوں پہلے میرا خیال تھا کہ سوشل میڈیا آنے کی وجہ سے عام انسان انفارمیشن کے ذریعے خود کو اتنا طاقتور کر لے گا کہ اسے بیوقوف بنانا آسان نہیں رہے گا۔ وہ ذہنی اور سماجی طور پر grow کرے گا اور ہم ایک بہتر دنیا میں رہیں گے جہاں عقل سمجھ کی حکومت ہوگی۔دانائی کا راج ہوگا۔
میں روایتی طور پر انفارمیشن کو ایک طاقت ہی سمجھتا آیا ہوں۔ میں خود صحافی ہوں لہٰذا خبر اور انفارمیشن کی طاقت سے بخوبی آگاہ ہوں۔ عمر بھر کوشش کی کہ دانستہ طور پر ایسی انفارمیشن یا خبر نہ شیئر کی جائے جس سے انسانی جانوں کا ضیاع ہو۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ بڑی بڑی خبریں ہاتھ لگیں لیکن کوئی دستاویزی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ڈراپ کرنا پڑا۔ بعض لوگوں کو یقین تھا کہ وہ سچی خبریں ہیں لیکن پھر بھی انہیں بریک نہ کیا کہ اگر کل کو اسے چیلنج کر دیا گیا تو کیا یہ جواب دوں گا کہ فلاں صاحب نے بتائی تھی۔ وہ فلاں صاحب کہیں گے مجھے تو فلاں نے بتائی تھی اور وہ فلاں صاحب کہیں گے کہ مجھے فلاں نے بتائی تھی۔
مگر سوشل میڈیا ایسی جناتی طاقت بن کر اُبھرا ہے جس نے عام انسان کی آواز کو طاقت تو دی ہے‘ وہیں اس نے جھوٹ، فیک نیوز اور پروپیگنڈا کو بھی اگلے لیول تک پہنچا دیا ہے۔ مزے کی بات ہے عام انسان ایک دوسرے کو ہی گھڑی گھڑائی، جعلی خبروں، فوٹو شاپ، جھوٹ سے بیوقوف بنا رہے ہیں ۔ ایک دوسرے کو ہی جعلی خبروں کا چونا لگاتے یا ماموں بناتے دیکھ کر ان دو فاقہ کش لوگوں والا محاورہ یاد آتا ہے جنہیں ایک دوسرے ساتھ غیراخلاقی عمل بعد غش پڑ گئی تھی۔
ایسی ایسی احمقانہ باتوں اور پوسٹس کے ہزاروں لائکس اور شئیرز ہورہے ہیں کہ بندہ حیران ہو جاتا ہے ہمارا آئی کیو لیول یا کامن سینس کتنا ہے۔
چند ذہین اور چالاک لوگ ان سادہ لوح لوگوں کی سادگی یا لاعلمی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں اگر آج کے دور میں بھی ہمیں بیوقوف بنانا آسان ہے تو کچھ صدیاں پہلے اس خطے کی کیا حالت ہوگی اور کیسے کیسے لطیفے ہوتے ہوں گے۔
دوسری طرف ٹوئٹر کے مالک ایلن مسک فرماتے ہیں روایتی میڈیا ختم ہوچکا اب ہر بندہ جو سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے وہ خود میڈیا ہے۔ وہ خود رپورٹر، خود صحافی، اینکر اور خود نیوز میکر اور بریکر ہے۔ بتایا جاتا ہے تقریبا پانچ ارب لوگ سوشل میڈیا استمعال کرتے ہیں۔
اب زرا تصور کریں جب آپ اس معاشرے میں پانچ ارب صحافی، نیوز میکرز اور بریکرز پیدا کررہے ہیں وہاں کیسا معاشرہ جنم لے گا۔ کس کس قسم کے جھوٹ نہیں پھیلیں گے تاکہ لوگ میرے فالورز بنیں، میرے فیس بک پیج کو لائک کریں، شئیرز کریں، ری ٹوئیٹ کریں، ویوز دیں تاکہ ڈالرز کمائوں تو وہاں کیا کیا دنگل اور فسادات ہوں گے، لوگ مریں گے یا معاشرے تباہ ہوں گے۔
لندن کے حالیہ فسادات کے پیچھے بھی ایک ایسا ایلن مسک کا فیورٹ مستقبل کا عظیم صحافی اور نیوزمیکر تھا جس نے لاہور سے بیٹھ کر ایک فیک نیوز چلائی اور لندن میں اس کی وجہ سے مظاہرے شروع ہوئے اور پندرہ سو لوگ اس فیک نیوز کی وجہ سے جیل میں ہیں اور چھ ماہ سے لے کر تین سال تک کی سزائوں کا سامنا ہے۔
یہ ہے آپ کا لاہور سے فیوچر کا سوشل میڈیا سے تربیت یافتہ صحافی جو بقول ایلن مسک اب دنیا کو صحافتی فرنٹ پر لیڈ کرے گا اور روایتی میڈیا کو شکست دے گا۔
اگر لندن کے فیک نیوز سے فسادات بھول گئے ہیں ہے تو ہم سب کل پرسوں سے وہ 278 لاشیں سوشل میڈیا پر ڈھونڈ رہے ہیں جو بقول لطیف کھوسہ صاحب بلیو ایریا میں پڑی تھی اور مل نہیں رہیں۔ آسمان نگل گیا یا زمین کھا گئی۔ الٹا سب بضد ہیں تین سو لاشیں ملیں یا نہ ملیں لیکن پاپولر رہنا ہے تو آپ نے ماننا ہے اسلام آباد جیسے شہر میں تین سو بندہ مارا گیا اور ایک گھنٹے بعد اسلام آباد میں لائف نارمل بھی ہوچکی تھی۔ ابھی ایلن مسک کے مستقبل کے ان عظیم اربوں صحافیوں/اینکرز/سوشل میڈیا انفولنسرز نے ٹوئٹر/سوشل میڈیا پر کئی چن چڑھانے ہیں۔ شروعات ہمارے ہاں سے ہوچکی ہے ۔
#RaufKlasra
@CTVToronto I was buying cargo van for my work about a month ago the guy has 2 vans and both rolled back 170,000 kms.
I check the carfax and person get offended and said “carfax can be wrong “
lol ..
فوج میرے ساتھ ہے ، جو کرنا ہے کرلو
ملک کے تباہی پھیر دوں پر فوج میرے ساتھ ہے : اینکر
جواب مین خان صاحب فوج کی تعریفین اور قصیدے پڑھتے ہوئے : #خان_دور#SummedUp
آج خان جمہوری بننے کی کوششوں مین !!
@RepJasmine@bilal4haider@StateDept Well your gov kicked out Imran khan . As he mentioned many times in his speeches . So why don’t you ask your leadership for stop interfering in Pakistan ? @bilal4haider bro isn’t that true ?
@Ilhan@bilal4haider Well your gov kicked out Imran khan . As he mentioned many times in his speeches . So why don’t you ask your leadership for stop interfering in Pakistan ? @bilal4haider bro isn’t that true ?
اسلام آباد ہائیکورٹ کی نئی بلڈنگ میں چیف جسٹس کا کمرہ 7600 سکوائر فٹ ہے جسے ٹھنڈا کرنے کے لیے 40 ٹن ایرکنڈیشنر چاہیے جس پر بجلی کا خرچ 2 لاکھ روپے فی گھنٹہ ہو تو ایک دن کے آٹھ گھنٹوں میں 16 لاکھ کی بجلی صرف چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے کمرہ کے لیے خرچ ہو گی۔