فرح گوگی سے مشال یوسفزئی تک
گالیاں نکالنے والے نکالتے ہیں تو نکالتے رہیں ہمارا فرض ہے جو سچ ہے وہ منہ پر اگلنا
فرح گوگی نے ان اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جو اسکے تھے ہی نہیں۔ اسکے پیچھے بشری بی بی کی سپورٹ موجود تھی۔
بشری بی بی اگر “ ارسلان بیٹے” کو فون پر تحریک انصاف کی سوشل میڈیا سٹریٹجی سمجھا رہی تھیں اور “ارسلان بیٹا” جی جی کررہا تھا تو وہ بھی غلط تھا۔
عمران خان سے بالا توشہ خانہ سے تحفے بشری بی بی نے منگوائے۔ منگوانے کے بعد عمران خان کو علم ہوا۔ اسکے بعد بشری بی بی نے ہی عمران خان کو قائل کیا کہ یہ ہمارا حق ہے۔
توشہ خانہ کے کچھ زیورات بشری بی بی نے اپنی بیٹی کی شادی کیلئے لیے۔ جس بیٹی کا وزیراعظم پاکستان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اب مشال یوسفزئی کو اتنی اہمیت صرف اسی لیے حاصل ہے کہ وہ بشری بی بی کے قریب ہے۔
نوٹ ؛ معذرت کہ نوٹ زرا لمبا ہے کیونکہ نوٹ کے بغیر اعتراضات زیادہ لمبے ہوجاتے۔ ادارہ ہذا کوئی باریک واردات نہیں ڈال رہا۔ ادارہ ہذا کو بشری بی بی سے کوئی تکلیف نہیں۔ ادارہ ہذا بشری بی بی کی قربانیوں کی دل کھول کر قدر کرتا ہے تعریف کرتا ہے۔ ادارہ ہذا سمجھتا ہے کہ عمران خان سے کچھ فیصلے بشری بی بی نے کروائے۔ جن میں سے ایک توشہ خانہ سے تحائف لینے کا فیصلہ ہے۔ قانون جو بھی کہتا ہو نرمی جیسی بھی ہو۔ عمران خان جیسے آدمی کو توشہ خانہ سے تحائف اگر سو فیصد قیمت پر بھی مل رہے ہوتے تو نہیں لینے چاہییں تھے یہ کہ کر رد کردیتا کہ شاید یہ سو فیصد قیمت بھی کہیں میرے عہدے کی وجہ سے میرے لیے کم نہ لگائی گئی ہو۔
ادارہ ہذا سمجھتا ہے کہ بشری بی بی کو سیاسی معاملات ، پارٹی معاملات ، سوشل میڈیا سٹریٹجی سے دور رہنا چاہیے۔ ارسلان خالد تحریک انصاف کے بہترین لوگوں میں سے ایک ہے۔ اگر ایک واجبی سی تعلیم والی جسے سوشل میڈیا ڈائنامکس کا کچھ علم نہیں صرف عمران خان کی اہلیہ ہونے کے ناتے اگر وہ ڈاکٹر ارسلان خالد کو ہدایات جاری کررہی تھی تو وہ کسی بھی طور درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ادارہ ہذا سمجھتا ہے کہ اگر تحریک انصاف نے جمہوریت کا علم اٹھایا ہے اور ہمارے ملک کے اسی فیصد لوگ تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمارے مزاج رویے اور سوچ میں بھی تبدیلی آنی چاہیے۔ غلط کو غلط کہنا آسان ہو تو سبھی کہنا شروع کردیں۔ خود احتسابی اصول پسندی آسان نہیں مشکل ہیں۔ ادارہ ہذا کے اصول بہت واضح ہیں۔
عمران خان کی اہلیہ کی قربت کے ناطے اگر ایک لڑکی کو اہمیت مل رہی ہے اسے پذیرائی مل رہی ہے اور آدھی پارٹی اسکے سامنے بچھی چلی جارہی ہے تو وہ غلط ہے۔ اگر وہ لڑکی سیاسی جدوجہد سے اوپر آتی ہے تو ہمارے سر آنکھوں پر۔
نوٹ در نوٹ ؛ ادارہ ہذا عثمان بزدار کی وزارت اعلی نامزدگی اور باجوہ کی ایکسٹینشن پر اس وقت شور مچا چکا ہے جب کچھ لوگ عثمان بزدار کی گونگی چپ کو بھی کسی ولی کی خاموشی سے تشبہہ دیتے تھے اور باجوہ صاحب اور عمران خان صاحب ایک صفحے پر لکھے جاتے تھے۔ یعنی ادارہ ہذا کے اصول رجیم چینج کے بعد سے بھی طے نہیں ہوئے۔
اگر نوٹ اور نوٹ در نوٹ کے باوجود آپ دلیل یا جواز سے کسی چیز کو رد کرسکتے ہیں تو بسم اللہ ادارہ ہذا یا قائل کرلے گا یا ہوجائے گا۔
مجھے پر بھی شدید تشدد کر کہ ایک ہی ڈیمانڈ تھی کہ 164 کا بیان خان کے خلاف دینا ہے-
اتنا یقین تھا کہ میں بیان دے دوں گا-طلعت حسین اور جیو جنگ گروپ کو گڑ کر خبر پہلے ہی دے دی گئی۔انہوں نے بھی مین ہیڈ لائین چھاپ دی کہ گل نے خان کے خلاف بیان دے دیا۔
اللہ کا شکر گِل بے وفا نہیں ہوتے!