عمران خان کے خلاف تقریباً 300 مقدمات درج ہیں، جو ملک کی مختلف عدالتوں میں استغاثے کے مختلف مراحل میں زیرِ سماعت ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کا سامنا کرنے والے ایک شخص کو اپنے وکلا سے مشاورت کی اجازت نہیں دی جاتی، جبکہ قانون کے مطابق اسے کم از کم ہفتے میں ایک مرتبہ اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت حاصل ہے۔
دسمبر 2025 کے بعد اس پورے عرصے میں صرف ایک وکیل، جناب سلمان صفدر، کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے فروری 2026 میں بطور دوستِ عدالت عمران خان کے پاس بھیجا۔یہ اجازت جیل حکام یا ریاست کی جانب سے نہیں دی گئی تھی، بلکہ یہ سپریم کورٹ کا حکم تھا۔
اس وقت عمران خان کی نمائندگی مختلف مقدمات میں وکلا کی ایک ٹیم کر رہی ہے، ان تمام مقدمات میں شامل دیگر وکلا، جن میں میں خود بھی شامل ہوں، یہاں موجود جناب کھوسہ اور جناب انتظار پنجوتھہ صاحب بھی شامل ہیں، ان میں سے کسی کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
لہٰذا وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کی گئی یہ رپورٹ جھوٹی ہے یہ کہنا کہ عمران خان کو قانون کے مطابق اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور وکلا سے رابطے کی اجازت دی گئی، حقائق کے منافی مکمل من گھڑت بیان ہے۔
جیل حکام کی جانب سے ملاقات کی اجازت نہ دینے کے خلاف دائر کی گئی توہینِ عدالت کی درخواستیں صرف فائلوں میں پڑی رہ گئیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے احکامات تو جاری کیے، لیکن ان احکامات پر عمل درآمد کرانے کے لیے بعد میں کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔
جہاں تک عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ ہے، حکومتی رپورٹ میں یہ کہنا کہ ان کی 198 ملاقاتیں ہوئیں جن میں 900 سے زیادہ افراد شامل تھے، مکمل طور پر بے معنی اور غلط بات ہے۔
عمران خان 16 اکتوبر 2025 سے لے کر 18 اگست 2026 تک عملاً تنہائی کی قید میں رہے۔اسے عمران خان تک آزادانہ رسائی کیسے کہا جا سکتا ہے؟ ریاستِ پاکستان نے جان بوجھ کر عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہے۔
سلمان اکرم راجہ
حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟
یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔
یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔
وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔
اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔
18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔
جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔
انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔
لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔
اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔
سلمان اکرم راجہ
"ظلم بھی ہوگا تکلیف بھی ہوگی ریاست جتنا چاہے گی برا کرے گی لیکن اگر ہم لاکھوں کی تعداد میں نکل آئے تو میں حلفاً کہتا ہوں نہ ان کیپسٹی ہے ہمیں گرفتار کرنے کی اور نہ گرفتار کرکے جیلوں میں رکھنے کی۔میری تجویز ہے ملتان لاہور فیصل آباد کے لوگ وہاں کی پولیس کو انگیج کریں، اگر وہ اسلام آباد آئے تو سارے پنجاب کی پولیس بھی اسلام آباد ہوگی اس طرح وہ کامیاب ہوجائیں آپ لوگ پنجاب میں پولیس کو انگیج رکھیں اسلام آباد جانے اور ہم جانیں، راولپنڈی اور اٹک کے لوگ ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں لیکن میں چاہتا اسی روز لاہور بھی بند ہو، کراچی بھی بند ہو، اگر آپ لوگ ان کو انگیج نہیں کرینگے وہی حال ہوگا جو ستمبر اور نومبر میں ہوا ہے "۔@JunaidAkbarMNA
#LongMarchOnSeptember27th
🚨🚨🚨جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ کا آج کہا گیا ہر لفظ پاکستانیوں کے دلوں میں تیر ہورہی ہے!!!🔥
جب مارشل لاء لگتا ہے تو ایک جنرل اعلان کرتا ہے کہ آج سے میں بادشاہ ہوں آج سے میں نے ایک ملک کا آئین اور قانون ختم کردیا اور جو کچھ میں کہوں گا وہی قانون ہوگا پھر وہ دور جبر ظلم اور فسطائیت کا دور ہوتا ہے مگر آج جو کچھ ہورہا ہے وہ ڈیکٹیٹرشپ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے آج جو کچھ ہمارے ساتھ ہورہا ہے اسطرح کبھی مارشل لاء کے ادوار میں بھی نہیں ہوا،
1996عمران خان کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے تھے تو UKکی عدالت میں عمران خان کے خلاف بال ٹیمپرنگ کا کیس کیا گیا مگر عمران خان نے بھاگنے کی بجائےUKمیں ہی اس کیس کو لڑا اور کیس جیت گیا گوروں کو عمران خان سے معافی مانگنی پڑی ۔۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی حاجی امتیاز کو پشاور جاتے ہوئے راستے سے نامعلوم افراد نے اغواء کرلیا۔ حاجی امتیاز پارٹی اجلاس میں شرکت کے لئے جارہے تھے۔
جس ملک میں رکن اسمبلی محفوظ نہ ہوں وہاں عام پاکستانیوں کا کیا حال ہوگا اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
#EndEnforcedDissapearences
انہوں نے نریندر مودی سے سیکھ لیا ہے کہ میڈیا کا سامنا نہیں کرنا، آپ نادیہ نقی کو نہ سہی انصار عباسی کو انٹرویو دے دیں جس کے بارے میں آپ کو یقین ہے کہ وہ کوئی سخت سوال نہیں کرے گا، یا کسی ایسے آدمی کو دے دیں جو بالکل ہی آپ کا چمچہ کڑچھا ہے۔ فواد چودھری
طلعت حسین نے اپنے بھائی کی وفات کے بعد یتیم بتیجھے بتیجھیوں پر جائیداد ہتھیانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا
یہ درندہ صفت انسان وحشی ہے جو پیسے کی خاطر اپنی بھابھی اپنےبھائی کی اولاد کے خلاف جنگ پر اتر آیا
طلعت حسین کابتیجھا طلعت کے مظالم بتاتے آبدیدہ ہو گیا