یہ جوان جس کا نام محمد حسین خان سکینہ کچلاک چار دن سے لانگ مارچ سے لاپتہ ہیں جس کسی کو پتہ ہو تو ہمارے ساتھ رابطہ کریں
اگر پولیس کی حراست میں ہیں کسی تھانے میں ہو تو عدالت میں پیش کیا جائے
محسن نقوی نے آج تحریک انصاف کو تقریباً تحریک طالبان قرار دے دیا ہے۔ اصل دہشت گردی کے سہولت کار وہ ہیں جنہوں نے سانحۂ APS کے دہشت گردوں کو اپنی قید سے فرار کرایا۔
اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ عاصم منیر کے کہنے پر ہو رہا ہے۔ افسوس کہ طالبان بنانے اور ان کا خمیازہ بھگتنے کے باوجود کچھ نہیں سیکھے۔ ہوسِ اقتدار میں یہ پوری قوم کو ذبح کر دیں گے یہ اس ملک کو دہشستان بنا دیں گے۔
علی آمین گنڈاپور کو بھی تم جسیے چوتیوں نے غدار ڈکلئیر کیا تھا کیونکہ اس نے خیبرپختونخواہ کی حکومت بچائی تھی (آج جب اپنی حکومت نہیں ہے تو ورکرز کا حال پوچھیں )اور اب سہیل افریدی کو بھی تم نے غدار ڈکلئیر کردیا ہے کیونکہ اس نے حکومت جانے کی پرواہ نہ کی اور آج پاچواں دن ہے کہ غیب بھی ہے۔ب چ ہم تم پنجاب کے چوتیوں کو کس طرح راضی کریں جب کہ خود گھروں میں الٹے لیٹے صرف ٹویٹس ہی کرتے ہو۔
ہاں تو شہباز گل کون سا مہاتما ہے۔ آپ کریں کھل کر تنقید۔ یہی تو میرا پوائنٹ ہے کہ اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات پر ہم نے اپنے اپنے بت تراش کر رکھے ہیں۔ کریں ان سب پر تنقید۔ شروع مجھ سے کریں۔ آپکے دوست نے سینٹر بننا ہے اس لئے اس نے کچھ کو مقدس گائے بنا رکھا ہے۔ ان پر تنقید کر دو تو آپکا دوست سارا برگیڈ کھول دیتا ہے۔ میں نے سینیٹر نہیں بننا۔ میرے لئے کوئی مقدس گائے نہیں۔ سب کا احترام۔ آپکے دوست کی خواہشوں کا بھی احترام۔ آپکی تنقید کا بھی احترام۔ سوال پوچھوں گا۔ دبا کر پوچھوں گا۔ مقدس گائے سے بھی پوچھوں گا- آپکے مستقبل کے سینیٹر دوست سے بھی پوچھوں گا۔ اس سے پارٹی کمزور نہیں مضبوط ہوتی ہے۔
جس دن اسحاق ڈار اور محسن نقوی آن ریکارڈ کہ رہےتھے کہ سہیل آفریدی کو ہٹا دو تو KP میں ایمرجنسی نہیں لگائیں گے
اسی دن گیم واضح ہو گئی تھی۔ سہیل سے انہیں کیا مسلہ تھا۔
پورا سال ڈرون پر خاموشی۔
فوج آپریشن پر 22 ارب سہیل نے دئیے۔ اور فوجی آپریشن چلتے رہے۔
بجٹ پاس کر دیا۔
معدنیات نکالے جا رہے تھے۔
جیو ARY ایکسپرس پر انٹرویو ہو رہے تھے۔
خان قید تنہائی میں رہا۔ گیارہ ماہ خاموشی۔
خان کی بہنیں قید میں۔
پولیس ایکٹ پاس نہ ہوا۔
دفعہ 144 کوئی قانون سازی نہیں
چادر چار دیواری پر کوئی قانون سازی نہیں۔
کے پی میں پہلے دن سے آخری دن تک انکے افسران لگے رہے۔
کیا کیا ایک سال میں جو وہ ہٹانا چاہتے تھے۔ یہ فرمائشی بیان تھے۔ اور کچھ نہیں۔
گورنر راج کے خلاف KP میں ہر گزرتے دن تحریک زور پکڑ رہی ہے مزید عوام نکل رہی ہے ایسے میں PTI کارکن کو یہ بتا دینا کہ سب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں کارکن کو مایوس کرنا تحریک کو نقصان دینے کے مترادف ہے ! اپنے ایک پاو گوشت کے لیے پرائی بھینس زبع نہیں کرنی چاہئے !
عمران خان کو بہت سے رہنماوں نے کہا تھا KP چلے جاو گلگت میں ہماری حکومت ہے وہاں چلے جاو زمان پارک میں گرفتار ہو جاو گے قربان جاوں خان کے جواب پر اور اس بات کے درجنوں لوگ گواہ ہیں خان نے کہا 👇
صدام حسین بہت بڑا لیڈر تھا لیکن جس دن کھُڈ سے گرفتار ہوا عوام کا حوصلہ ٹوٹ گیا ، یہ میرا گھر ہے اور میں یہاں ہی رہوں گا
🚨🔥ہمیں برداشت کی آخری حد پر کھڑا کیا، اب ہم مجبوراً لڑیں گے ؟
میرا پیغام ہے پختون قوم کو، ایک ہو جاؤ اور نکلو اس ظلم کے خلاف اسلحہ اٹھا کر نکلو کیونکہ وہ تو کہتے ہیں، شرپسند دیشتگرد تو پھر انکو اپنا دہشت دیکھا دو؟
انعام خان مروت
حکومت کی قربانی دے دی۔ نہیں یہ غلط بیانیہ ہے۔
حکومت سے تو اب جانا ہی تھا۔ خان کی پہلی ملاقات پر حکومت سے ہٹنا پڑنا تھا۔ پورے سال کا حساب یاد کرنا پڑے گا۔
حکومت قربان نہیں ہوئی۔ خان کا مینڈیٹ قربان ہوا ہے۔ بغیر لانگ مارچ کئیے۔ بغیر احتجاج کئیے۔ خان کا آخری قلعہ قربان کر دیا گیا ہے۔
یہ حق صرف خان کا تھا۔ کہ وہ اپنی حکومت کیسے قربان کرے۔ یا نہ کرے۔ جن کو آج سمجھ نہیں کوئی بات نہیں کل سمجھ آ جائے گی۔ جس دن خان کا پیغام باہر آیا اس دن سمجھ آ جائے گی۔
تنقید کرنے والوں کی نییت بری نہیں۔ اس لئے ہر تنقید سر آنکھوں پر۔
خالد خورشید صاحب کے اوپر تشدد ہونے کے اطلاعات ہیں
ہم اس اواز کو اتنی دور تک پہنچائیں گے کہ پھر تم یاد رکھو گے
ڈکٹیٹر کے پیشاب اگر کچھ بھی خالد بھائی کو کیا تو یاد رکھنا پھر ان ملکوں میں ہم بیٹھے ہیں
جہاز کے اندر سے فوٹیج باہر آگئی
جس میں دونوں چمیوں کا تبادلہ کررہے ہیں اور کیپٹن صفدر جو کہ لائیو بیٹھا دیکھ رہا تھا وہڈیو کال پر
آخر میں اسکو انگلی دیکھا دی
پارلیمانی پارٹی والو! آپ مذاکرات کی باتیں کر کے اپنی اہمیت صفر مت کریں۔ آپ عمران خان کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں۔ آپ ایسی باتیں کر کے اس سسٹم کو وقعت دے رہے ہیں۔ اُس کی اجازت کے بغیر ایسے عمل نا کریں۔
کیسے ہو خیبرپختونخوا والو کیا کررہے ہو اکیلے مار کھا رہے ہو نا بھاگ گئے نا سب لیڈر
پنجاب میں بھی یہی ہوا ہے ورکرز نکلتے تھے ان پر لاٹھی چارج کرکے بھگا دیتے
میں دور نہیں جاتا اپنی بات کرتا ہوں میں اپنے پیسوں پر لڑکے لے کر جاتا رہا ہوں پھر انہیں لڑکوں کے ساتھ لوگ تصاویر بنا کر پارٹی کو بھیج کر اپنے نمبر بناتے رہے
جب خان صاحب گرفتار ہوئے مینے اپنے حلقے کے گروپس میں سوال کیے نکل کیوں نہیں رہے
مجھے ان ڈائریکٹ دھمکی دی گئی( MPA اور MNA کے بھائی کی طرف سے) چپ کرتے ہو یا پولیس بھیجیں تمہارے گھر
خاموش ہونا پڑا کیا کرتا جو نظریاتی ورکرز تھے ان کو ذلیل کرکے مایوس کیا گیا
اس سب میں بڑا ہاتھ عون بپی کا ہے اس نے صرف اپنے پالتو رکھے ہوئے ہیں سب تنظیمیں ختم سب کچھ ختم پنجاب میں