جناح ٹاؤن یوسی 4، وارڈ 2 عامل کالونی میں روڈ کارپیٹنگ
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر کے ایم سی کی جانب سے جناح ٹاؤن یوسی 4، وارڈ 2 حامل کالونی میں روڈ کارپیٹنگ کا کام کیا گیا۔
اس موقع پر ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات ضلع شرقی ارتضیٰ عبدالقیوم بلوچ، جنرل سیکریٹری پی ایس 102 سید نعیم شاہ اور سیکریٹری اطلاعات پی ایس 102 عبدالرحمان صدر نے موقع پر موجود رہ کر کام کا جائزہ لیا اور نگرانی کی، جبکہ جیالے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔
ہم اس ترقیاتی کام پر وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، صدر ضلع شرقی اقبال ساند، جنرل سیکریٹری ریاض بلوچ، سینئر نائب صدر سرور خان غازی اور سیکریٹری اطلاعات فرخ نیاز تنولی ترجمان سندھ حکومت اور صدر پی اس ۱۰۲ سیدہ اقرباء فاطمہ کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں، جن کی کاوشوں سے علاقے میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔
@BBhuttoZardari@BakhtawarBZ@AseefaBZ@sharmilafaruqi@murtazawahab1@FTanoli21774@IrtazaBaloch1@IqbalSandh
Savour Foods ki ye initiative wali baat genuinely achi lagi ke logon ko sirf awareness nahi di ja rahi, balkay ek practical step lene ka mauqa bhi diya ja raha hai. 🌱 #savourfoods#پاکستان_ہمیشہ_زندہ_باد
Plant lena sirf ek moment tha, lekin usay grow karna ab hamari responsibility hai Hopefully ye chhota sa plant kal ek bara darakht banega
#savourfoods#PakistanZindabad#جشن_آزادی_مبارک
بھائ بٹ صاحب اپنی خبر پر clarification دے چکے۔ 40 لاکھ ٹن گندم کا مطلب ہے 8 کروڑ بیگ گندم ۔۔ کہاں غائب ہوئ ؟ کس نے یہ بتایا ؟ کوئ علم نہیں ۔ بس ایک factually incorrect خبر چلی اور سب کاپی پیسٹ کر کے چل پڑے ۔ افسوس
بھائ کسان کو اچھا ریٹ ملا ہے اور ابھی بھی گندم صرف کسان کے پاس ہی ہے۔ اور وہ 4000 روپے سے زائد پر بیچ رہا ہے۔ آٹے اور روٹی کی قیمتوں کے استحکام کیلئے 15 لاکھ میٹرک ٹن گندم آسانی سے ضرورت پوری کرے گی
فوڈ ڈائریکٹوریٹ گورنمنٹ آف پنجاب کی شفاف اور اوپن بولی کے تحت سیلیکٹ کی گئ 11 کمپنیاں اب تک 4 لاکھ 85 ہزار میٹرک ٹن گندم خرید چکی ہیں ۔ فوڈ کے پاس 19 لاکھ میٹرک ٹن کا باردانہ موجود تھا۔ جس میں سے باقی کا باردانہ مکمل طور پر موجود ہے۔ جس کا باقاعدہ آڈٹ بھی ہوتا ہے اور اکاونٹیبلٹی بھی ہوتی ہے۔ آج کل مارکیٹ میں گندم کا ریٹ 4200 من سے زائد ہے۔ جبکہ forward contracting کے ذریعے خریدی گئ اس گندم کی فی من قیمت حکومت پنجاب کو مارچ 2027 میں بھی 4400 کی پڑے گی۔ اس وقت تقریبا 43 ارب روپے کی گندم پرائویٹ کمپنیاں پنجاب کے strategic reserve کے لئے خرید چکی ہیں جس پر پنجاب حکومت کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا اور نہ ہی گندم کا گردشی قرضہ ہو گا۔ جبکہ یہ گندم پنجاب کے strategic reserve کیلئے مارچ 2027 تک موجود ہو گی۔
اب سوال یہ ہے آپ کا بچہ اب بھی پرائیویٹ اسکول میں ہے؟جہاں کبھی سرکاری اسکول خالی نظر آتے تھے، آج وہاں داخلوں کی قطاریں ہیں۔ صرف دو سال چار ماہ میں 40 لاکھ 30 ہزار بچوں کے داخلے کا ہدف حاصل ہونا اس تبدیلی کی بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔اب صرف اجلاس نہیں، وزیرِ تعلیم خود بھی ہر ہفتے ایک سرکاری اسکول میں جا کر بچوں کو پڑھائیں گے، جبکہ افسران بھی گلی گلی اور محلہ محلہ اسکولوں کی نگرانی کریں گے۔
تعلیم میں سرمایہ کاری ہی مضبوط مستقبل کی ضمانت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب @MaryamNSharif کی قیادت میں تعلیمی اصلاحات کا سفر جاری ہے، تاکہ سرکاری اسکولوں کے بچوں کو بہتر سہولیات، جدید تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ مضبوط تعلیمی نظام ہی مضبوط پنجاب اور روشن مستقبل کی بنیاد بنتا ہے۔
آج کی تعلیم، کل کا مضبوط پنجاب