پہلے کہتے تھے سائفر نامی کوئی چیز تھی ہی نہیں عمران خان نے اپنی طرف سے گھڑ لیا تھا ۔ پھر کہتے ہیں سائفر آیا تھا، ایسے سائفر آتے رہتے ہیں ۔ پھر کہا ہم نے ڈیمارش کیا تھا ۔
اس میں نان ڈپلومیٹک لینگوئج تھی ۔ اور وہ لینگوئج تھی کہ:“عمران خان کو ہٹاؤ” آج ان جرنیلوں پر نظر ڈالیں جسطرح یہ امریکہ کی غلامی میں پاکستان کا سب کچھ داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہیں اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ عمران خان اپنے ملک کی خودمختاری اور سلامتی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا پاکستان کے ایٹمی پروگرم سے بھی بڑھکر کیونکہ ایٹمی پروگرام تو ایک جرنل اور 20 ارب کے جہاز کی مار ہے لیکن عمران خان کو خریا نہیں جا سکتا تھا۔
زندگی امتحانات کا نام ہے اور ہر امتحان میں ایک پیغام چھپا ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی امتحان سے گزر رہے ہیں۔۔۔
تو مایوس نہیں ہونا کیونکہ ہر مشکل آپ کو مضبوط بنانے آتی ہے۔ اللہ آپ کو اکیلا نہیں چھوڑتا، صبر اور امید کی رسی تھامے رکھو۔
نہ جانے کتنے ہی لوگ ہمارے دلوں میں زندہ ہیں حالانکہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے مر گئے۔
اور نہ جانے کتنے ہی لوگ ہمارے دلوں میں مر گئے
حالانکہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے زندہ ہیں۔
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ سورہ الصف آیت نمبر 4
ان شاءاللہ اللہ کی مدد سے جذبہ ایمان سے سرشار بہادر فوج کے جوان بنیان المرصوص بن کر دشمن کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ وہ صدیوں تک نہیں بھولے گا۔