میری جانب سے قائم کردہ مذاکراتی کمیٹی کے دو سینئر اراکین پرویز خٹک اور اسد قیصر کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کیجانب سے ایک ملاقات کیلئے بُلایا گیا۔ اب انہیں ایک سیف ہاؤس میں غیرقانونی طور پر قید کرلیا گیا ہے اور رہائی کے بدلے تحریک انصاف چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ جنگل کے قانون میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول چلتا ہے اور کمزور کیلئے کوئی تحفظ نہیں رہتا۔
ہم نے پاکستان میں ”جبری شادیوں“ کے بارے میں تو سُن رکھا تھا مگر تحریک انصاف کیلئے ”جبری علیحدگیوں“ کا ایک نیا عجوبہ متعارف کروایا گیا ہے۔
میں تو اس پر بھی حیران ہوں کہ اس ملک سے انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں غائب ہو گئی ہیں!