اپنے زمانے میں یہ خاتون مریم نواز سے زیادہ مہنگے جہازوں میں قومی خزانے سے سفر کرتی تھی۔ مریم نواز سے زیادہ مہنگی جگہوں پر ہر آئے روز سرجریاں کروانے جاتی تھی۔
اس کے اپنے محلات تھے۔ سینکڑوں ایکڑوں پر پھیلے ہوئے دارالحکومت کے اطراف میں باغات تھے۔
مختار مسعود نے "لوح ایام" میں لکھا کہ شکاری تھی۔ دوسرے ممالک میں شکار کرنے جاتی تھی۔
اندازہ لگا سکتے ہیں کون ہے؟
ایک جرنلسٹ وہ ہے جو طاقت کے سامنے جھکنے کے بجائے حقائق کی کھوج لگاتا ہے، عوام کو مکمل اور غیر جانبدارانہ معلومات فراہم کرتا ہے، اور فیصلہ سازوں کو جوابدہ ٹھہراتا ہے، نہ کہ اسٹیبلشمنٹ کا پروپیگنڈہ پھیلانے والا آلہءکار۔
اسٹیبلشمنٹ کا پروپیگنڈہ پھیلانے والا دلال تو ہو سکتا ہے، صحافی نہیں۔
ثقلین امام
سابق بی بی سی اردو صحافی
یہ بہت اہم ہے۔ روسی صدر یر لفظ تول کر بولتا ہے۔ 🚨🚨
یکم ستمبر کو ولیدمیر پوٹن نے بشکیک میں SCO سمٹ کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی اور کہا کہ روس ایرانی قوم کی "جرأت اور استقامت" کو خراج تحسین پیش کرتا ہے، اور اس "مشکل وقت" میں ایران کو "ضروری امداد" اور "اہم سامان" فراہم کر رہا ہے۔
پوٹن نے کہا ہے، "اہم سامان"۔
مجھے ایک چیز کی شدید تکلیف ہے۔
رات امریکہ نے ایران میں ایک شادی کی تقریب پر بمباری کر کے پانچ لوگ شہید کر دیے جن میں ایک معصوم بچہ (تصویر میں دیکھیں) بھی شامل ہے۔ 70 کے قریب لوگ زخمی کر دیے۔ لیکن اب تک پاکستان نے امریکہ کی دہشتگردی کی مذمت نہيں کی۔
جب وزیراعظم عمران خان کے خلاف رجیم چینج آپریشن ہوا تھا تو سب سے زیادہ جشن ڈاکٹر عائشہ صدیقہ اور گل بخاری نے منایا تھا۔ عائشہ صدیقہ نے تو ایک انڈین اخبار میں آرٹیکل لکھا اور اسٹیبلشمنٹ کو کہا کہ عمران خان محمد مرسی بن چکا ہے۔ گھوڑا کھینچ دیں۔ ورنہ تمہیں ٹائم نہيں ملے گا۔ گل بخاری اس وقت پاگلوں کی طرح قہقہے لگاتی جب تحریک انصاف کے کارکنوں کو مار پڑتی اور گولیاں چلتیں۔
اب یہ دونوں خواتین دہائی دے رہی ہیں کہ ظلم ہو رہا ہے۔ ملک برباد ہوگیا۔ بھائی لوگوں بس کرو۔ یہ واضح ثبوت ہے کہ لندن پلان 2 بننا شروع ہوگیا ہے کیونکہ نوازشریف اور زرداری دونوں کو خطرہ پڑ گیا ہے۔
لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ لندن پلان 2 بناتے بناتے یہ لندن پلان 1 رول بیک کر دیں اور 2 نہیں بنے گا۔ کچھ مختلف ہوگا۔ اور عمران خان کی واپسی کا راستہ ہموار ہو جائے گا، انشاءاللہ!
مجھے فریال گوہر کی باتوں پر یقین ہے۔ جمال شاہ ایک کمینہ انسان ہے۔ ایک طرف آرٹسٹ ہے دوسری طرف متشددانہ اور آمرانہ ذہنیت کا مالک ہے۔ غیر جمہوری طاقتوں کا apologist ہے۔ اس کے کمینے پن کا ثبوت عمران خان کے خلاف بےجا بکواس ہے اور کاکڑ کی عبوری حکومت میں وزارت کی خیرات کی قبولیت ہے۔ جمال شاہ تم پر لعنت!
فریال گوہر نے اچھا کیا تمہیں لات مار کر اپنی زندگی سے نکال دیا۔
ایران پر امریکی بمباری اردن، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے ہو رہی ہے۔
ان سب ممالک کے خلاف ایران کی جوابی کاروائی ہو سکتی ہے۔
جنگ اس طرف جا رہی ہے جس کی امریکہ نے منصوبہ بندی کی ہے۔ سارے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کا منصوبہ ہے۔
🚨🚨ایران کو اب یہ بات پوری طرح روشن ہو چکی ہے کہ امریکہ جنگ کا کوئی بھی پرامن حل نہيں چاہتا۔ مذاکراتی عمل فریب deception تھا۔ کیونکہ ایسا کرنے سے امریکہ کو اپنی شکست تسلیم کرکے ایران کے حقوق ماننے پڑیں گے۔ پابندیاں ہٹانی پڑیں گی۔ اس کے بعد ایران مشرق وسطٰی کی بلا شرکت غیر سپرپاور بن کر ابھرے گی۔ اور خطے کے سب ممالک تہران سے حلف وفاداری نبھانا شروع کر دیں گے اور وہ نذرانے جو امریکہ کو پیش کرتے تھے وہ تہران کو پیش کریں گے۔ اس کا عملی مظاہرہ بھی امریکہ نے دیکھ لیا کہ جب سیزفائر کے دوران یہ لگا کہ امریکہ خطے سے دم دبا کر بھاگ رہا ہے تو خلیجی فارس کے عرب ممالک نے تہران حاضری دینا شروع کر دی اور سعودی عرب نے عدم جارحیت معاہدے کی پیشکش کر دی۔ اس کا مطلب ہوتا کہ سعودی عرب امریکی فوج کو کہتا سرزمین حجاز خالی کر دو۔
امریکہ کو خطرہ یہ ہے کہ مشرق وسطی سے اس کی فوج کے انخلاء کے بعد پیٹرو ڈالر کا اختتام شروع ہوجائے گا۔ امریکی ڈالر کی عالمی اجارہ داری hegemony ختم ہوجائے گی اور اس کے ساتھ ہی امریکہ کا گلوبل سپرپاور ہونے کا مقام بھی شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔
اس لئے امریکہ اب ایران کے ساتھ کسی قسم کا پرامن حل نہيں چاہتا۔ یہ ایران کو کمزور کرکے ختم کرنا چاہتا ہے۔ جیسے شام، عراق اور لبیا کو کیا۔ اور پھر دس بارہ سال بعد کسی جولانی جیسے کردار کو پکڑ کر سربراہ بنانا چاہتا ہے۔ یہ ہے منصوبہ۔
ایران کو اس سب کچھ کا اچھی طرح ادراک ہوچکا ہے۔ اس لئے ایران کی پالیسی یہ ہے کہ ہر صورت امریکی فوج کو مشرق وسطٰی سے نکالا جائے۔ اس کے لئے وہ دوبارہ ایک مکمل جنگ all-out war کے لئے تیار ہے۔ لیکن یہ جنگ 40 روزہ جنگ سے مختلف ہوگی۔ اس میں ایران کا پروگرام یہ ہے کہ ان گھونسلوں کو ہی آگ لگا دی جائے یہاں پر گدھوں vultures کا نشیمن ہے۔ اس سے آگے بات کرنا ابھی مناسب نہيں۔
یہ ہے تازہ ترین صورتحال۔ امریکہ کو علم ہے۔ اس لئے وہ دو قدم آگے بڑھ کر ایک قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے تا کہ گدھوں کے گھونسلے بچے رہیں۔
صورتحال یہ ہے کہ امریکہ نے ایران کی تین مین بندرگاہوں اور دوسرے اہم مقامات پر بمباری کرنے کے بعد ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی کہ اگر ان حملوں کا جواب دیا تو ہم ایران پر ابتک کا سب سے بڑا حملہ کریں گے۔ اور جب حملہ ختم ہوگا تو ایران میں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔
ماہرین کا خیال تھا یہ ایک اور ملفوف نیوکلیئر حملے کی دھمکی ہے۔
ایران نے اس حملے کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھا اور بحرین کویت اور اردن میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر بھرپور حملے کئے۔ متعدد امریکی فوجی مرنے کی اطلاعات ہیں۔
اب امریکی حکام کہہ رہے ہیں کہ ہم ایران کی جوابی کاروائی کے جواب میں حملے نہ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔
جنرل راحیل شریف مجھے پنجاب کا سورما لگتا تھا۔ گھنی مونچھیں۔ لمبی اور بڑی ناک۔ بھرے ہوئے گلابی گال۔ چوڑا سینہ۔ کشادہ پیشانی۔ مردانہ وجاہت۔ شاہانہ جاہ و جلال۔
ایسا آدمی سعودی دربار میں شاہی دربان بن کر کھڑا کیسا لگتا ہوگا؟ عربوں کی انا کو کتنی تسکین ملتی ہوگی؟
۔۔۔۔۔۔
یقیں محکم عمل پیہم "پیسہ" فاتح عالم
سنجیدہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آخر میں امریکہ ایران پر زمینی حملہ کرے گا اور ویتنام سے کئی گنا بڑی جنگ میں پھنس جائے گا۔
کہا ایران سے ہزیمت اٹھاتا جائے گا اور غلطیاں کرتا جائے گا۔ آخر زمینی حملے کی غلطی کرے گا۔
یاد رہے ویتنام کی جنگ میں 58 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی مارے گئے تھے اور جنگ 20 سال تک جاری رہی تھی۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ کا ایک مقصد سعودی عرب کے اندرونی خوف کو کم کرنا ہے یہاں ہمیشہ شاہی خاندان کو دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں بغاوت نہ ہوجائے۔ کوئی تختہ نہ الٹ دے۔
ڈاکٹر معیدپیرزادہ
یہ بات درست ہے۔ سعودی عرب نے سنہ 2017 میں جنرل راحیل شریف کی قیادت میں 39 اسلامی ممالک کی فوج بنانے کا اعلان کیا۔ اسے "اسلامی نیٹو" کا نام دیا۔ کہا یہ عالم کفر سے لڑے گی۔ عالم کفر ایک بار تو سہم گیا۔ پھر جب ہوش تو پتہ چلا یہ یہ فوج چالیس پچاس ریٹائرڈ فوجیوں کے دستہ پر مشتمل ہے جو جنرل راحیل شریف (جانے کی باتیں جانے دو والا) کی قیادت میں سعودی دربار کی حفاظت کرے گا۔ تب سے راحیل شریف صاحب سعودی عرب میں شاہی دربان کی ڈیوٹی کر رہا ہے۔ اور اچھی تنخواہ وصول کر رہا ہے۔
ویسے عربوں کی حس مزاح بری نہیں ہے۔
ایران نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر امریکی حملے کا جواب دوگنا کرکے دینا ہے۔ امریکہ کو اب کوئی رعایت نہيں دینی۔
دوسری طرف ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ہم اردن میں اپنی بیسز پر حملے کا جواب دیں گے اور ایران پر تابڑ توڑ حملے کریں گے۔
لگتا ہے جنگ کا اگلا خوفناک مرحلہ آج رات سے ہی شروع ہو رہا ہے۔
"عمران خان کے لیے سویٹر بن رہی ہوں۔"
بارش میں بھیگتی ایک بوڑھی انگریز خاتون، ہاتھ میں دھاگا اور سوئیاں، سامنے لارڈز کا تاریخی میدان، اور دل میں ایک ایسے کرکٹر کی محبت جسے وہ آج بھی دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار کرتی ہیں۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان گزشتہ روز لارڈز میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کے دوران ڈینی پورا دن بارش میں بیٹھی رہیں۔ میچ دیکھتی رہیں اور ساتھ ہاتھ سے جرسی بُنتی رہیں۔
میچ کے بعد جب انہیں لارڈز کے میڈیا آفس میں خصوصی طور پر بلایا گیا اور پوچھا گیا:
"آپ پورا دن بارش میں بیٹھی رہیں، لنچ بھی ساتھ لائی تھیں، آخر اتنی دیر یہاں کیوں بیٹھی رہیں؟"
ڈینی نے انتہائی سادگی سے جواب دیا:
"میں ہاتھ سے جرسی اور سویٹر بُنتی ہوں اور انہیں فروخت کر کے اپنا خرچ چلاتی ہوں۔ میں ٹیسٹ کرکٹ دیکھنے آئی تھی، اس لیے اپنا کام بھی ساتھ لے آئی۔ اگر میں بغیر کام کیے بیٹھ جاتی تو میرا پورا دن ضائع ہو جاتا۔ مجھے ٹیسٹ کرکٹ سے بہت محبت ہے۔"
پھر کسی کی نظر اس سویٹر پر پڑی جو ڈینی بُن رہی تھیں۔ سوال ہوا:
"یہ سویٹر کس کے لیے ہے؟"
ڈینی نے سلائیاں روکیں، مسکرائیں اور کہا:
"عمران خان کے لیے۔ یہ میری طرف سے ان کے لیے تحفہ ہے۔"
اور پھر جیسے ایک بوڑھی خاتون نہیں بلکہ کرکٹ کی ایک پرستار پوری تاریخ بولنے لگی۔
"عمران خان صرف ایک کرکٹر نہیں تھے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں دیکھ کر آپ کو یقین ہو جاتا تھا کہ عظمت ابھی زندہ ہے۔ انہوں نے انگلینڈ کے میدانوں میں کھیل کر دنیا کو بتایا کہ پاکستان کسی سے کم نہیں۔ وہ ایک ایسے آل راؤنڈر تھے جن کے سامنے بڑے سے بڑا بلے باز محتاط ہو جاتا تھا اور بڑے سے بڑا باؤلر بھی ان کی کپتانی میں ایک نئی طاقت بن جاتا تھا۔"
ڈینی نے کہا:
"مجھے ان کا کھیل ہی نہیں، ان کا حوصلہ بھی پسند تھا۔ وہ ہار ماننے والے انسان نہیں تھے۔ کچھ کرکٹرز میچ جیتتے ہیں، کچھ سیریز جیتتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو لوگوں کے دل جیت لیتے ہیں۔ عمران خان نے یہ سب کچھ کیا۔"
ڈینی عمران خان کو صرف پاکستان کا عظیم کرکٹر نہیں سمجھتیں بلکہ انہیں ایک ایسا شخص سمجھتی ہیں جس نے اپنی زندگی میں جو بھی میدان چُنا، اسے اپنی محنت، عزم اور یقین سے بدلنے کی کوشش کی۔
وہ کہتی ہیں:
"میں نے انہیں ایک نوجوان کرکٹر سے دنیا کے عظیم ترین آل راؤنڈرز میں تبدیل ہوتے دیکھا۔ پھر انہیں پاکستان کی قیادت کرتے دیکھا۔ 1992 کا ورلڈ کپ جب پاکستان نے جیتا تو عمران خان صرف کپتان نہیں تھے، وہ پورے پاکستان کی امید بن گئے تھے۔"
ڈینی نے اپنے ہاتھ میں موجود سویٹر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
"یہ صرف ایک سویٹر نہیں ہے۔ یہ اس انسان کے لیے میری محبت اور احترام ہے جس نے اپنے ملک کا نام دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ میدانوں میں روشن کیا۔"
— سعدیہ سید کی وال سے
بلوم برگ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ وجہ سے سعودی عرب اقتصادی مشکلات کا شکار ہو چکا ہے۔
سعودی حکومت نے بینکوں سے 8 ارب ڈالرز کا قرضہ مانگا ہے۔
اور سعودی آئل کمپنی آرامکو بھی بینکوں سے قرضہ مانگ رہی ہے۔
مجھے خطرہ یہ ہے کہ سعودی عرب مزید مشکلات کا شکار ہوا تو پاکستان سے بھی اپنے پیسے امارات کی طرح واپس مانگ لے گا اور ہمارا خزانہ خالی ہوجائے گا۔
یا آللہ میاں جلدی جنگ بند کروا دے ورنہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا بھی کباڑا ہونے کا خطرہ ہے۔
انڈیا میں ہر سال یونیورسٹی تعلیم مکمل کرکے 15 لاکھ نئے انجینئر بنتے ہیں جبکہ پاکستان میں صرف 25 ہزار۔ 60 گنا کا فرق ہے۔
ہم تعلیم میں اتنا پیچھے کیوں رہ گئے؟
عدنان عادل
حرام خوروں کی وجہ سے.....
پاکستانی وزراء بھی صہیونیوں اور یہودیوں کے فرق کو نہیں سمجھتے۔ ایک کہہ رہا تھا ایران میں ہزاروں یہودی ہیں۔ احمق سمجھتے ہیں سب یہودی صہیونی ہوتے ہیں۔
صہیونیت ایک فتنہ ہے جیسے اسلام میں تکفیر ازم ایک فتنہ ہے۔
ایران کے یہودی اور پارسی بہترین انسان ہیں۔ دیانتدار اور انسان دوست اور صیہونی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں۔