یہ پی ٹی آئی کارکن محمد حسین آفریدی کی تدفین کے مناظر ہیں ۔ بتایا جارہا ہے کہ حسین آفریدی کے جنازے اور تدفین میں پی ٹی آئی کا کوئی رہنما شریک نہیں ہوا ۔ جبکہ اس کی لاش الخدمت نے آبائی گاؤں نالہ، باڑہ پہنچائی اور تدفین بھی الخدمت کے رضاکاروں نے کی ۔
سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے مقامی کارکنان رہنماؤں پر سخت تنقید کررہے ہیں کہ ایک شخص جو عمران خان کا دیوانہ تھا ہر دھرنے جلسے میں شریک ہوتا تھا اس سے لیڈرشپ نے لاتعلقی اختیار کرلی ہے ۔
واضح رہے کہ محمد حسین راولپنڈی میں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ماراگیا تھا ۔ سیکیورٹی حکام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ محمد حسین نے ان پر حملہ کیا جبکہ پی ٹی آئی نے سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے لانے کا مطالبہ کیا تھا
میرے بچے کو نمونیا تھی ۔ کراچی کے ولیکا اسپتال لائی تو انہوں نے استعمال شدہ سرنج لگائی اور اس کو ایچ آئی وی ایڈز ہوگیا ۔ پہلے اٹھایا نہیں جاتا تھا اب دن بدن کمزور ہورہا ہے ۔
سندھ حکومت کے زیر انتظام ولیکا اسپتال میں استعمال شدہ سرنج لگانے سے سینکڑوں بچے ایڈز میں مبتلا ہوچکے ہیں اور 9 بچے انتقال کرچکے ہیں ۔
متاثرہ بچے کے والد نے عدالت کو بتایا کہ ہم سود پر پیسے لے کر بچوں کا علاج کرا رہے ہیں، ہم نے بچوں کے علاج کے لیے اپنی چارپائیاں تک فروخت کر دی ہیں، ہمیں 1 روپے تک کی امداد نہیں ملی
سندھ میں 1200 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے، جبکہ ابھی تک متاثرین کی درخواست زیرِ التواء ہے
میر رضا کے قتل پر انصاف مانگنا بھی جرم بنا دیا گیا!
حکومت آج تک میر رضا کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کر سکی، مگر شاہراہِ فیصل پر اپنے حقِ انصاف کے لیے آواز اٹھانے والے نوجوانوں کے خلاف ہنگامہ آرائی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کر دیے گئے۔
یہ کیسا انصاف ہے؟
قاتل آزاد، انصاف مانگنے والے گرفتار!
اگر ایک مقتول کے لیے آواز اٹھانا جرم ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ ریاست کس کے ساتھ کھڑی ہے؟
میر رضا کے قاتلوں کے ساتھ یا انصاف مانگنے والوں کے ساتھ؟
#JusticeForMirRaza
آمنہ بی بی آج سے تقریبا چالیس سے پینتالیس سال قبل بنگلادیش سے انسانی اسمگلروں کا شکار بن کر پاکستان لائی گئی تھی۔ انکو جب اغ*واء کیا گیا تھا اس وقت انکی دو ڈھائی سال کی ایک بیٹی گھر پر رہ گئی تھی۔ یہ تین کزن ایک ساتھ کسی گروہ کا شکار ہوئی تھیں۔
گزشتہ روز انکا کیس ہماری ٹیم کو موصول ہوا تھا۔ بنگلادیش میں منظور احمد بھائی نے کیس پر کام شروع کیا ۔ الحمدللہ کچھ ہی گھنٹوں میں انکا خاندان مل گیا۔
انکی جو بیٹی گھر میں رہ گئی تھی اس نے اپنی ماں کے نام ویڈیو پیغام بھیجا تھا ۔ وہ ویڈیو آج آمنہ بیوی کو دکھائی گئی یہ اس وقت کا منظر ہے۔
ابھی آمنہ بی بی کے پاکستان میں چار پانچ بچے ہیں ۔ سب کی شادیاں ہوچکی ہیں اور انکے بھی بچے ہیں۔ ان شاءاللہ کل ہماری ٹیم ماں بیٹی کو اور بہن بھائیوں سے ویڈیو کال پر ملائےگی۔
#waliullahmaroof
عوام پر پیٹرول بم حکومت گرائے اور سوال جماعت اسلامی اور حافظ نعیم الرحمن سے؟؟
حیرت ہے
سوشل میڈیا صارفین کو سوچنا ہوگا کہ جو لوگ مہنگائی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، ان پر تنقید کی جائے یا اُن حکمرانوں سے جواب مانگا جائے جو عوام کی جیب پر مسلسل بوجھ ڈال رہے ہیں؟
حکومت سندھ کی ترجمان سعدیہ جاوید کا بیان آیا
کہ وزیر صحت مصطفی کمال استعفی دیں۔
مصطفی کمال ضرور استعفی ٰ دیں۔
لیکن یہ مطالبہ وہ کرے جنھوں نے اخلاق کے اعلیٰ معیارات قائم کئے ہوں۔
گل پلازہ میں 80 لوگ زندہ جل گئے۔
کس سے استعفی لیا سندھ حکومت نے؟؟
سانحات پر سیاسی اسکور سیٹل کرنا چھوڑ دو🙏
مصطفی کمال کو ووٹ دو تین ہزار ہی ملے تھے
مگر فارم 47 پر اسے نہ صرف سیٹ عطا کی گئی، بلکہ وفاقی وزارت بھی، ونڈر بوائے کے طور پر تشہیر بھی
اصل جرم تو یہ ہے۔ آئین و قانون کی بنیادی پامالی یہ ہے۔
جب ایسے حکومت ملے، وزارتیں دی جائیں تو پھر انھیں کارکردگی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، بچے جلیں یا مر جائیں، ان کا کوئی لینا دینا نہیں، ان کی کل تگ و دو بس کسی کو خوش کرنے تک ہوتی ہے
فارم 47 پر بیٹھی یہ ناجائز اور حرام حکومت ہے، اور اس میں شریک سب لوگ اس سانحے کے مجرم ہیں
اسرائیل نے شمالی غزہ کے علاقے شیخ رضوان میں پانی کے ایک پلانٹ پر بمباری کر دی۔یہ پلانٹ مکمل ہونے اور ہزاروں بے گھر خاندانوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے سے چند دن کی دوری پر تھا کیونکہ بظاہر صاف پانی اور عبادت، دونوں ہی "سیکیورٹی" کے لیے خطرہ ہیں
پیپلز پارٹی کو کسی سے استعفیٰ مانگنے کی اخلاقی طور پرحق نہیں، جس کے اپنے صوبے میں گل پلازہ کی آگ میں 150 لوگ زندہ جل کر راکھ ہو گئے ہوں، لاشوں کے بجائے صرف دانت ملے ہوں، اور اس ہولناک سانحے پر نہ ان کا کوئی وزیر مستعفی ہوا ہو، نہ میئر کراچی، جس کے ماتحت فائر ڈیپارٹمنٹ آتا ہے۔
مصطفی کمال کو دو سے تین ہزار کے قریب ووٹ ملے تھے، پانچویں نمبر پر تھے۔ جن لوگوں نے اس مسترد شدہ سیاسی یتیم کو ایم این اے بنایا اور پھر وزیر لگوایا، پمز اسپتال میں ہوئے حادثے کے وہی ذمہ دار ہیں۔
پمز کا واقعہ کہیں اور ہوتا تو پوری ریاست الٹ پلٹ ہوچکی ہوتی۔
اب تک کئی استعفے آچکے ہوتے۔
کم ازکم وزیر صحت تو جاچکا ہوتا۔
مگر ہماری بدنصیبی ملاحظہ کریں۔
وزیر صحت اب تک گھر پڑے ہیں۔
اور جب سامنے آئیں گے تو ان کے لیکچر سننے والے ہوں گے۔
آپ کو یوں لگے گا کہ
سارا قصور مرنے والے نومولودوں اور ان کے والدین کا تھا۔
یاد رہے کہ موصوف کو تین سال ہوچکے ہیں۔
ان سے ان کی کارکردگی پوچھیں۔
یہ آپ کو نئے صوبوں کے فوائد بتائیں گے۔
آنسو بہاکر بیڈگورننس پر تقریریں جھاڑیں گے۔
لیکن ان کی ذمہ داری میں آنے والے واحد ہسپتال، پمز کا حال۔
آپ کبھی بھی کسی بھی وقت جاکر دیکھیں۔
آپ سر پکڑکر بیٹھ جائیں گے۔
جس ہسپتال کو ملک کا ماڈل ادارہ ہونا چاہیے تھا، وہ بدحالی کی تصویر۔
اس پمز ہسپتال سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک صاحب بیٹھتے ہیں۔
جن کا نام شہبازشریف ہے۔
اور جنہیں دنیا میں وزیراعظم پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ان کی بھی گفتگو سنیں۔
تو حیرت زدہ رہ جائیں گے۔
یوں لگے گا سارے جہاں کا درد ان کے جگر میں ہے۔
لیکن جس چند کلومیٹر پر ان کی حکمرانی ہے، وہاں بھی کوئی ایک چیز ڈھنگ کی نہیں۔
کوئی بھی دارالحکومت کسی بھی ملک کا چہرہ ہوتا ہے۔
آپ اسلام آباد کے کسی بھی ادارے میں چلے جائیں۔
آپ سی ڈی اے ہسپتال چکر لگالیں۔
خدا نہ کرے آپ کو اسلام آباد کے کسی بھی پولیس اسٹیشن جانا پڑجائے۔
آپ اپنی بے بسی پر روئیں گے۔
۱۲ربیع الاول کا دن ہے۔
14بچے جھلس گئے۔
14خاندان اجڑ گئے۔
یہ حادثہ نہیں، یہ قتل ہے۔
اور یہ معصوم بچے یقینا اپنے رب کے حضور جاکر پوچھ رہے ہوں گے
ہمیں کس جرم میں قتل کیا گیا؟
#PIMS