جو ٹاؤٹ بن کر سکرپٹ ملتے ہی غداری کے کارڈ بانٹنے نکل پڑتے ہیں، انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ عوام اب معاف کرنے والی نہیں۔ آپ کا جھوٹ کا پلندہ اب زیادہ دیر برداشت نہیں ہوگا۔
گودی میڈیا کی "عزت افزائی" بھی دیکھ لیجیے۔ صحافت چھوڑ کر جب آپ ڈاکیہ بنتے ہیں، تو پھر عوام کی چھترول بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔
🚨🚨انڈین نوجوان نسل انٹرنیشل میڈیا کی لوگوں کو بتا رہے ہیں ۔
سٹوڈنٹ پوری تیاری سے دہلی ائے ہیں ۔اور رکاوٹیں توڑتے ہوئے پہنچ رہے ہیں ۔
ہمارے ہاں انٹر نیشنل لوگوں کو ملنے ہی نہیں دیا جاتا ۔اور پی ٹی آئی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہوتی ہے کوئی پریس کانفرنس کرے ۔
اچھا بٹ اور اعظم بٹ کے بھتیجے . ببر بٹ کے بیٹا کی حکم ربی سے وفات ھوگی اس میں واسا واپڈا دونوں ھی مجرم ھیں اس کے بعد منتخب نمایندے مفت بجلی مفت پٹرول مفت رھائیش اور عوام کو سہولیات اللہ اکبر واپڈا والوں اللہ سے ڈر جاؤں اتنی سہولیات کے باوجود عوام کے ساتھ بدترین سلوک کسی کا بیٹا کسی کا بھائ کسی کا شوھر اس دُنیا سے چلا گیا
نورین خان کی گفتگو 🚨
سلمان صفدر نے ہمیں بتایا تھا کہ عمران خان اپنی آنکھ اور قید تنہائی کی وجہ سے بہت تکلیف میں ہیں، پی ٹی آئی کو ساری سیاست چھوڑ کر عمران خان کے لئے کھڑے ہونا چاہئیے
ایک بہت بڑا وکیل بنتا ہے (بیرسٹر گوہر)
میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں، کہ تحریک انصاف کا وہ لیڈر بھی کمپرومائز ہے جس کی وجہ سے عمران خان آج تک جیل سے باہر نہیں آ پایا، سردار عبد المجید
ایک دن پہلے تک مولانا فضل الرحمن کو " افغانی اور غدار " کہنے والے ن لیگی آج کہہ رہے ہیں کہ مولانا PDM میں ہمارا لیڈر تھا، مولانا کی بہت قربانیاں ہیں اور ہم " مولانا کو منا لیں گے اور مولانا کے تحفظات ہم دور کردیں گے "
جیسے ہی سوشل میڈیا نے مولانا کی ڈرامائی لڑائی کو ایکسپوز کیا اور اس ڈرامہ کو فلاپ ثابت کیا تو اب یہ مایوس ہوکر اس معاملے پر اپنی مزید انرجی ضائع کرنے سے گریزاں ہیں
نورین نیازی کو نوٹس بھیج دیا ، اب کیا نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ بنے گا؟ یہ دوہرا معیار ہمیشہ نامنظور رہے گا۔ یہ منافقت ریجیکٹڈ ہے عوام کی طرف سے۔
پاکستان کی تاریخ کے پہلے مسنگ پرسن خود قائدِاعظم تھے، فزیکلی ان کو اٹھا کر لے گئے وہاں، زیارت میں کوئی ڈاکٹرز تو نہیں تھے۔ جاوید ہاشمی
#pakistan@JavedHashmiJH
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
یہ 16 سال کی انڈین طالبہ برصغیر کے کروڑوں لوگوں سے زیادہ باشعور ہے ۔ اس کی باتیں سنیں ۔ یہ اچھی طرح آگاہ ہے کہ اس کے بنیادی حقوق کیا ہیں ۔ یہ پولیس والوں کو بھی کہہ رہی ہے کہ آپ کے بچے نہیں پڑھتے کیا ۔ آپ فیس نہیں دیتے کیا ۔
کلاسرا صاحب آپ سے فوجی جرنیلوں کی خدمت میں اتنی بیکار قسم کی منافقت کی توقع نہیں تھی! آپ سے زیادہ intelligent comment کی توقع ہوتی ہے! یہاں آپ نے ھندوستان کا ایک معمولی واقع اٹھا کے پاکستان سے moral equivalence دکھانے کی کوشش کی ہے! فلم ستلج دیکھئے، ھندوستانی جمہوریت بہت defective ہے مگر پنجاب کے ظلم کے تاریک دور سے آگے نکل آئی ہے! جو دہلی میں ہو رہا ہے، یہ ہر جمہوریت میں ممکن ہے! اس جھگڑے سے صرف ان کا سسٹم بہتر ہو کر نکلے گا! ہمیں بلوچستان، فاٹا اور کشمیر کا سوچنے کی ضرورت ہے! جو عدالتوں اور سپریم کورٹ کا ہوا اسکا سوچنے کی ضرورت ہے! اڈیالہ جیل کے باہر ایک ملاقات کو روکنے کا جو جبر ہے، انسانی حقوق کے وکیلوں کو بغیر مقدموں کو جیلوں میں ڈالنے کا جو ظلم ہے، صحافیوں کو قتل کرنے اور دھشت گرد بنا کے عمر قید سنانے کا جبر ہے! آپ کیا لوگوں کو بےوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں!