قدوس بزنجو حکومت کی جانب سے، حمزہ شفقات کی زیر نگرانی، 1,000 گوگل اسکالرشپس کے ذریعے کھولا گیا ڈیجیٹل ایونیو بلوچستان کی بہنوں، بیٹیوں اور ماؤں کے لیے آج ایک لائف لائن ثابت ہورہا ہے، جو آج انہیں باعزت روزگار کرنے کے لیے بااختیار بنا رہا ہے. یہ صوبے کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو اونچا اڑنے اور آسمان کو چھونے کے لیے پر دینے کے مترادف ہے.
یہ سب قدوس بزنجو کے تاریخی کاموں کے منہ بولتے ثبوت ہیں.
@hamzashafqaat
بیلہ، آواران روڈ جو بیس سالوں بعد بن رہی ہے، جو آواران کو کسی بھی بڑے شہر سے رسائی کا واحد زریعہ ہوگی،
لیکن نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور اس کے پراویٹ ٹھیکیدار عوامی آواز کے باوجود اپنی مرضی کے مطابق غیر معیاری مٹیریل کا استعمال کر رہے ہیں،
زیر نظر تصور میں سڑک کے پروٹکشن وال میں...
مہرنگ بلوچ عوام کی ایک طاقتور آواز بن چکی ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں بشمول نیشنلسٹ اب بلوچ عوام کی نظروں میں ارریلیونٹ ہو چکے ہیں۔ریاستی اداروں کو بلوچستان یکجہتی کمیٹی کے بیانیے کا مقابلہ کرنے کی بجائے مسئلے کا سیاسی و آئینی حل تلاش کرنا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ چڑیاں چگ جائیں کھیت 🙏
کوئی بادل ہمت والی ان تصویر کو غور سے دیکھ سکتا ہے دل رلا دینے والا موقع ۔۔۔ظالمو نا ترس خدا نا ترس انسانیت ان بچوں کا کیا قصور۔۔۔۔۔
#BalochMarchAgainstGenocide
کل کی دو ٹوک جواب کے بعد میری Fabricated pictures کی بنا پر مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے زریعے میرے خلاف نازیبا اور غلیظ پروپیگنڈہ مہم جاری ہے۔
وہ دور گزر گئے جب کسی عورت کو خاموش کرنے اور اسکی آواز دبانے کیلئے اسکی پرائیوسی پر بلیک میلنگ اور کردار کشی کا حربہ استعمال کیا جاتا تھا
بلا شبہ یہ میرا زاتی فیصلہ تھا کہ میں نقاب میں میڈیا کے سامنے آؤنگی لیکن چند لوگوں نے بطور عورت اس چیز کو میری کمزوری سمجھ لیا ہے
اس جدوجہد میں ہم نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنی زندگیوں کے ساتھ ساتھ بہت کچھ داؤ پر لگایا ہے مگر اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں انکو اور انکے پالنے والوں کو مبارک ہوں۔
اگر آپ نے پاکستان میں ریاست اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں کے المیہ کو سمجھنا ہے تو صرف یہ ایک نابینا بچی کی کہانی آپ کو رُلا دے گی اور احساس دلائے گی کہ وہ اینکر اور صحافی کتنے بدبخت ہیں جو اِن معصوم بچیوں سے دہشتگردی کی مُذمت مانگتے ہیں۔ معلوم ہے اِس نابینا بچی کی دیکھ بھال کرنے والی واحد انسان اِس کی بوڑھی دادی تھی اور وہ اتنی غریب تھی کہ بھیک مانگ کر لاپتہ افراد کے کیمپ جانے کا کرایہ جمع کرتی تھی اور جب کرایہ جمع ہوجاتا تو کیمپ میں جاکر بیٹھ جاتی تھی اور ریاست سے اپنے بیٹے کی رہائی کی بھیک مانگتی تھی۔ پانچ سال تک روزانہ اپنے واحد سہارا اپنے بیٹے کو مانگنے کے بعد بوڑھی دادی تھک ہار کر دُنیا سے چلی گئی لیکن ریاستی اداروں کو رحم نہ آیا۔ اب اِس بچی کا دُنیا میں کوئی نہیں اور یہ ہمسایوں کہ گھر ہل رہی ہے جبکہ باپ ابھی تک ریاستی ایجنسیوں کے زندان میں نامعلوم مُقام پر بند ہے۔ مُکمل وڈیو اِس لنک پر: https://t.co/xDNeBnLsJ8
Zakir Majeed Baloch was a student of English Literature.He was arrested from Mastung area of Balochistan in 2009 and still missing. His mother came to Islamabad to join a protest against enforced disappearances.She told me today that unknown people burned her home few weeks ago.
یہ نا بھوکلاہٹ کی نشانی ہے نا کچھ اور یہ زات بلوچ سے نفرت کا اظہار ہے وہی نفرت جو صدیوں سے چلتا ہوا آرہا ہے آج شدت سے ان کے پیدوار سرے عام اظہار کررہے ہیں ۔
#BalochLongMarch2Islamabad
میر صاحب یہ بیچارہ بلوچستان میں کونسلری کا ووٹ نہیں جیت سکتا بدقسمتی سے ہمارے بلوچستان کے کچھ پارٹیوں کا سر کا تاج بنایا ہوا ہے افغان کا شہری کہاں بلوچستان کا درد رکھتا ہوگا۔۔۔۔۔۔ریاست جب ان جیسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگا کیا امید بچے گا۔
بلوچستان سے تعلق کے دعویدار وزیراعظم نے بلوچستان کی مظلوم ماؤں بہنوں کا داخلہ اسلام آباد میں بند کر دیا اس وزیراعظم کو بلوچستان والے کبھی نہیں بھولیں گے