عاصم منیر امریکا نہیں گئے اس کی بہت سی وجوہات ہیں ایک تو یہ انہیں دھڑکا ہے ان ہاؤس کچھ ہو نہ جائے یعنی فوج کے اندر سے لوگ بہت ناراض ہیں
دوسرا فیلڈ مارشل کو پشتونوں سے ڈر لگنے لگ گیا ہے آج سے تقریباً 4 مہینے پہلے عاصم منیر نے اپنی سیکیورٹی پر جو پشتون اہلکار متعین تھے انہیں ہٹا دیا گیا پتا نہیں انہیں کیوں لگتا ہے پشتون انہیں ناپسند کرتے ہیں
شہباز گل
یہ کیا ہوا؟
حکومت نے لانگ مارچ روکنے کے لئے چھاپے، پکڑ دھکڑ، گرفتاریاں ،توڑ پھوڑ ،جیل میں بند کرنے سے لیکر ہر حربہ آزماتے ہوئے اربوں روپے لگا دیےمگر پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی نےاجلاس بلا کر لانگ مارچ موخر کر دیا۔
ناتی توتی رہ گئی نک تے مکھی بے گئی
مگر سوال یہ ہے پس پردہ کیا چل رہا ہے؟ کمنٹس میں بتائیں
ن لیگ PTI کے لانگ مارچ کی تاریخ پر رونے کی بجاۓ یہ بتاۓ کہ میاں داؤد کے اتنے خطرناک حملے پر یہ سب خاموش کیوں ہیں؟
عظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ مریم نواز ان کی ریڈلائن ہیں اور وہ ان کی توہین برداشت نہیں کریں گی
مریم سے جہاز پر سوال ان کی توہین ہے لیکن میاں داؤد کا الزام توہین نہیں؟
اج سہیل افریدی صاحب کو ایک بات کلیئر کر دینی چاہیے کہ یہ لانگ مارچ آخری لانگ مارچ ہے اور اس لانگ مارچ میں پہلا مطالبہ خان صاحب کی رہائی ہونا چاہیے
خان صاحب کی رہائی کے بغیر یہ مارچ کسی صورت ختم نہیں ہوگا۔۔۔۔
ہمارے فرشتے کے مطابق آج سی ایم سہیل آفریدی کی پریس کانفرنس کو نہیں دکھایا جائے گا۔ گورنر کو دکھایا جائے گا اور معاملات دکھنے اور نہ دکھنے والا نہیں بلکہ “ کوئی اور ہی “چلائے گا۔
پنجاب پولیس اس وقت اٹک میں جس قدر ذلیل و خوار ہو رہی ہے ان کو مشورہ ہے کہ غیر قانونی حکم ماننے سے بہتر ہے کہ واپس اپنے اپنے علاقوں میں چلے جاو
زیادہ سے زیادہ کیا ہے ایک دو مہینوں کیلئے معطل ہو جاو گے لیکن بھوک، بیماریوں اور ذلالت سے تو بچ جاو گے ، ابھی بھی وقت ہے واپس جانا شروع ہو جاو،
سہیل آفریدی کو جو آخری دھمکی لگائی گئی ہے وہ ہے آپ واپس پہلے والے سکرپٹ پر آئیں واپس کا لفظ اس لیے استعمال کر رہا ہوں کہ آپ وزیراعلی وزیراعلی کھیلیں لیکن لانگ مارچ اور مزاحمت کی سیاست نہ کریں ورنہ ہم آپ کو یہ صوبہ کورکمانڈر اور سیکٹر کمانڈر کے زریعے چلا کر دکھائیں گے
شہزاد اکبر
@FatimaPTI_IK انہیں اسے ہر ہفتے مؤخر کرتے رہنا چاہیے۔ حکومت نہ تو مسلسل سڑکیں بند رکھنے کا بوجھ برداشت کر سکتی ہے اور نہ ہی اسلام آباد میں تعینات ہزاروں پولیس اہلکاروں کے کھانے، رہائش اور دیگر اخراجات ہمیشہ اٹھا سکتی ہے۔ جتنا یہ معاملہ طول پکڑے گا، حکومت پر اتنا ہی دباؤ بڑھے گا۔