ملک بچانا ہے تو موجودہ آئین کو ختم کر کے ایک نیا آئین تشکیل دینا ہو گا جو کہ سیاسی لوگوں کے بس کی بات نہی یہ کام کوئی فوجی ہی کرے گا۔
اک مرد خدا نے بہت پہلے ایک پیش گوئی کی تھی جو پوری ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اور ایک وقت کے بادشاہ نے بھی کہی وہ بھی پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔انشاللہ
جو مہینوں سے کہہ رہا ہوں وہ محسن نقوی نے بھی آج کہہ دیا ہے کہ مقتدرہ نواز اور زرداری سے شدید تنگ ہے اور اگلے کچھ عرصے میں ان سب کی چھٹی ہونے والی ہے۔
’’ایک بندہ سب کچھ لا کر پلیٹ میں رکھ رہا ہے، کوئی ریڈ لائن ہے جو وہ شخص کراس نہیں کرنا چاہتا، وہ کہتا ہے اسی سسٹم میں ہو اور ٹھیک ہو، اب سب کا فرض ہے کہ مل کر ری سیٹ کریں‘‘
محسن نقوی
ہر سال قرضہ بڑھتا جا رہا ہے۔ آپ 14 سے 16 گھنٹے کام کرنے والا وزیراعظم بھی لے آئیں، جو مرضی کر لیں، جب تک اس سسٹم کو ری سیٹ نہیں کریں گے، کچھ ٹھیک نہیں ہوگا۔ تمام سیاسی ،جماعتیوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا۔ ان کو نئے یونٹس بنانے سے لے کر ملک کا ایک ایک مسئلہ حل کرنا پڑے گا۔ جب تک یہ اکٹھے نہیں بیٹھیں گے، یہ ملک اسی حالت میں رہے گا، محسن نقوی
نوجوانوں کو آپ نوجوان کہہ لیں یا کاکروچ وہ میرٹ پر روزگار اور اپنا حق مانگ رہے ہیں ۔ سیاستدان ناکام ہوئے ہیں ۔ انکو کوئ وظیفہ یا لیپ ٹاپ/ٹیب نہیں چاہئیں ۔ یہ سسٹم ناکام ہوا ہے ۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا ذو معنی خطاب ۔
2024 کی الیکشن مہم میں اگر آپ کو یاد ہو تو بلاول نے نون بارے بہت سخت زبان استعمال کی بلکے نواز شریف بارے ٹھیک ٹھاک بدتمیزی کی اس وقت میرا بھی ان کے سوشل میڈیا سیل کے ساتھ ٹھیک ٹھاک ٹاکرا ہوا تھا مگر جیسے ہی الیکشن ختم ہوا پی پی نے اعلان کیا ہمیں نواز شریف بطور وزیراعظم قبول نہی اور شہباز شریف فورا زرداری سے ملنے پہنچ گے اور آنہوں نے مل کر حکومت بنا لی زرداری کی صدارت کے ووٹ نون نے دیے ہیں
اس لئے ان کی لڑائی کو سنجیدہ مت لیا کریں یہ دیے گے رول کے مطابق ایکٹنگ کرتے ہیں
راولا کوٹ کی صورت حا ل پر ایک مہیب خاموشی ہے۔ سیاسی جماعتیں اور میڈیا مُنہ چھپا کر شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند کئے بیٹھا ہے، طاقت کا استعمال قطعی طور پر کسی صورت مناسب نہیں ہے۔ سیاست دان بعد میں لکیر پیٹنے سے بہتر ہے کہ ابھی میدان میں کودیں ورنہ دیر ہو جائے گی۔
@IamHaiderSN حیدر نقوی خالص ٹاؤٹ ہے اپنے صحافتی ادارے کے خلاف ہے کل کو جب یہی سرکاری ادارہ اس کے گلے میں پیکا کا طوق ڈالے گا پھر یہ حضرت ماتم کناہ ہونگے اور حمائیت کرنے والا کوئی نہی ہو گا۔ کیونکہ جیسے کو تیسا ضرور ہوتا ہے۔
پنجاب کا پیسہ اقتدار کے حصول کے لیے آزاد کشمیر میں لٹایا جا رہا ہے۔ یہاں کی عوام ذلیل ہو رہی ہے اور اشرافیہ کے ٹشن ختم ہونے کا نام ہی نہی لے رہے۔ محترمہ آپ نے کس حثیت میں پنجاب کی بسیں ان کے حوالے کی؟؟؟؟؟
محترم پہلے پاکستانیوں کو تو حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار فراہم کریں۔
یہاں جو جس کا بھی ہے آپ اس پر قابض ہیں۔
کیا کشمیر والوں پر بھی بجلی بم، پیٹرول بمب، بھوک بمب گرانا چاہتے ہیں؟کیا وہاں بھی قبضہ مافیا بٹھانا چاہتے ہیں؟
میرے کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں! میرا آپ سے حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار کا وعدہ ہے۔ انشاء ﷲ جو حقوق پاکستان کے شہریوں کو حاصل ہیں وہی حقوق انتخابات میں کامیابی کے بعد کشمیری بہن بھائیوں کو بھی حاصل ہونگے۔
27 جولائی کو تیر کے نشان پر مہر لگا کر پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔
@BBhuttoZardari
#MirpurMainTeerChaleyGa