گورنر راج سے پہلے حکومت نے کہا آئیں مل کر بات کرتے ہیں۔اپوزیشن لیڈر اچکزائی نے انکار کر دیا کہ میں تو شہباز شریف کو وزیراعظم ہی نہیں مانتا۔ ملنے سے انکار کر دیا۔ بات چیت نہیں کی۔
دو دن کے بعد گورنر راج لگ گیا تو پرسوں اسمبلی میں وزیراعظم کو دیکھ کر کہا شہباز بھائی (جسے دو دن پہلے جعلی اور فراڈ وزیراعظم کہہ رہے تھے اچانک شہباز بھائی بن گیا) آئیں یہیں اسمبلی ہال میں کرسی ڈال کر مزاکرات کرتے ہیں۔ ادھر ہی۔ میں نے پریس گیلری سے سب کچھ دیکھا/ سنا ۔
جب گورنر راج نہیں لگا تھا اور بات چیت سے راہ نکل آتی تو اچکزائی نے نہ صرف وزیراعظم سے بات کرنے سے انکار کیا بلکہ پی ٹی آئی کی ریکوسٹ پر مزاکرات میں بھی شریک نہیں ہوئے۔ جونہی گورنر راج لگا تو فورا بات چیت کے لیے تیار ہوگئے۔ اس وقت انہیں شہباز شریف جینوئن وزیراعظم لگ رہا تھا۔
حیران ہوں اچکزائی صاحب پہلے گورنر راج لگوا کر پی ٹی آئی وزیراعلی گرفتار کرا کے chaos پیدا کرنے کے بعد پھر اس کا حل نکالنا چاہتے تھے؟ پی ٹی آئی کی حکومت ختم/گرفتاریاں ہونے کا انتظار کیا پھر ایکٹو ہوگئے۔
کیا ان کا ٹاسک پی ٹی آئی حکومت تڑوایا تھا۔۔ ایمرجنسی لگوانی تھی اس لیے چار اکتوبر تک مزاکرات بات چیت سے دور رہے حالانکہ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں نے ریکوسٹ کی تھی۔
پی ٹی آئی نے تو ان سے فیس سیونگ مانگی کہ آپ لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کر دیں تاکہ پی ٹی آئی ورکرز کا بوجھ ان پر نہ گرے۔۔ لیکن اچکزائی انکار کر دیا کہ نہیں اپنا فیصلہ ہے بوجھ خود اٹھائو۔ حالانکہ پی ٹی آئی ووٹوں کے بوجھ سے ہی اکیلی سیٹ والے اچکزائی اپوزیشن لیڈر بنے ہیں۔
کیا اچکزائی صاحب کو chaos اور افراتفری میں مزہ آتا ہے کہ اس سے انہیں دھواں دھار اور آگ اگلتی تقریریں کرنے کا موقع ملتا ہے، عام لوگوں کو پاکستان سے ناراض اور متنفر کرنے کا موقع ملتا ہے اور وہ سب کو اتنا رگڑتے ہیں کہ پاکستان برا لگنا شروع ہوجاتا ہے لیکن کامیاب مزاکرات، امن سکون کی صورت میں ان کی تقریر پاپولر نہیں ہوتی؟
انہیں گورنر راج سے افراتفری، گرفتاریاں ، لڑائی جھگڑے پھڈے سوٹ کرتے ہیں؟
As an Indian, I feel ashamed that the Indian Army falsely claimed to have eliminated Hashim Musa alias Mohammed Asif, the Pahalgam mastermind. DG ISPR has now presented him alive in a live press conference. It's obvious now - we killed our own people in Pahalgam and then put the blame on Pakistan.