سپریم کورٹ کے فیصلے میں شدید غلطیاں ہیں،سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔اس فیصلے کیخلاف نظرثانی کیلئے سپریم کورٹ جاونگا۔قادیانیوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سینیٹ @SenatePakistan میں تقریر۔
ہر جگہ پھیلاۓ🔥🔥
فاشٹ حکومت اور ایجنسیز نے 9 مئ کا واقعہ کروایا، صدیق بھائ ثبوت سامنےلےآۓہےپاکستانیوں اس وڈیو کو پورےپاکستان میں آگ کی طرح پھیلا دےتاکےحقیقت سامنےآۓ
لیاقت علی چٹھہ کے بارے میں اعلیٰ حکام کو بھجوائی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انکے خاندان کے کئی افراد کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے وہ حمزہ شہباز سمیت مسلم لیگ ن کی اہم شخصیات کے بہت قریب رہے ہیں اور ذہنی و جسمانی طور پر بالکل ٹھیک ہیں
افسوس افسوس افسوس ، قائداعظم کا پاکستان ورلڈ ڈیموکریسی انڈیکس میں مزید کئی درجے گر گیا 2022 میں پاکستان کو ہائیبرڈ رجیم یعنی جعلی جمہوریت قرار دیا گیا 2023 کے انڈیکس میں پاکستان کو آمرانہ نظام والی ریاست قراردیاگیا ہے پاکستان کی اس تذلیل کا ذمہ دار کون ہے؟
2018 کا الیکشن ہوا تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے کہا کہ آر ٹی ایس بٹھا کر رزلٹ تبدیل کیے گئے، ہمارے ساتھ دھاندلی ہو گئی ہے ،
ایک پریس کانفرنس نہ کی جس میں میڈیا کو ثبوت دکھائے جاتے،
عدالت میں ایک پیٹیشن نہ کی،
یہاں تک کہ ساڑھے 3 برس اپوزیشن کے گزر گئے،
پھر اپریل 2022 سے اگست 2023 تک یہ سب جماعتیں اقتدار میں رہیں،
حکومت اپنی تھی، اسٹیبلشمنٹ ساتھ تھی، میڈیا پر کنٹرول تھا، الیکشن کمیشن میں دل کا جانی سکندر سلطان چیف تھا
لیکن ایک بار بھی 2018 کے الیکشن کی دھاندلی پر کوئی کمیشن نہ بنایا، نہ تحقیقات کرائیں،
دوسری طرف 2024 کا الیکشن ہے،
پورا نظام پی ٹی آئی کے خلاف ہے،
کہیں سے کوئی سپورٹ نہیں لیکن آج پوری دنیا کے میڈیا کو بلا کر فارم 45 دکھا کر 9 فروری کی واردات کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے گئے ہیں ،
ایسے ایسے شواہد دکھائے کہ انٹرنیشنل میڈیا بھی دنگ رہ گیا کہ 2024 میں دنیا میں کوئی ایسا ملک بھی ہے جہاں نظام اس حد تک ننگا ہو سکتا ہے؟؟
خیر پی ٹی آئی آج بازی جیت چکی ہے،
آج جو ثبوت پی ٹی آئی نے دکھائے ہیں،
یہ ثبوت ن لیگ کے سیاسی کیرئیر کے قبر میں دفن ہونے تک ن لیگ کا پیچھا کریں گے،
پی ٹی آئی نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے مینڈیٹ پر پہرہ دیں گے،
جس کے ساتھ دھاندلی ہو، وہ اس جرآت کے ساتھ لڑتا ہے،
پی ٹی آئی نے فارم 45 دکھا کر آج اپنی 180 سیٹیں ثابت کر دی ہیں،
پی ٹی آئی کو اب اس پر ایک جامع رپورٹ اور وائٹ پیپر بھی جاری کرنا چاہیے،
آج پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم،سوشل میڈیا اور میڈیا ٹیم کی داد بنتی ہے.
“ہمیشہ ہی نہیں رہتے کبھی چہرے نقابوں میں۔۔
سبھی کردار کھلتے ہیں کہانی ختم ہونے پر”
۱۲ دسمبر ۲۰۲۲ کو اسلام آباد میں پانچ رُکنی جے آئی ٹی کو یہ بیان جمع کروایا تھا جس کے صرف دو صفحات یہاں ڈال رہا ہوں۔ اس بیان میں لکھی ہر بات۔ ارشد بھائی کی کہی ہر بات؛ وہ جو انہوں نے دُنیا کے سامنے کی۔ وہ جو انہوں نے مجھے امانتاً سونپی درست ثابت ہوئی۔ عمران خان نے جو جنگ اپنی قوم کی خوداری اور حمیت کےلئے لڑی اُس میں اُس کے خلاف کھڑے ہونے والے ہر کردار نے اپنے ہاتھوں سے اپنے نقاب نوچے ہیں۔ جو ابھی پردے کے پیچھے ہیں وقت کے ساتھ انہوں نے اپنے چہروں کے خدوخال بھی نوچنے ہیں۔ ہاں مگر وہ کہ جنہوں نے سب جانتے بوجھتے اُسے بھیڑیوں کے سامنے پھینکا، جو اُس کے خون سے آنکھیں پھیر گئے وہ شاید ساری عمر اب اپنے لیے نقاب بُنیں مگر عریانی اُن کی بھی کم نہیں ہونی۔
بلوچستان کے پشتون بیلٹ سے پاکستان تحریک انصاف کے ان چار نوجوانوں سالار خان کاکڑ ، سردار بابر خان موسی خیل ، صدام خان ترین اور عادل بازئی نے بڑے بڑے خان ،نواب ، ملک ، مذہب پرست ، قوم پرست ، لبرلزم ، سوشلزم سیاست کے بڑے بتوں کو شرمناک شکست دی ۔
اب م ان کا حق کامیابی غصب کر لیا گیا ہے انکا حق کامیابی انکو واپس دینا پڑے گا
دھاندلی کی شکایات کیسے ختم کی جائیں؟16 فروری سے دس مختلف جماعتیں پاکستان بھر میں دھاندلی کے خلاف احتجاج شروع کر رہی ہیں ان شکایات کا خاتمہ بہت آسان ہے فارم 45 میں موجود نتائج کو فارم 47 کے ساتھ ملا کر دیکھیں اگر فارم 47 کا نتیجہ مختلف ہے تو 45 کا نتیجہ تسلیم کریں قانون بھی یہی ہے
@Marriyum_A آپ سے گزارش ہے کہ لندن فلیٹ کی رسیدیں تو آپ نہیں دکھا سکے لیکن چلیں اپنی جیتی ہوئی نشستوں کے فارم 45 ہی دکھا دیں۔ نہ آپ کے پاس تب کوئی رسید تھی نہ آج رسید ہے۔ آپ کے لیڈر نے ہمیشہ عوام کے ووٹ اور نوٹ دونوں پر ہمیشہ ڈاکہ ڈالا ہے۔ کوئی شرم کریں اور اپنی ہار تسلیم کریں
پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ کامیاب اراکین اسمبلی کی مجلس وحدت مسلمین میں شمولیت کے فیصلے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین عمران خان کی اپنی جماعت ہے اور وہ اس جماعت کے حوالے سے جو چاہے فیصلہ کر سکتے ہیں ہم اسے بلامشروط اورمن و عن قبول کریں گے۔ہمارا روز اول سے یہ موقف بھی رہا ہے اور ہم نے اپنے عمل و کردار سے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ ہم کسی جماعت پر بوجھ نہیں بنتے بلکہ مشکل وقت میں باوفا دوست بن کر ساتھ نبھاتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہمارا اتحاد ، آزاد خارجہ پالیسی، داخلی خودمختاری،سرحدوں کےتحفظ، عالمی طاقتوں کی غلامی سے انکار،مسلم ممالک سے برادرانہ تعلقات اور گلگت بلتستان کے لیے آئینی حقوق کے حصول بیانیہ کی بنیاد پر ہے جو خون کے آخری قطرے تک قائم رہے گا۔عمران خان کی قیادت میں پوری قوم مل کر وطن عزیز کو ایک آزاد، خود مختار اور باوقار ریاست بنانے میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔