@saleemspeaks2 آپکی کافی باتوں سے اتفاق ، آج کل بہت بڑی لا پرواہی والدین کی طرف سے ہو رہی ہے، لیکن آیک چھوٹی سی اصلاح کردوں 17 سالہ بچی نا بالغ نہیں ہوتی۔ ہاں کم سن ہوتی ہے شعور کم ہوتا ہے لیکن نا بالغ نہیں ہوتی۔
Caution: its a shocking video This is gut wrenching i came across this video of Palestinian prisoners getting crushed . there is no one i can tag for help I can only Tag Almighty . Oh Almighty get rid of oppressors.
@KR3Wmatic if there is a house in a remote forest and we do not know who built it, nor do we know the builder’s height, appearance, or any other details, even then our عقل (reason) will conclude that someone must have built that house. The house itself is a sign that it has a maker.
Now, if
@KR3Wmatic someone says, “I did not see anyone building this house, therefore it must have come into existence by itself,” this would be foolish.
So if the mind accepts the existence of a builder for a house—despite never having seen the builder—then are not the earth, the sky, the oceans,
Honorable Mr.Justice Muhammad Asif
سے
Dis-honorable
In-justice M.Asif
بننے تک کا سفر۔۔
جسٹس آصف محمود ریکی نے
دو غریب لڑکیوں کی جانوں کی قیمت لگا کر بیٹا بچا لیا۔
لیکن
اپنی عزت/ساکھ معاشرے میں مکمل ختم کر لی۔
اگر یہ سب بھی کرنا تھا تو کچھ عرصہ اس بدبخت بیٹے کو کچھ سزا تو ملنے دی جاتی۔
اسلام آباد (شبیرسہام سے)
سانحہ شاہراہِ دستور، دو لڑکیوں کی ہلاکت کیس میں اہم پیش رفت، مرنے والی ایک یتیم لڑکی کے ورثاء کو دیت کی رقم دیکر صلح کے لئے راضی کرلیا گیا جبکہ دوسری لڑکی کے ورثاء کو ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد کے آفس سے فون کرکے صلح کے لئے دباؤ ڈالا گیا۔ یکم اور دو دسمبر کی درمیانی شب شاہراہِ دستور پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد آصف کے 16 سالہ بیٹے ابوذر کی لگژری گاڑی وی ایٹ کی ٹکر سے الیکٹرک سکوٹی پر سوار دو لڑکیاں ثمرین حسین اور تابندہ بتول جانبحق ہوگئی تھیں۔ اس کیس میں چونکہ ملزم ابوذر کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا جسے قانون کی گرفت سے آزاد کرانے کے لئے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد کے سٹاف میں شامل ایک زمہ دار پولیس اہلکار نے جانبحق ہونے والی لڑکی تابندہ بتول کے ورثاء سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور کہاکہ ایس ایس پی آپریشنز، جج محمد آصف اور جج کی اہلیہ تعزیت کے لئے گھر پر آنا چاہتے ہیں۔ جس پر لڑکی کے ورثاء نے انہیں کہاکہ ان کے گھر آنے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ٹیلی فونک رابطے کے دوران پولیس اہلکار نے ان سے مزید کہاکہ آپ کا تعلق غریب خاندان سے ہے۔ آپ کے مخالفین بہت طاقتور لوگ ہیں۔ آپ کے لئے کورٹ کچہری کا سامنا کرنا آسان نہیں ہے۔ وہ جج کا بیٹا ہے۔ جسٹس صاحب اپنے بیٹے کو قانون کی گرفت سے آزاد کرانے کے لئے ہرممکن کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں اپنے بچے کی غلطی کا احساس بھی ہے۔ وہ آپ کے پاس اگر معافی بھی مانگیں گے۔ آپ لوگوں کو دیت کی معقول رقم بھی ادا کریں گے۔ آپ لوگ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ بہتر یہی ہے کہ صلح کرلیں اور راضی نامہ کرکے کیس واپس لیں۔ جس پر لواحقین نے یہ کہتے ہوئے فون بند کردیا کہ ابھی ہمارا زخم تازہ ہے۔ ہم اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرسکتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں جانبحق ہونے والی دوسری لڑکی ثمرین یتیم لڑکی ہے۔ جس کے بھائی کی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پر بھی دباؤ ڈالا گیا۔ ان کے ماضی میں چند مقدمات بھی ہیں۔ جنہیں جواز بناکر انہیں پریشرائز بھی کیا گیا۔ جس کے بعد اس متاثرہ خاندان نے دیت کی رقم لینے اور کیس سے پیچھے ہٹنے پر اپنی آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ تاہم انہوں نے دیت کی رقم مسجد کی تعمیر میں لگانے کی شرط رکھی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس کیس میں طاقتور جج کا ساتھ دینے کے لئے جہاں پولیس اپنی پھرتیاں دکھا رہی ہے وہیں جڑواں شہروں کے ڈان فرخ کھوکھر کے قریبی ساتھیوں نے بھی متاثرہ خاندان سے ملاقات کرکے انہیں صلح کرنے پر دباؤ ڈالا اور چند نام نہاد صحافیوں کی بھی یہ کوشش ہے کہ وہ غمزدہ خاندان کو کیس سے پیچھے ہٹا سکیں۔
پاکستان کے محنت کش جن کے پاس قانونی ورک ویزا ہے، کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ایئرپورٹس پر بلا وجہ آف لوڈ ہو رہے ہیں۔ لاکھوں روپے کا نقصان اور مستقبل کی امیدیں چھن رہی ہیں۔ FIA کہتی ہے تحقیقات جاری ہیں، لیکن انصاف ابھی دور ہے۔ آئیے سب مل کر حکومت اور ایف آئی اے سے مطالبہ کریں کہ ہر جائز ورک ویزا ہولڈر کو عزت، تحفظ اور سفر کی سہولت دی جائے کیونکہ یہ وہی محنت کش ہیں جو پاکستان کی عزت اور خوشحالی میں اپنا لہو پسینہ دیتے ہیں۔ جو بھی FIA اہلکار غلط کارروائی میں ملوث ہوں، ان کے خلاف شفاف تفتیش اور مناسب سزا دی جائے، تاکہ آئندہ ایسے معاملات کم ہوں۔
یہ ضروری ہے کہ FIA اور وزارت اوورسیز پاکستانیوں کے مابین پابندی اور چیکنگ کے معیارات کو عوامی طور پر شائع کریں تاکہ ہر کام کرنے والا جان سکے کہ کن بنیادوں پر اس کی پرواز روکی جا سکتی ہے۔
حالیہ عرصے کے دوران پاکستان میں ایسی کئی اطلاعات سامنے آئیں کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کے ایئر پورٹس پر امیگریشن حکام نے بعض ایسے لوگوں کو بیرون ملک پروازوں پر سوار ہونے سے روکا جن کے پاسپورٹس پر ورک ویزا تھے۔
پاکستانی محنت کش یورپ، یونان، خلیجی ممالک اور دیگر ممالک میں غیر معمولی خدمات فراہم کرتے ہیں اور ان کی محنت پاکستان کی معیشت میں زبردست حصہ ڈالتی ہے۔ ان پر ناروا بینڈش، افواہیں یا تعطل نہ ہونا چاہیے۔
یہ ایشو بین الاقومی انسانی حقوق اور ورک اپلیکیشن پالیسیز کی روشنی میں بھی بہت اہم ہے پاکستان کی ساکھ کے لحاظ سے، یہ درست قدم ہوگا کہ سمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے ساتھ ساتھ جائز ورکرز کو محفوظ اور عزت والے طریقے سے سفر کی سہولت دی جائے۔
Patience.
This world is on purpose.
You survive it through prayer.
The people here are meant to test you. Either with their goodness which you should try to outmatch. Or their evil which you should try to overcome. Or perhaps their innocence which you should try to preserve.
But stay patient. Paradise is nearer than you think if you stay the course. And your Lord sees and rewards it all.