خان صاحب نے شریفوں اور منشیوں کی تباہی پھیر دی۔ 🔥 🔥
اسحاق ڈار کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ اس کے والد کی سائکلوں کی دکان تھی بلکہ Mayfair میں مرسڈیز کے شو روم تھا۔
شریف فیملی کو دیکھیں، ان کی فیملی ایسی نہیں لگتی کہ گوال منڈی میں پلے بڑھے ہیں لگتا ہے سارے Buckingham Palace میں بڑھے ہوئے ہیں۔
ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید نے بہلول دانا کو ہدایت دی کہ وہ بازار جائیں اور قصائیوں کے ترازو اور ان کے اوزان (تولنے والے پتھروں) کا معائنہ کریں۔ خلیفہ نے حکم دیا کہ جس کا وزن کم نکلے، اسے گرفتار کر کے دربار میں پیش کیا جائے۔
بہلول بازار پہنچے اور پہلے قصائی کی دکان پر جا کر اس کے باٹ (پتھر) چیک کیے تو وہ وزن میں کم نکلے۔ بہلول نے اس سے حال احوال پوچھا: "میاں! گزر بسر کیسی ہو رہی ہے؟"
قصائی بڑی حسرت سے بولا: "بہلول! بڑے کڑے دن ہیں، دل چاہتا ہے کہ یہ گوشت کاٹنے والی چھری اپنے سینے میں اتار لوں اور ابدی نیند سو جاؤں، زندگی سے بیزار ہو چکا ہوں۔"
بہلول آگے بڑھے اور دوسرے قصائی کا ترازو چیک کیا۔ وہاں بھی وہی صورتحال تھی، وزن پورا نہیں تھا۔ بہلول نے سوال کیا: "سناؤ بھائی! زندگی کیسی گزر رہی ہے؟"
قصائی نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا: "کاش اللہ نے مجھے پیدا ہی نہ کیا ہوتا، ذلالت اور رسوائی کی زندگی گزار رہا ہوں، کہیں سکون نہیں۔"
آخر میں بہلول تیسرے قصائی کے پاس پہنچے۔ جب اس کے وزن چیک کیے تو وہ بالکل درست اور پورے پائے گئے۔ بہلول نے پوچھا: "اللہ کے بندے! تم سناؤ، زندگی کیسی کٹ رہی ہے؟"
قصائی نے مسکراتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: "مالک کا لاکھ لاکھ شکر ہے، بہت خوش ہوں! اللہ کا بڑا کرم ہے، رزق میں برکت ہے، اولاد نیک ہے اور زندگی نہایت اطمینان سے گزر رہی ہے۔"
بہلول واپس دربار پہنچے تو سلطان ہارون الرشید نے پوچھا: "بہلول! کیا صورتحال ہے؟ مجرموں کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟"
بہلول نے دھیمے لہجے میں جواب دیا:
"سلطان! جن قصائیوں کے وزن کم نکلے تھے، اللہ تعالیٰ انہیں ان کی بددیانتی کی سزا پہلے ہی دے رہا تھا۔ ان کی زندگی ان پر تنگ کر دی گئی تھی اور وہ جیتے جی جہنم میں تھے۔ جو قدرت کی سزا بھگت رہے ہوں، انہیں آپ کی قید میں لانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟"
آج کا پیغام
آج ہمارے حالات بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ ہم نے دنیا کی ہوس میں حلال و حرام کی تمیز مٹا دی ہے، اسی لیے ہم آسائشوں کے باوجود سکون سے محروم ہیں۔ جو رزق میں برکت اور زندگی میں اطمینان چاہتے ہیں، وہ اپنے معاملات میں دیانتداری اپنائیں۔
منقول
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جن اور شیطان کھجور سے نفرت کیوں کرتے ہیں
رسولِ اکرم ﷺ نے وصیت فرمائی ہے کہ روزانہ کھجور کھایا کرو، خاص طور پر صبح کے وقت ۳، ۵ یا ۷ دانے۔
آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کھجور کو طاق عدد (یعنی ۱، ۳، ۵، ۷...) میں کھاؤ، جفت عدد میں نہیں۔
یہ کیوں؟
تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ جب انسان کھجور کھاتا ہے تو اس کے جسم میں ایک نیلی غیر مرئی توانائی پیدا ہوتی ہے جو پورے جسم کو گھیر لیتی ہے، اور اس توانائی کی وجہ سے جن، شیطان، جادو اور نظرِ بد سے حفاظت ہوتی ہے۔
لیکن یہ اثر صرف تب ہوتا ہے جب کھجور کو طاق عدد میں کھایا جائے (۳ یا ۵ یا ۷ عدد)۔
اگر کوئی شخص کھجور کو جفت عدد میں کھائے (مثلاً ۲، ۴ یا ۶)،
تو وہ جسم میں شکر کی شکل میں ذخیرہ ہو جاتی ہے،
اور اس سے ذیابطیس یعنی شوگر کا مرض پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
دنیا کے سائنس دان حیران ہیں کہ
نبی کریم ﷺ نے صدیوں پہلے جن و شیطان کے اثر سے بچنے کا یہ قدرتی علاج بتایا۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
"کھجور واقعی ایک عجیب دوا ہے۔"
اگر کسی کو خون کی کمی (انیمیا) ہو تو کیمیائی دواؤں کی ضرورت نہیں،
صرف روزانہ چند کھجوریں کھاؤ، خون کی کمی دور ہو جائے گی۔
اگر جگر چربی والا یا بڑا ہو گیا ہے تو روزانہ صبح کے وقت سات کھجوریں کھاؤ،
ان شاءاللہ چربی ختم ہو جائے گی۔
اگر تم سرد مزاج ہو تو روزانہ تین کھجوریں کھاؤ۔
کینسر ہر مسلمان کے لیے ایک خطرہ ہے —
لیکن کیا تم جانتے ہو کہ کینسر سے بچاؤ کا بہترین علاج بھی کھجور ہے؟
حدیثِ مبارک میں ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس گھر میں کھجور نہیں، وہ گھر یقیناً بھوکا ہے۔"
نصیحتیں (قیمتی مشورے)
پہلی نصیحت:
صبح بیدار ہوتے ہی جو بھی کام کرو، چھوٹا ہو یا بڑا،
ہمیشہ "بسم اللہ الرحمن الرحیم" سے شروع کرو،
اللہ تمہیں کامیابی عطا کرے گا۔
دوسری نصیحت:
ہمیشہ پانی اتنا ہی پیو جتنی جسم کو ضرورت ہو۔
زیادہ پانی پینے سے جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
جدید سائنس یہ کہتی ہے کہ روزانہ آٹھ گلاس پانی پینا چاہیے،
لیکن حقیقت میں پانی صرف ضرورت کے مطابق پینا چاہیے۔
جب پیاس لگے تب پانی پیو۔
تیسری نصیحت:
ہمیشہ ورزش کرو،
چاہے کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہو۔
جسم کو ہمیشہ حرکت میں رہنا چاہیے۔
چاہے چہل قدمی ہو، تیراکی ہو یا کوئی اور ورزش۔
چوتھی نصیحت:
کھانے کو کم کرو۔
حدیث میں ہے:
آدمی کے لیے اتنا کھانا کافی ہے جتنا اس کی کمر کو سیدھا رکھے۔"
زیادہ کھانا چھوڑ دو،
کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہی نقصان ہے۔
سادی زندگی اپناؤ اور کھانے میں اعتدال رکھو۔
پانچویں نصیحت:
جہاں تک ممکن ہو،
گاڑی صرف ضروری موقعوں پر استعمال کرو۔
مسجد، دکان یا کسی عزیز کے گھر جانے کے لیے
ممکن ہو تو پیدل چلو۔
چھٹی نصیحت:
غصہ نہ کرو۔
غصہ نہ کرو۔
غصہ نہ کرو۔
پریشان مت ہو، درگزر کرو۔
غم اور غصہ تمہاری صحت کے لیے نقصان دہ ہیں اور خوشی کو ختم کر دیتے ہیں۔
ان لوگوں کے ساتھ رہو جن کے پاس تمہیں سکون ملتا ہے۔
*ساتویں نصیحت:*
جیسے کہا جاتا ہے:
"اپنا مال دھوپ میں رکھو، خود سایہ میں بیٹھو۔"
زندگی کو اپنے اوپر اور دوسروں پر تنگ نہ کرو۔
مال اس لیے ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے استعمال ہو،
نہ کہ زندگی کو برباد کرنے کے لیے۔
آٹھویں نصیحت:
اس چیز پر حسرت نہ کرو جو تم حاصل نہیں کر سکتے۔
بھول جاؤ، اگر وہ تمہارے نصیب میں ہے تو
تمہارے پاس ضرور آئے گی،
چاہے تم اپنے بستر پر ہی کیوں نہ ہو۔
اور جو چیز تمہارے نصیب میں نہیں،
اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے روک دیتا ہے،
کیونکہ وہ تمہارے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔
نویں نصیحت:
عاجزی اختیار کرو،
عاجزی اختیار کرو۔
غرور اور تکبر مال و طاقت دونوں کو ختم کر دیتا ہے۔
تواضع تمہیں لوگوں میں محبوب بناتی ہے
اور اللہ کے نزدیک تمہارا درجہ بلند کرتی ہے۔
دسویں نصیحت:
سفید بالوں کا آنا زندگی کے خاتمے کی علامت نہیں،
بلکہ ایک نئی اور بہتر زندگی کی شروعات ہے۔
مثبت سوچ رکھو،
سفر کرو،
اور حلال روزی سے لطف اٹھاؤ۔
ایک اور نصیحت:
جلدی سو جاؤ
رات گئے جاگنا چھوڑ دو
یہ عادت صحت کے لیے بہتر ہے۔
آخری اور سب سے اہم نصیحت:
نماز کبھی مت چھوڑو۔
نماز کو اول وقت میں ادا کرو۔ کیونکہ نمازِ اول وقت دنیا اور آخرت دونوں میں تمہارے لیے نفع کا سود نامہ ہے۔
اس دن جب نہ مال فائدہ دے گا، نہ اولاد۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب کعبہ کی تعمیر کی تھی، تو اس کے دو دروازے رکھے تھے جو زمین کے برابر تھے۔ ایک مشرقی جانب جہاں اب موجودہ دروازہ ہے اور دوسرا اس کے بالکل سامنے مغربی جانب تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ایک دروازے سے داخل ہوں اور دوسرے سے باہر نکل جائیں۔ کئی صدیوں تک یہ سلسلہ رہا، یہاں تک کہ قریش نے جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی، تو انہوں نے وسائل کی کمی کی وجہ سے کعبہ کا حجم کچھ کم کر دیا اور مغربی دروازے کو مستقل طور پر بند کر کے دیوار بنا دی۔
حضرت عبدالله بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں جب کعبہ کی از سرِ نو تعمیر کی تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خواہش کے مطابق اس مغربی دروازے کو دوبارہ کھول دیا تھا تاکہ لوگ آسانی سے آمد و رفت کر سکیں، لیکن ان کی شہادت کے بعد حجاج بن یوسف نے اسے دوبارہ بند کر دیا اور کعبہ کو اسی نقشے پر واپس لے آیا جو قریش نے بنایا تھا۔
آج کے دور میں کعبہ کا صرف ایک ہی دروازہ ہے جو سطح زمین سے بلند ہے۔ مغربی سمت، جہاں کبھی دوسرا دروازہ ہوا کرتا تھا، وہاں اب صرف ایک ٹھوس دیوار ہے جو غلافِ کعبہ (کسوہ) سے ڈھکی رہتی ہے۔ تاہم، اگر آپ کعبہ کے اندر داخل ہوں تو اس مقام پر سنگِ مرمر کی دیواروں اور ڈیزائن میں اس قدیم دروازے کی جگہ کی نشاندہی محسوس کی جا سکتی ہے
مگر باہر سے یہ مقام اب ایک مکمل دیوار کی شکل میں ہی موجود ہے۔ مذہبی اور تاریخی طور پر یہ مقام اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ کعبہ کی اصل ابراہیمی بنیادوں میں وسعت اور سہولت کا عنصر شامل تھا۔ سبحان الله ہم بہت قسمت والے ہیں جو اس بابرکت اور تاریخی دروازے کی زیارت کر رہے ہیں۔
محترمہ سیدہ میمنت حسین اور ان کے شوہر۔
پہلے محترمہ کا کچھ تعارف اور پھر ان کے شوہر پر مختصر نظر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دائرے میں نظر آنے والی خاتون کا نام سیدہ میمنت حسین ہے۔ محترمہ کی لاہور مال روڈ پر ریگل چوک کے پاس ایک انگریزی کتابوں کی بہت بڑی دوکان ہوتی تھی۔ جس میں ایک پبلشرز ادارہ بھی تھا۔
اس کا نام وینگارڈ بکس Vanguard Books ہے۔ (اب یہ وہاں سے کسی اور جگہ منتقل ہوچکا ہے)۔ اس ادارہ کی خاص بات یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی اسلام ، نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف یا پاکستان کے خلاف کوئی کتاب شائع ہوتی، اور وہ کہیں سے نا ملتی۔ آپ وینگارڈ بکس سے خرید سکتے تھے۔ اور اگر دستیاب نا ہو تو آرڈر کریں یہ آپ کو منگوا دیتے تھے۔
گستاخ رسول سلمان رشدی ہو یا تسلیمہ نسرین کی کتابیں جب پورے پاکستان میں بین تھیں۔ سیدہ میمنت حسین کی وینگارڈ بکس سے باآسانی مل جاتی تھیں۔ تہمینہ درانی کی متنازعہ کتاب My fuddle Lords بھی 1991 میں اسی ادارے نے شائع کی تھی۔
1999 میں سیدہ میمنت حسین کے شوہر نے حکومت کی کرپشن پر کچھ کالم لکھے اور بھارت کے اندر تقریر کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔ اس وقت بھارت میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر اشرف قاضی نے حکومت پاکستان کو ان کی تقریر بھیجتے ہوئے پاکستان مخاف قرار دیا اس کے نتیجے میں ان پر غداری کا مقدمہ دائر ہوا جیل میں بند کر دئیے گئے۔ کہ انہوں نے بھارت میں پاکستان دشمن تقریریں کی ہیں۔ محترمہ نے پوری دنیا کو خط لکھے۔ اقوام متحدہ ، امریکہ ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ورلڈ بنک سے مدد کی درخواست کی۔ اسلام آباد میں امریکی سفیر نے نواز شریف سے خصوصی ملاقات میں اس کے شوہر کو بازیاب کرنے کا کہا۔ ورلڈ بنک کے صدر جیمز نے خصوصی فون کئے۔ اور ایک ماہ بعد ان کے شوہر واپس گھر آگئے۔
اس سے پہلے جب 1996 میں صدر لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو کرپشن کے الزام میں برطرف کرنے کے بعد عام انتخابات کرائے۔ معراج خالد کو نگران وزیر اعظم مقرر کیا تو محترمہ کے شوہر ان کی کابینہ میں احتساب کے وزیر بنے۔ نواز شریف کے دور میں بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے الزام میں جو مقدمات قائم ہوئے وہ دراصل ان کے شوہر کے دور میں تیار ہوئے تھے. 1996 میں ہی ان کی مدد واعانت سے بی بی سی نے بے نظیر بھٹو اور آ صف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے الزامات کے بارے میں پرنسیس اینڈ پلے بوائے کے نام سے ایک ڈاکومنٹری تیار کی تھی۔
اس سے بھی کچھ پہلے 1984 میں محترمہ کے شوہر نے ایک کتاب اپنے اخبار میں شائع کی۔ یہ کتاب کیمونسٹ، سوشلسٹ اور نیشنلسٹ نظریات کے مطابق لکھی گئی جس وجہ سے ضیاء الحق حکومت نے ان کو جیل میں ڈال دیا لیکن کچھ عرصہ بعد رہا کر دئیے گئے۔ اس سے بھی بہت پہلے کی بات ہے۔ 1973 میں لندن میں کریم بلوچ نے آزاد بلوچستان کے نام سے ایک تحریک چلائی۔ کیمونسٹ نظریات کے حامل ’’لندن کلب‘‘ کے پانچ نوجوان بلوچستان لبریشن فرنٹ کی مسلح جدوجہد میں حصہ لینے کےلیے خفیہ طور پر بلوچستان آئے۔ ان میں ایک احمد رشید ، پاکستان فضایہ کے ایک اعلی افسرکے بیٹے دلیپ داس ، جسٹس رحمان کے دو بیٹے راشد رحمان ، اسد رحمان اور محترمہ کے شوہر شامل تھے۔ ان میں سے کوئی بھی بلوچستان کا رہنے والا نہیں تھا بلکہ پانچوں پنجابی تھے۔ کھوج لگانے پر پتہ چلا کہ ’ لندن کلب‘ کے یہ پانچوں نوجوان ایک سال تک بلوچستان کے پہاڑوں میں رہے جہاں انہیں تربیت دی گئی۔ بلوچی سکھائی گئی اور وضع قطع بلوچوں ایسی بنائی گئی۔ جہاں یہ پانچوں پاک فوج کے خلاف گوریلا جنگ لڑتے رہے۔ دلیپ داس سندھ کی سرحد کے قریب سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ سیدہ میمنت کے شوہر کو 1975 میں ذوالفقار علی بھٹو نے غداری کے الزام میں گرفتار کرکے دوسرے بلوچ علیحدگی پسندون کے ساتھ حیدرآباد جیل میں قید کردیا۔ 1978 میں جنرل ضیاء کی طرف سے عام معافی کے تحت ان تمام بلوچ رہنماوں کی رہائی کے ساتھ ان کو بھی رہا کردیا گیا۔
اب آتے ہیں اصل کہانی پر۔ محترمہ میمنت حسین اپنے اصل نام کی بجائے جگنو محسن کے نام سے مشہور ہیں۔ اور ان کی اصل وجہ شہرت ان کے یہ مشہور ترین اور متنازعہ ترین شوہر ہیں جن کا نام نجم سیٹھی ہے۔ یہ نجم سیٹھی صاحب ہی ہیں جن کی بھارتی نژاد چڑیا ممبئی اور دہلی کا دانہ چگتی اور نظریہ پاکستان کے مقدس اوراق پر گستاخانہ چونچیں مارتی رہتی ہے۔ کبھی ان کے بارے جنگ گروپ کے شاہین صہبائی کی طرف سے یورپ میں تین ملین ڈالرز کا بنگلہ خریدنے کا سکینڈل سامنے آتا ہے۔ اور کبھی یہ طلعت حسین جیسے صحافیوں کی طرف سے بے نقاب ہونے کے بعد اچانک روپوش ہو کر بدیسی آقاؤں سے تازہ ہدایات لینے ولائیت پہنچ جاتے ہیں
👇