@SabeeKazmi786@MirzaAkbarAli10 حاصل پور میونسپل کمیٹی کا انوکھا کارنامہ تیز ہوا چلنے سے شہر بھر میں متعدد فلیکسیز پھٹ گئیں نواز شریف اور مریم نواز کا فلیکس پھاڑنے کے الزام پر دکانیں سیل کر دیں ۔ کوئی پرسان حال نہیں تاجر پریشان ارباب اختیار سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
@enkidureborn دوسروں سے مختلف ہونا نہ اچھا ہے نہ برا اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ میں اپنی اصل فطرت پر قائم رہنے کی ہمت ہے خود کو چاہیں اور اتنا چاہیں کہ آپ کو اپنے لیے سہی اور غلط کا پتا لگ سکے
@iqrarulhassan ہماری دنیا کے مسائل اتنے زیادہ نہیں ہیں جتنے طنز، سوال، غلط فہمیاں، دل دکھانے والے تبصرے ہیں، اگر صرف زبان روک لی جائے تو لوگوں کے دلوں کی تکالیف کم ہو جائیں گی اور بہت سے دلوں کو سکون مل جائے گا۔
وقار پھٹھو اپنی منافقت سے باز آ جاؤ
اتنی باتیں کبھی مریم نواز پہ کر کہ دیکھو
@soldierspeaks بات اور لہجے انسان پر بڑا گہرا اثر ڈالتے ہیں آپ کسی چیز کو کسی بھی زاویے سے پیش کرو لیکن پراثر وہ زاویہ ہوگا جس کا تعلق ایموشنلی طور پر انسانوں سے ہو
اب صرف دو عہدے ہی اس کائنات پہ ایسے ہیں جن کو مکمل استثنا ہے۔
ایک آسمان پہ خدا جو ہر چیز سے برتر ہے۔
ایک دنیا میں پاکستانی فیلڈ مارشل منیرا ماچھی
جو دنیا کے ہر قانون سے برتر ہے۔ اس کا کوی احتساب نہیں کر سکتا۔
اُنہوں نے ارادہ کیا کہ یُوسف علیہ السلام کو قتل کردیں پھر اُنہوں نے چاہا کہ اُن کو بیچ دیں۔ لیکن وہ تو بادشاہ بن گئے۔۔
کبھی یہ مت سوچئے کہ حالات آپ کے خلاف ہیں
یوسفؑ کے خلاف بھی سب کُچھ تھا مگر الله اُن کے ساتھ تھا۔اور جب الله ساتھ ہو،
`تو قید بھی بادشاہی کی سیڑھی بن جاتی ہے۔`
جتنے مرضی فراڈ کر لے جتنی مرضی زمینوں پہ قبضے کر لے جتنی مرضی لوگوں کے مال ہتھیا لے جتنی مرضی رشوت سمیٹ لے جتنے مرضی مکر کر لے چالاکیاں کر لے تیری اوقات اس تصویر میں نظر آتے مردار سے زیادہ کچھ بھی نہیں ھے اب آگے تیری مرضی تیرا انجام
"عاصم منیر کی جانب سے پاکستان میں "ہارڈ سٹیٹ" کا جو تصور فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ بالکل غلط ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کا اصل مطلب ہے ایسی ریاست جہاں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، عدل و انصاف کا نظام، اور جمہوری آزادی ہو، جہاں ذاتی مفاد نہیں بلکہ ملک و قوم کا مفاد مقدم ہو۔
جبکہ عاصم منیر کی "ہارڈ سٹیٹ" سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں جمہوریت کے تمام ستونوں کو کچل کر "عاصم لاء" نافذ ہو۔ یاد رکھیں، عوام کی تائید اور حمایت کے بغیر کسی بھی ملک میں کسی “ہارڈ سٹیٹ” کا قیام ناممکن ہے۔ جو مظالم عاصم لاء کے تحت ڈھائے جا رہے ہیں، ان سے ریاست "ہارڈ" نہیں بلکہ اس کی جڑیں مزید کمزور ہو رہی ہیں۔ 26 نومبر اور مریدکے کی طرح اپنی ہی فوج، رینجرز اور پولیس کے ذریعے اپنی ہی عوام پر گولیاں برسانے سے کوئی ریاست مضبوط نہیں ہو سکتی۔
خیبرپختونخوا کے عوام نے تحریکِ انصاف کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔ اس مینڈیٹ کے تحت یہ میرا آئینی اور جمہوری حق ہے کہ صوبے کی پالیسیاں خود مرتب کروں، کیونکہ میں براہِ راست عوام کو جوابدہ ہوں۔ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا بھی یہ حق ہے کہ وہ میرے ساتھ مشاورت سے صوبے میں ان پالیسیوں کا نفاذ یقینی بنائیں، جن کے لیے عوام نے ہم پر اعتماد کر کے ہمیں ووٹ دیا ہے۔
تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا، مگر رجیم چینج کے بعد سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں تین سال سے مسلسل کہتا آیا ہوں کہ ہمیں دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہییں۔ افغانستان سے کشیدہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، عوام کے حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیرپا حل نکال سکتی ہیں۔
میرے خلاف قائم جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کو جان بوجھ کر لٹکایا جا رہا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں گزشتہ دس ماہ سے انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ مشکل سے 10 ماہ بعد کیس کی سماعت کی تاریخ ملی، مگر ضمانت کا فیصلہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔ میں تحریکِ انصاف کے تمام سیاسی قائدین، اراکینِ اسمبلی، اور وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب سے میرے تمام کیسز کی عدالتی کارروائیوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں، سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود رہیں، اور انصاف کے حصول تک اپنی موجودگی برقرار رکھیں۔ اوپن کورٹ کے کیسز میں شرکت آپ کا قانونی و جمہوری حق ہے۔
تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں نواز شریف کو جیل میں روزانہ کثیر تعداد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت تھی، فیملی کو بلا روک ٹوک رسائی حاصل تھی، بلکہ جیل میں دعوتوں تک کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس آج مجھے مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اس سے بڑی سیاسی انتقام کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
مجھے جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ پچھلے دس مہینوں میں صرف ایک بار میرے بیٹوں سے بات کروائی گئی، وہ بھی تین تین منٹ کے دو مختصر وقفوں سے۔ مجھے ناصرف بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ بطور پارٹی لیڈر، اپنے سیاسی ورکرز سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ وکلاء، سیاسی رفقاء اور اہلِ خانہ سے ملاقات میں بھی مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ یہ سراسر بنیادی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا بہنوں اور وکلأ کے ذریعے اڈیالہ جیل سے پیغام (21 اکتوبر، 2025)