🚨🚨اسٹیبلشمنٹ کی تنہائی اور حالاتِ حاضرہ!!
آج اسٹیبلشمنٹ کی تنہائی دیکھ کر حیران بھی ہوتا ہوں اور پریشان بھی۔
آج پورے سندھ میں بلاول بھٹو کے سوا، پنجاب میں مریم نواز کے سوا اور بلوچستان میں سرفراز بُگٹی کے سوا اسٹیبلشمنٹ کیساتھ کوئی کھڑا نظر نہیں آتا۔
کشمیر میں بھی اب صرف بلاول ہونگے یا مریم۔
خیبرپختونخواہ کو دیکھوں تو کوئی ایک شخص بھی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ کھڑا نظر نہیں آتا۔
آپ کتنے تنہا ہوُچکے، آپ کتنے کمزور ہوچُکے!!!
آج عوام اور حکمران میں اتنا فاصلہ ہوچُکا جتنا مشرق و مغرب میں۔
آج حکمران ساتویں آسمان پر ہیں تو عوام پاتال میں دھنسے ہوئے۔
آج جمہوریت مزاق، انصاف ناپید، آزادی اظہار غداری اور بنیادی حقوق شجرِ ممنوع ہوچُکے۔
آج صحافت مُلک دُشمنی، سیاست فساد بن گئی۔
آج صحافی ترجمان اور سیاست دان تاجر بن گئے۔
آج عوام اندرونِ مُلک خطرہ اور بیرونِ مُلک خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔
آج پاکستان میں گھٹن اور پاکستان سے باہر راحت محسوس ہوتی ہے۔
میں قائد کے پاکستان میں پیدا ہوا لیکن شاید کسی آمر کی ریاست میں لقمہ اجل ہوں گا!!!
میں آزاد ہوں لیکن میرے ہاتھ مقفل، میری زباں بند اور میری سوچ پر جابروں کا پہرا ہے۔
میں ایک آزاد مُلک کا باسی ہوں، مگر آزاد نہیں!!
سلیمان شاہ راشدی
🚨مُلک و قوم کے لیئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والی پاک فوج کو تنخواہ کا طعنہ دینے والے مولانا فضل الرحمن کا قرآن و سنت کی روشنی میں محاسبہ!
-کیا ۶ مرتبہ ممبر پارلیمنٹ رہنے والے مولانا فضل الرحمن نے جمہوریت اور پارلیمان کی حفاظت کی؟ -کیا مولانا نےاپنی تنخواہ حلال کی؟
۱۷ ویں آئینی ترمیم؟
عمران خان کی حکومت کیخلاف سازش؟
۲۶ ویں آئینی ترمیم میں مولانا کا کردار؟
@juipakofficial@OfficialDGISPR
کیا کمال کا لکھا ہے ۔ لگتا ہے صرف جسمانی نہیں ذہنی تربیت میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔
گجرات کے بچوں اور بچیوں کے مارشل آرٹس کلب کا یہ پوسٹر دل کو چھو گیا ❤️
علیمہ خان نے ایک سال سے زیادہ 52ہفتوںسے تحریک انصاف کے ہر رہنما کی منت ترلا تک کرلیا ہے کہ خان کو جیل سے ہسپتال شفٹ، ڈاکٹر سے ملوادو، 9ماہ سے ملاقاتیں بند کی ہوئ ہیں کیسز کے لیے نکلو۔ لیکن یہ اب مراعات، فاہلوں، ویڈٰیوز کی وجہ سے پھنسے ہیں۔ اب انہیں خود نکلنا پڑا ہےاور یہ خان رہائی پر ختم ہونا چاہے۔
قتل نے بے نقاب ہونا ہوتا ہے یہ قدرت کا وعدہ ہے ۔۔۔
بہاولپور میں ٹچ موبائل اور وائی فائی کی شوقین ماں نے بیٹیوں اور بیٹے کے ساتھ ملکر اپنا شوہر قتل کر ڈالا ،
لاش ایسے غائب کی کہ قیامت تک نہ ملتی مگر قتل کی واردات بے نقاب ہو گئی ۔۔۔۔
یہ واقعہ کچھ ہفتے پہلے بہاولپور میں پیش آیا جہاں عبدالمجید نامی ایک شخص اپنی بیوی اور جوان بیٹیوں کو موبائل استعمال کرنے سے منع کرتا تھا کیونکہ اسکی بیوی دو بیٹیوں اور بیٹے سب کے پاس ٹچ موبائل تھے اور دنیا تک تیز ترین رسائی کے لیے انہوں نے کچھ روز پہلے وائی فائی ڈیوائس بھی لگوا لی تھی ، والد کے بقول اسکی کوئی خاص ضرورت نہ تھی ۔ نہ تو عورت پڑھی لکھی تھی نہ بیٹیاں اتنی تعلیمافتہ تھیں کہ انٹرنیٹ اور ٹچ موبائل کے بغیر انکا گزارہ نہ ہوتا ، بیٹے کو بھی موبائل اور سوشل میڈیا کی بجائے روزی روٹی کمانے پر توجہ دینی چاہیے ۔ یہ سوچ عبدالمجید نامی اس ادھیڑ عمر شخص کی موت کی وجہ بن گئی کچھ روز قبل بھی جھگڑا ہوا عبدالمجید نے وائی فائی اتار پھینکی تو بیوی مقابلے پر آگئی بیٹیوں نے بھی ماں کا ساتھ دیا ۔ مار پیٹ بھی کی اور الٹا شوہر کے خلاف 15 پر کال کردی ، اہل محلہ اور پولیس والوں نے گھریلو معاملے کو ٹھنڈا کردیا ، واقعہ کے روز عبدالمجید اپنے گھر کی بیٹھک میں سویا تھا کہ ماں بیٹیوں اور بیٹے کے علاوہ غالبا ماں کے ایک پرانے عاشق سب نے مل جل کر عبدالمجید کو گلا دبا کر مارنا چاہا مگر اس نے خوب مزاحمت کی حالانکہ اسے چائے میں نیند کی گو۔لیاں بھی دی گئی تھیں جب معاملہ انکے قابو سے باہر ہوا تو خاتون کے عاشق نے ایک کلہاڑی سے عبدالمجید کے سر پر پے در پے وار کیے جس سے وہ موت کے گھاٹ اتر گیا ، اب ان لوگوں نے ایک بڑا صندوق خالی کیا ۔ اس میں لا۔ش ڈالی ، صندوق کو ریت سے بھر دیا اور پھر اسی بیٹھک والے کمرے میں گڑھا کھود کر اس میں صندوق سمیت گھر کے سربراہ کی لا۔ش کو دفن کردیا ۔ اس کام سے فارغ ہو کر انہوں نے خون کےد اغ صاف کیے ، اپنے خون آلود کپڑے اتارے نئے کپڑے پہنے اور گندے کپڑوں کو باہر ایک جگہ نذرآتش کردیا ۔۔۔ گھر میں قتل کی واردات کا کوئی نشان انہوں نے باقی نہیں چھوڑا ۔۔ خاتون کا عاشق چلا گیا اور ماں بیٹیاں سکوں کی سانس لے کر کھانے پکانے میں مصروف ہو گئیں ، ایک دن اور رات گزرے تو ایک چھوٹی بیٹی نے مصیبت سے جان چھوٹنے کی خبر اپنی ایک تیسری بہن کو سنائی جو والد سے بہت قریب تھی اور اسکا دو دن سے والد سے رابطہ نہیں ہورہا تھا ۔ شبانہ نامی یہ لڑکی شادی شدہ تھی اور کچھ دور اپنے گھر میں خوشحال زندگی بسر کررہی تھی ۔ جب والد کے مرنے کا سن کر یہ اپنے میکے گھر گئی اور بات پوچھی تو ماں نے دوسری بیٹوں کو پاگل قرار دے کر شبانہ سے کہا کہ بھلا اپنے سر کے سائیں کو بھی کوئی مارتا ہے تمہارا باپ تو دو لاکھ روپے لے کر آوارہ پھرنے کراچی گیا ہے ۔ آجائے گا پریشان نہ ہو اس پر چھوٹی بہنوں نے کہا ہم نے مذاق کیا تھا کیونکہ تم کئی دن سے آئی نہیں تھی ۔۔۔ لیکن شبانہ کے دل میں ایک خلش رہ گئی اسکے باپ کا فون بند تھا ضرور کوئی گڑ بڑ تھی پھر گھر کا وہ کمرہ جہاں والد رہتا تھا اسے تالہ لگا تھا جو پوری زندگی اس نے کبھی بند نہیں دیکھا تھا شک کی وجہ سے بیٹی نے 15 پر کال کی اور اپنے والد کی گمشدگی اور اپنی ماں کے اس میں ملوث ہونے کا شک بھی ظاہر کیا ، پولیس موقع پر پہنچی گھر کی تلاشی لی گئی ، اگرچہ ملزمان نے تمام شواہد مٹا دیے تھے مگر پولیس کی عقابی نظروں نے جلد تازہ کھدا فرش ، دیواروں کو دھونے کے نشانات ، اور ماں بیٹوں کے حواس باختہ ہونے کے باعث چند گھنٹوں میں لا۔ش برآمد کر لی ۔۔ ماں بییٹیوں اور بیٹے کو تھانے لے جایا جہاں انہوں نے تھوڑی سے محنت کے بعد ساری کہانی بیان کردی ، خاتون کے دیرینہ دوست کو بھی کئی روز بعد گرفتار کیا گیا کہ وہ دوردراز علاقے میں فرار ہو گیا تھا ۔ مق۔تول عبدالمجید کی بیٹی شبانہ کی مدعیت میں درج کردہ اس مقدمے میں پولیس نے ملزمان کو چالان کرکے عدالت پیش کیا تھا جہاں سے انہیں جیل بھجوا دیا گیا ہے ، اس ق۔ت۔ل کیس کی باقاعدہ سماعت ابھی شروع ہونا باقی ہے ۔ یقینا ماں بیٹیاں جیل میں ٹچ موبائل اور وائی فائی کی سہولت کے بغیر بالکل بور زندگی گزار رہی ہونگی ۔۔۔۔
بے اختیار ولی بیچارہ ممبر پارلیمنٹ بھی نہیں ہے اس کو کیا پتہ پارلیمنٹ میں کیا ہوتا ہے ! رانا عاطف
میں اس وقت ممبر پارلیمنٹ تھا جب آپ کا وزیراعظم تھا !بے اختیار ولی
بے اختیار ولی کو یہ نہیں پتہ کہ ممبر پارلیمنٹ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے رکن کو کہتے ہیں موصوف صوبائی اسمبلی کے ممبر تھے
ایرانی سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر ذہنی مریض ہے۔ اس لئے انہوں نے ایک نفسیات کا ماہر ہائر کیا ہے جو ٹرمپ کے بیانات کا جائزہ لیتا ہے اور حکومت کو مشورہ دیتا ہے کہ اس ذہنی مریض کو کیسے مناسب جواب دینا ہے۔
نامور امریکی صحافی جرمی سکیہل کا انکشاف 🔥