18 سال کا ایک نوجوان اپنی ماں کے پاس آیا اور بولا:
"امّی! اگلے ہفتے میں 18 سال کا ہو جاؤں گا، اس لیے اب کچھ قوانین بدل جائیں گے۔
میرا کرفیو رات 10 بجے نہیں بلکہ 2 بجے ہوگا،
میں کہیں جانے کے لیے اجازت نہیں مانگوں گا، صرف اطلاع دوں گا،
اور اب چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری بھی میری نہیں ہوگی۔"
اور ہاں امّی! اگر میری کسی بات پر آپ ناراض بھی ہوں تو اب مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتیں، کیونکہ اب یہ قانوناً زیادتی یا حملہ شمار ہوگا۔
ماں نے سکون سے ساری بات سن لی اور کہا:
ٹھیک ہے،
چونکہ تم بالغ ہو رہے ہو، تو میری طرف سے بھی چند تبدیلیاں ہوں گی۔
اب اپنی سواری کا انتظام خود کرو، اپنا کھانا خود بناؤ،
نوکری تلاش کرو اور بجلی کے بل میں حصہ ڈالو۔
اور یاد رکھو، رات 10 بجے کے بعد میرے گھر کا دروازہ بند ہو جائے گا؛ جہاں جاؤ گے، وہیں رات گزارو گے۔
اور بیٹا! یہ جو تم نے کہا کہ اب مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھایا جا سکتا، تو اطمینان رکھو، میں بھی اب تمہیں بچہ نہیں سمجھوں گی۔ اگر کبھی معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچا تو سیدھا پولیس کو بتاؤں گی کہ ایک جوان آدمی اپنی ماں سے الجھ رہا تھا۔
کیوں؟ منظور ہے یہ نیا معاہدہ؟
یہ سن کر نوجوان فوراً بولا:
"امّی، اگر اجازت ہو تو میرا کرفیو 10 بجے ہی رہنے دیں!"
زندگی میں حقوق اور آزادیوں کا مطالبہ کرنا آسان ہے، لیکن ان کے ساتھ آنے والی ذمہ داریوں کو قبول کرنا ہی حقیقی بلوغت اور پختگی کی علامت ہے۔
دل موہ لینے والا منظر
سعودی عرب مہبطِ وحی اور نبی آخر الزماں کی سرزمین ہے۔ خیر و بھلائی کا مرکز۔ جہاں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے عرب معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا اور لاکھوں لوگوں کی آنکھیں نم کر دیں۔ یہ واقعہ قحطان قبیلے کے ایک شخص سے متعلق ہے، جنہوں نے اپنے جوان بیٹے کے قاتل کو قصاص سے صرف چند گھنٹے قبل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے معاف کر دیا۔
10 فروری 2019 کو جدہ شہر کے مشرقی علاقے الحمدانیہ میں ایک اجتماعی جھگڑے کے دوران پیش آیا، جس میں نوجوان احمد القريقري الحربي جاں بحق ہوئے تھے۔ عدالتوں میں مقدمہ چلا، شواہد اور گواہوں کی روشنی میں قاتل مترك عایض المسردي القحطاني کو قصاص کی سزا سنائی گئی اور برسوں کی قانونی کارروائی کے بعد بالآخر سزائے موت کے نفاذ کا وقت مقرر ہو گیا۔ قاتل کے اہل خانہ اور قبائلی عمائدین مسلسل مقتول کے والد سے رابطے میں رہے اور انہیں قصاص معاف کرنے کے لیے مختلف مالی پیشکشیں کی جاتی رہیں۔
جدہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ مترك القحطانی کی جانب سے حميد القريقري کو لاکھوں ریال کی پیشکش کی گئی، لیکن انہوں نے ہر قسم کی مالی ترغیب کو مسترد کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بیٹے کے خون کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔ جب قصاص کے نفاذ میں صرف چند گھنٹے باقی رہ گئے تو وہ خود چل کر قاتل کے گھر پہنچ گئے اور اعلان کر دیا کہ وہ قاتل کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے اجر کی امید میں معاف کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں ایک ریال بھی قبول نہیں کریں گے۔ یہ سن کر قاتل کی ماں ان کے پاوں میں گر گئی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ قاتل اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا ہے۔
اس واقعے کو مزید غیر معمولی اس لیے سمجھا گیا کہ انہوں نے نہ صرف قصاص کا حق چھوڑا بلکہ وہ مالی معاوضہ بھی قبول نہیں کیا جو شرعی اور قانونی طور پر مقتول کے ورثاء کو دیا جا سکتا تھا۔
سعودی عرب میں قتل عمد کے مقدمات میں اگر اولیائے دم قصاص سے دستبردار ہو جائیں تو دیت وصول کی جا سکتی ہے۔ موجودہ عدالتی نظام کے مطابق قتل عمد میں دیت کی مقدار تقریباً چار لاکھ (400,000) سعودی ریال سمجھی جاتی ہے، جبکہ قتلِ خطا کی دیت تین لاکھ (300,000) سعودی ریال ہے۔ لیکن مترك القحطانی نے نہ قصاص لیا، نہ دیت لی اور نہ ہی کسی قسم کا مالی معاوضہ قبول کیا۔ انہوں نے قاتل کی جان بخشی کو اپنی آخرت کا سرمایہ بنا لیا۔
اسے عربی روایات میں مروّت، نخوت، حلم اور عفو و درگزر کی ایک نادر مثال سمجھا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب ایک باپ اپنے جوان بیٹے کے قاتل کو تختۂ دار پر دیکھنے کا پورا حق رکھتا تھا، اس نے انتقام کے بجائے درگزر کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں اس واقعے کو شہامت، اخلاق اور اسلامی تعلیماتِ عفو کا ایک روشن نمونہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بلاشبہ اپنے بیٹے کے قاتل کو معاف کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں، لیکن جو لوگ ایسا کر گزرتے ہیں وہ معاشروں میں صرف ایک فرد کو زندگی نہیں دیتے بلکہ رحم، درگزر اور انسانیت کی ایسی مثال قائم کر جاتے ہیں جو نسلوں تک یاد رکھی جاتی ہے
یہ قاری خنیف ڈار ہیں، جن کے خاندان کے 9 افراد بھارتی قابض افواج نے شہید کئے اور یہ مہاجر بن کر پاکستان آئے!
آج کن کترے انکو بتا رہے ہیں کہ تم کشمیری نہیں بلکہ پاکستانی ہو، تمھارا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں
اور ہمارے صحافی اسے کن کتروں کا بنیادی حق بولتے ہیں
استغفرُللہ
لڑکی نے شوہر اور سسرال کی مار پیٹ سے تنگ آکرعلیحدگی اختیار کی تھی یہ لڑکا سابقہ شوہر کا کزن تھا اسنے عکیحدگی کے بعد لڑکی کو بچے کے بغیر شادی کی پیشکش کی جوکہ لڑکی نے ٹھکرا دی ۔ طیش میں آکر اس جانور نے اس کے بچے کی جان لے لی
اڈے میں ایک ویگن کھڑی تھی سواریاں اس میں سوار تھی فرنٹ سیٹ سے پچھلی سیٹ پر ایک پہلوان نما بندہ بیٹھا آستین چڑھائے گریباں کھولے جو آتا کہتا راستہ دے دیں بھائی جان!
اسے کہتا اوئے تو مینو جاندا نہیں ایں تین چار شریف لوگ اس کی یہ دھمکی سن کر تو چلے گئے، لیکن پھر اک حافظ صاحب آئے جن کو اس نے کہا اوئے تو مینوں جاندا نئی ایں انہوں نے اسے اٹھایا اور دو تین بار زمین پہ پٹخا اور پوچھا ہونڑ دس اوئے تو کونڑ ایں؟
تو اس نے روتے ہوئے کہا سر جی میں بیمار آں!
یہ وہ بیمار ہیں.....!!
عمران خان کے 105 جھوٹ ایک ہی ویڈیو میں بے نقاب!
چیلنج ہے کہ کوئی بھی یوتھیا ان بیانات کا مدلل جواب دے دے۔ دعوے، وعدے اور بیانات سب ریکارڈ پر موجود ہیں، مگر یوٹرن کے دفاع میں آج خان صاحب خود بھی ثابت نہیں کر سکتے۔
@ImranKhanPTI#PTI
بھارت نے کھربوں روپے لگا کر دھریندر جیسی فلم بنائی تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جا سکے
لیکن پاکستان کے نوجوان سستی ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرکے بھارت کو تاریخی جواب دے رہے ہیں!
یہ رہا دھرندر کا جواب
"چیا ڈیٹاکس ڈرنک جو انٹرنیٹ پر وائرل ہے! 💚🥒
کھیرا، سیب، ادرک اور لیموں والا یہ مشروب آنتوں کی صفائی، قبض، اپھارہ ختم کرتا ہے اور جسم کو ڈیٹاکس کرتا ہے۔
روزانہ آزمائیں، صحت کا زبردست ٹوٹکا! ✨
مکمل نہیں پڑھیں گے تو مزا نہیں آئیگا
قصہ "عین" کے "غین" ہونے کا🫡
ع 🫣غ
پچھلے دنوں ہمارے ایک کرم فرما جو سیاست سے زیادہ ستاروں کی گردش اور حروفِ تہجی کے گورکھ دھندوں میں الجھے رہتے ہیں بڑے رازدانہ انداز میں کہنے لگے " کیا آپ نے نوٹ کیا کہ پچھلے چند برسوں میں ہمارے ملک کا ستارہ 'عین' کے گرد گھوم رہا تھا؟" میں نے عرض کیا "بھئی ہم تو 'غین' سے غریب لوگ ہیں ہمیں حروفِ تہجی کی اس عیاشی سے کیا لینا دینا؟" مگر جب انہوں نے تفصیل بتائی تو میں سچ مچ سر پکڑ کر بیٹھ گئی کہ اس جدید دور میں بھی لوگ کیسے کیسے نظریات کے اسیر ہو سکتے ہیں۔
معلوم ہوا کہ بنی گالا کے "سیاسی مدرسے" میں داخلے کا پہلا قاعدہ ہی یہ تھا کہ آپ کا نام 'عین' سے شروع ہونا چاہیے۔ سنا ہے کہ پنکی پیرنی نے خان صاحب کو توہم پرستی کے اس "تاریک غار" میں دھکیل دیا تھا جہاں عقل کا گزر ممنوع تھا اور صرف موکلوں کی حکمرانی تھی۔ پیرنی نے خان صاحب کو کچھ اس طرح "ہپناٹائز" کر رکھا تھا کہ وہ صاحبِ عقل لیڈر سے ایک "مطيعِ محض" مرید بن گئے تھے۔ یہاں تک کہ پیرنی کے کہنے پر وہ مزاروں پر سجدے کرنے لگے اور عالمِ اسلام کے لیڈر بننے کا خواب دیکھنے والا شخص ستاروں کی چال اور علم الاعداد کی جمع تفریق میں اپنی بقا ڈھونڈنے لگا۔
پیرنی نے خان صاحب کے گوش گزار یہ بات "من و عن" اتار دی تھی کہ "حضور! ستارے کہہ رہے ہیں کہ جس کے نام کا تالا 'عین' کی چابی سے کھلے گا اقتدار کا ہما اسی کے سر پر بیٹھے گا۔" پھر تو جیسے 'عین' کی برسات ہو گئی۔ پہلے عارف علوی صاحب کے دانتوں کی مسکراہٹ آئی، پھر عمران اسماعیل کے وہ تاریخی سینڈوچز یاد آئے جن کی خوشبو گورنر ہاؤس کی دیواروں سے باہر تک آتی تھی۔
حد تو یہ ہے کہ جب وسیم اکرم پلس کی تلاش شروع ہوئی تو قدرت کو عثمان بزدار مل گئے۔ بزدار صاحب کو دیکھ کر تو ایسا لگتا تھا جیسے وہ خود بھی 'عین' سے 'عاجزی' کا پیکر بنے بیٹھے ہیں یا شاید وہ کسی پیرنی کے ورد کا نتیجہ تھے۔ سفرِ شوق آگے بڑھا تو آزاد کشمیر سے عبدالقیوم نیازی برآمد ہوئے پھر عمر ایوب اور آخر میں علی امین گنڈا پور کے اس "مخصوص ٹچ" تک جا پہنچا جس کا علم الاعداد سے تو پتہ نہیں لیکن اخلاقیات سے دور کا واسطہ نہیں۔
مگر صاحب! یہاں ایک ہولناک 'ٹوئسٹ' آگیا۔
خوابوں کی اس نگری میں رہنے والے یہ بھول گئے تھے کہ 'عین' صرف ان کے مہروں میں نہیں تھی، بلکہ کچھ 'عینیں' ایسی بھی تھیں جو راولپنڈی کے مخصوص موسم میں پروان چڑھی تھیں۔ قدرت نے وہ بازی پلٹی کہ 'عین' کا مقابلہ 'عین' سے ہی پڑ گیا اور جادو ٹونے کے سارے عمل الٹے پڑ گئے:
ادھر سے عاصم منیر اور عاصم ملک کی 'عین' نمودار ہوئی تو پرانی تمام "روحانی بیساکھیاں" ٹوٹ گئیں۔ اور عاصم ملک سونے پر سہاگہ ۔
عدلیہ کے ایوانوں سے عیسیٰ (قاضی فائز) نے اپنی 'عین' کا ایسا چشمہ لگایا کہ انصاف کے پرانے ترازو ہی بدل گئے۔
رہی سہی کسر عون چوہدری اور علیم خان نے "عین سے عینک" اتار کر اور "غین سے غصہ" دکھا کر پوری کر دی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ساری 'عینیں' غین (یعنی غائب یا غیر حاضر) ہو گئیں۔ کسی کو "غین سے غداری" کا تمغہ ملا تو کوئی "غین سے غار" یعنی روپوشی کی نذر ہو گیا۔
میں تو بس یہی کہہ سکتی ہوں کہ جو لوگ قوم کی تقدیر کا فیصلہ مزاروں پر سجدوں اور تسبیح کے دانوں کی گنتی سے کرنا چاہتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ کائنات کا اصل 'علیم و عادل' جب 'عین' سے عدل کرنے پر آتا ہے تو بڑے بڑے ساحروں کے جادو اور پیروں کے نقش دھول ہو جاتے ہیں۔
بیشک اصل کارساز وہی ہے!
*حیدرآباد: حیدرآباد تھانہ حسین آباد کی حدود میں واقع واپڈا واٹر روم کالونی میں امان اللہ نامی شخص کی جانب سے مبینہ طور پر روزانہ کی بنیاد پر اپنے بچوں پر تشدد کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔*
علاقہ مکینوں کے مطابق مذکورہ شخص نشے کی حالت میں گھر میں ہنگامہ آرائی کرتا ہے اور معصوم بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے، جس سے اہلِ علاقہ میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔
مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اور متعلقہ ادارے فوری نوٹس لے کر بچوں کو تحفظ فراہم کریں اور واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
بیٹے کے سامنے باپ کو تھپڑ مارنے والے موصوف پہلے اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھے سزا کے طور پر انکے عہدے میں تنزلی کر کے انسپیکٹر بنایا گیا اسکے بعد ایک اور محکمہ جاتی انکوائری کے نتیجے میں سزا کے طور پر دوبارہ عہدے میں تنزلی کر کے سب انسپیکٹر بنایا گیا ۔ سب انسپیکٹر ہونے کے باوجود محمد اقبال انسپکٹر کے رینک لگا کر چھاپہ مار کاروای میں دھڑلے سے وردی پہنے ہوے ہیں۔ کوی پوچھنے والا ہے ؟ کہاں ہیں وفاقی وزیر ء داخلہ محسن نقوی ؟ کہاں ہیں DG FIA ڈاکٹر عثمان انور؟ کہاں ہیں ڈائریکٹر FIA کراچی ژون منتظر مہدی ؟ کیا جنگل کا قانون ہے یا کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔؟
جینا علی کو پیسے یا مالی سپورٹ نہیں چاہیے ۔ہارورڈ یونیورسٹی اسے پاکستان کی نمائندگی کے لیے بلا رہی ہے۔ وہ دنیا کے بارہ ذہین ترین طالب علموں میں واحد پاکستانی ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔ اس کا المیہ دیکھیں
میرا نام جینا علی ہے اور میں آئی سی ایس پارٹ 1 کی طالب علم ہوں۔ میں نے ہارورڈ، USA میں بین الاقوامی ریسرچ اولمپیاڈ (IRO) فائنل کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔
یہ باوقار اور مسابقتی سائنس اور تحقیقی اولمپیاڈ تھا جس میں دنیا بھر سے ہزاروں طلباء نے حصہ لیا۔
ان ہزاروں طلباء میں سے صرف 293 طلباء ہی کوارٹر فائنل میں پہنچنے اور سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ میں بھی ان میں شامل تھی۔
پھر دنیا بھر کے ان 293 طلباء میں سے صرف 12 طلباء کو فائنلسٹ نامزد کیا گیا۔ ان 12 طلباء میں سے میں واحد پاکستانی طالبہ ہوں جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کروں گی۔ ممکن ہے میں پہلے نمبر پر آوں لیکن پاکستانی طالبہ ہونے کی وجہ سے شاید میں جا ہی نہ سکوں اور میرے خواب ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں
مجھے اس کے لیے رقم نہیں چاہیے ۔ میں پنجاب کالج کی سٹوڈنٹ ہوں ۔ مجھے میرے کالج نے سپانسر کر دیا ہے کہ میری ٹکٹ اور ویزہ کے اخراجات کالج کی طرف سے ہوں گے ۔ مڈل کلاس ہونے کے باوجود کچھ اخراجات میرے والدین کر لیں گے ۔ میرا مسئلہ پیسے نہیں ہیں بلکہ اس مقابلے میں شریک ہونا ہے ۔
مجھے ویزہ انٹرویو کے لیے اگلے سال کی تاریخ دی گئی ہے جبکہ یہ مقابلہ اگلے مہینے 19 سے 21 جون کو ہے ۔ میرے پاس ہارورڈ کا لیٹر ہے ۔ اپنے کالج کا لیٹر بھی ہے ۔ میری ٹکٹ کا مسئلہ بھی حل ہو چکا ہے لیکن اگر ویزہ کے لیے انٹرویو ہی اگلے سال ہو گا تو میں اگلے مہینے کیسے جا سکوں گی ؟؟
مجھے حکومت سے صرف اتنی سپورٹ چاہیے کہ مجھے بروقت ویزہ اور ٹکٹ مل جائے ۔ میں اس عالمی سطح کے مقابلے میں پاکستان کی واحد سٹوڈنٹ کے طور پر شرکت کر سکوں اور میری اتنی محنت ضائع نہ ہو ۔ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا چاہتی ہوں ۔ میں اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہوں ۔
نوٹ :
اس بچی اور اس کے والدین نے مجھ سے رابطہ کیا۔ لوگ سمجھتے ہیں میرے بہت تعلقات ہیں اور میری وجہ سے ان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔ اللہ نے بھرم رکھا ہوا ہے ورنہ سچ یہ ہے کہ خود مجھے بھی نہیں علم کہ یہ کام کون کر سکتا ہے اور جو کر سکتے ہیں وہ غالبا میرے مہربان نہیں ہیں ۔۔ میں حقیقتا اس بچی کے لیے پریشان ہوں ۔ میں اس سے کبھی نہیں ملا لیکن یہ جانتا ہوں کہ ہمارا ٹیلنٹ اسی طرح ضائع ہوتا ہے ۔ آپ کچھ کر سکتے ہیں تو اس کے لیے لازمی کریں ۔ نہیں کر سکتے تو اس پوسٹ کو اتنا شیئر کر دیں کہ یہ ان تک پہنچ جائے جو اس ذہین بچی کا مسئلہ حل کر دیں (سید بدر سعید )
@MohsinnaqviC42@TararAttaullah
پنڈی میں ایک پنجابی کا پیسہ دوسرے صوبے سے آئے وزیرستانی پختون نے دینا تھا واپسی کے مطالبے پر پنجابی نے قتل کر دیا جواباً قانونی کروائی کے بجائے اُس پنجابی کو باقی جاہلوں نے قتل کر کے گلیوں میں گھسیٹا اور قاتل کو وزیرستان فرار کروا دیا
اس کے اہلخانہ اب گرفتار ہیں جس پر دوسرے صوبوں سے آئے کاروبار پر قابض وزیرستانی سراپا احتجاج ہیں
پنجاب کا پنجابی بلوچستان جا کر کاروبار نہیں کرسکتا لاشیں آتی ہیں کشمیر جا کر زمین نہیں خرید سکتا پختونخواہ جا کر کاروبار کرے گا تو بھگا دیا جائے گا
پنجاب کے کاروبار پر اس قابض محسودی مافیا کو نکال کر مقامی لوگوں کو کاروبار کے مواقع فراہم کریں
جنگلی پن پنجاب میں ہرگز نہیں چلنا چائیے اس قاتل کو گھسیٹ کر لائیں تاکہ قانون اپنا راستہ لے سکے
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 1066 زخم آئے ہیں کلہاڑی سے ڈنڈوں سے سگریٹ سے جلا کر تشدد کیا گیا ہے ان جاہل محسودوں کی خواتین نے ساتھ کر گھر پر دھاوا بولا ہے ویڈیوز تمام ریکارڈ موجود ہیں عوام اب پنجاب حکومت کو سی سی ڈی کو دیکھ رہی ہے میڈیا کے اللے تللے سب خاموش 🖐🖐