پیارے فالورز، آپ نے گھبرانا نہیں ہے!
ٹویٹر نے ویریفکیشن کرتے ہوئے فالو نگ لسٹ صفر کردی ہے، اس پوسٹ کرنے کے 2 ، 3 گھنٹے میں ٹھیک ہوجائے گی۔
لاکن
اس دوران انفالو کرنے والوں کو انفالو کردیا جائے گا۔
کوئی اس کی وضاحت کرے گا یہ کیا تبدیلی آئی ہے کیا اب یہ قانون بنا رہے کہ جو ایک دفعہ 201 یونٹ استعمال کرے گا وہ ہمیشہ پھر زیادہ بل دے گا پہلے یہ سزا چھ مہینے ہوتی تھی ؟
اگر تو اس کا یہ مطلب تو پھر غریب کئ مکمل تباہی ہے 201 یونٹ کا بل بارہ ہزار ہے اور آپ ہمیشہ اتنا بل دو گے
کے پی حکومت عوامی تنقید کے بعد بل واپس لینے پر تیار ہو گئی ہے داد دیجئے نون لیگ کو آج تک الیٹ کی مراعات وزیروں کی نو سو فیصد تنخواہ سپیکر چئیرمین سینٹ کی چیپڑ پھاڑ تنخواہ ججوں کی پینشن میں سات سات لاکھ کا اضافہ سمیت کسی کام سے کبھی پیچھے نہی ہٹی ہے بھلے جتنی مرضی تنقید کر لو یہ تو اراکین اسمبلی کے بزنس ٹکٹ تک پچیس سے بڑھا کر تیس کر چکے ہیں
موجودہ حکومت نے ابھی تک کوئی اقتصادی معجزہ نہی کیا بس بجلی گیس کے بلوں پر عوام کی ہڈیاں تک نچوڑ لی ہیں جنگ اخبار کی خبر کے مطابق پیٹرول کی بنیادی لاگت 178 روپے 77 پیسے بنتی ہے حکومت اس پر 118 روپے مختلف ٹیکس کے وصول کرتی ہے اور وہی پیٹرول 297 روپے لیٹر بیچتی ہے
یہ ظلم ہے جبر ہے عوام کا استحصال ہے جو شہناز حکومت ٹکا کر کر رہی ہے
تو فرمائیے محترمہ اب ان کے ساتھ کیا ہونا چاہیے۔۔؟
خدانخواستہ اگر یہی درندے آپ کے خاندان کی کسی خاتون کے ساتھ ایسا ہولناک جرم کرتے تو آپ کی نگاہ میں ان کا کیا انجام ہونا چاہیے بتائیے۔۔۔
رضا ڈار کے ساتھ قانون ضابطہ دیکھا جائے گا یا سی سی ڈی استعمال کی جائے گی ۔۔؟
پاکستان میں کوئی ٹیکس نہی دیتا ہے کہنے والے وزیروں کے منہ پر یہ مل دو پچھلے مالی سال میں ایکسپورٹر ، رئیل اسٹیٹ ،ریٹیلر کے مشترکہ ٹیکس سے زیادہ تنخواہ داروں نے تقریباً ساڑھے چھ سو ارب ٹیکس دیا
باقی بجلی کے بلوں اور پیٹرول وغیرہ سے نکالا ہے جبکہ اگر سبسڈی نکال کر دیکھیں تو آٹھ ارب ڈالر کی سبسڈیاں یہ الیٹ طبقات لے جاتے ہیں
اس ویڈیو کو غور سے دیکھیں ابھی سے شور مچائیں آواز اٹھائیں ورنہ بجلی کے بل ڈبل ہونے جا رہے ہیں
یہ جو بل پر سبسڈی اور کیو آر کا ڈرامہ یہ بجلی مہنگی کرنے کے لئے ماحول بنا رہے ہیں اس بھائی نے درست ایکسپلین کیا کہ اتنا بل نہی جتنی سبسڈی بتا رہے جو جھوٹ ہے
شہباز شریف کی حکومت کی وجہ سے نواز شریف کی سیاست چل رہی ہے، مگر حقیقت میں وہ ایک لاش کی طرح پھر رہا ہے۔ ڈیل نے اس کی سیاست کو دفنا کر برباد کر دیا! حفیظ اللہ نیازی
#pakistan@hafeezullah_k
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
وفاقی وزارتوں میں اربوں کی بے قاعدگیاں، 19 کھرب کے بیرونی قرضے، ارکان اسمبلی کیلئے 75 ارب روپے کی اسکیمیں، آڈٹ رپورٹ کے حوالے سے پرو حکومتی صحافی انصار عباسی کی خبر۔۔!!
آپ معاملہ یوں دیکھیں کہ ایک بجٹ دینے پر وزارت خزانہ اور وزیراعظم کے تمام ملازمین کو چھ مہینے کی ایکسٹرا تنخواہ بطور بونس دے دی
جبکہ عام غریب ایک یونٹ 200سے اوپر استعمال کر لے اسے چھ مہینے کے لئے بارہ ہزار بل بھیج دیتے ہیں
یہی آپ کے بل سے وصولے چھ مہینے کے پیسے ان کی عیاشیوں پر لگ رہے ہیں
حکومت پاکستان نے تقریباً 24 ارب روپے صحت کیلئے رکھے ہیں یعنی 25 پیسے روزانہ ایک شخص کی صحت پر خرچ ہوں گے، جبکہ ایک رکن اسمبلی کا ایک دن کا خرچہ ایک لاکھ 98 ہزار روپے ہے، یعنی 700 گنا زیادہ! آسمان پھٹا کیوں نہیں؟؟ سابق صدر لاہور چیمبر ابوذر شاد
#Pakistan#Budget2026#economy
عمران خان کے دور میں جب پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 17 روپے تھی تو شہباز شریف نے قوم کو کہا کہ اس نظام کے خلاف جنگ کرکے انقلاب لانا ہوگا ،اب فی لیٹر پر ٹیکس تقریباً 170 روپے ہے ، تو اب عوام کو کیا کرنا چاہیے ؟؟؟ صدیق جان
@SdqJaan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
پاکستان کی ضرورت کی نوے فیصد ایل پی جی ملک کے اندر پیدا ہوتی ہے جس کی پیداواری لاگت، ٹھیکے کا خرچہ ڈال کے، چھبیس روپے فی کلو گرام ہے۔ تا ہم اوگرا کہتی ہے کہ مقامی تیار کردہ ایل پی جی بھی عالمی قیمت یعنی ساڑھے تین سو روپے پر خریدی اور بیچی جائے۔ اگر وفاقی کابینہ کے ایک رکن کو اس امر کا نہیں پتہ تو اندازہ لگا لیں کہ ملکی معاملات کیسے لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔
اللہ پاکستان پر رحم کرے
حکومت کا صاف صاف اعلان ہے کہ آپ بجلی استعمال کریں نا کریں سولر لگائیں بجلی بند کر کے بیٹھ جائیں آپ نے سیٹھ کے لگائے نجی بجلی گھر کا بھتہ ہر حال میں دینا ہے
غریب عوام دشمن اس آدمی کو سرکاری افسران کو ماہانہ ملنے والے سینکڑوں مفت یونٹس پر کوئی تکلیف نہیں, ریٹائرڈ ججوں کو ہزاروں یونٹس ماہانہ پر بھی کوئی تکلیف نہیں, IPPS کو بجلی بنائے بغیر اربوں روپے دینے پر بھی تکلیف نہیں. اگر تکلیف ہے تو 200 یونٹس والوں سے, اپنی جیب سے لاکھوں روپے خرچ کرکے سولر لگوانے والوں سے. اللہ تعالیٰ صرف بدترین دشمن کو ہی @akleghari جیسا وزیر نصیب کرے.
یہ ہیں وفاقی وزیرِ محافظِ کپیسٹی پیمنٹس اویس لغاری
ان حضور کے مطابق جو آدمی اپنی چھت پر سورج کی روشنی قید کر کے بجلی کا بل کم کرے، وہ 'بوجھ' بن جاتا ہے، اور جو قوم کی جیب سے اربوں کھینچ کر بند پڑے کارخانوں اور بجلی گھروں کے معاہدے پالے، وہ معیشت کا محسن کہلاتا ہے۔
اصل جرم بجلی بچانا نہیں، ان ہاتھوں سے نکل جانا ہے جو برسوں سے عوام کی جیب کو اپنی جاگیر سمجھتے آئے ہیں۔ اب رعایا نے سورج سے دوستی کر لی ہے تو دربار کو تکلیف ہو رہی ہے۔"
اویس لغاری نے الزام لگایا لوگ سولر لگا کر دو سو یونٹ سے نیچے آ رہے یہ بے شرم یہ نہی بتا رہا کہ سلیب سسٹم کا عذاب بھی تو موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے 201یونٹ پر 11ہزار تک کا بل وہ بھی چھ مہینے لیتے ہیں
سیدھی طرح کہے کہ بند بجلی گھروں کے سیٹھوں کا جیب ہم نے بھرنا ہے اور اس میں مشکل ہو رہی ہے
پہلے کہا گرین میٹر والوں کی وجہ سے باقی صارفین کو مہنگی بجلی مل رہی ان پر ٹیکس لگے گا اب کہہ رہے جس نے بھی سولر سسٹم لگایا اور اس وجہ سے اس کا بجلی کا بل کم ہو گیا بھلے گرین میٹر نہی بھی ہے وہ مجرم ہے وہ سسٹم پر بوجھ ہے اب ان پر ٹیکس کی تیاری ہے
جبکہ نجی بجلی گھر مفت بجلی لینے والے بجلی چوری کرنے والوں بارے مکمل خاموش ہیں
امریکہ میں اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار صاحب نے کہا ہے اپنے وطن سے محبت کا ثبوت دیں اور اپنے ملک میں انویسٹ کریں
میرے اسحاق ڈار صاحب سے پانچ سوال ہیں:
پہلا سوال: اسحاق ڈار اور ان کے بچوں کی یو اے ای میں کتنی انویسٹمنٹ ہے اور ان کے بچے خود کب اپنی انویسٹمنٹ پاکستان لا رہے ہیں؟
دوسرا سوال: اووسیز پاکستانیوں کے سیاسی نظریے اور رائے کا آاحترام کرنے کے لیے آپ تیار ہیں؟ اور ان سے آپ نے ووٹنگ رائٹ کیوں چھینا تھا؟
تیسرا سوال: اوورسیز پاکستانیوں کے سرمائے کا تحفظ کون کرے گا؟ کیا آپ وعدہ کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ہونے کا الزام لگا کر ٓپ ان کی فیکٹریاں اور پلازے نہیں گرائیں گے؟ ان کے اوپر دہشت گردی کے مقدمے نہیں بنائیں گے، ان پہ پابندی نہیں لگائیں کے کہ وہ اپنا آزاد سیاسی نظریہ نہ رکھیں
چوتھا سوال: کیا کسی ڈسپیوٹ کے صورت میں عدالتیں ان کو انصاف دیں گی یا طاقتور کے ساتھ کھڑی ہوں گی؟
پانچواں سوال: شریف خاندان پہ برا وقت آیا تو آپ پھر سے ملک چھوڑ کے تو نہیں جائیں گے؟
نوٹ: میں خود بھی چاہتا ہوں کہ اوورسیز پاکستانی پاکستان میں ضرور انویسٹ کریں، مگر یہ بھی چاہتا ہوں پھر ان کے اس عمل کا احترام بھی کیا جائے
صنعتکاروں نے بھی پیپلزپارٹی حکومت سے سوال کردیا، کہا کہ کراچی کیلئے اکٹھا کیے گئے 1500 ارب روپے کہاں گئے؟، پیسہ شہر کی ترقی پر کیوں خرچ نہ ہوا۔
صنعتکاروں نے صوبائی حکومت سے جواب مانگ لیا، سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی شبیر منشا نے کہا 5 سال میں صنعتکاروں سے انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کی مد میں حکومت سندھ نے 1500 ارب روپے وصول کئے۔
انہوں نے کہا کہ رقم کراچی پر لگتی تو نظر آتی، کراچی ایڈہاک کی بنیاد پر چل رہا ہے، حکومت تب حرکت میں آتی ہے جب کوئی حادثہ ہوتا ہے۔
#SamaaTV #Pakistan #karachi #traders #businessman #CessTax #PPP #MQMPakistan
مریم نے بجٹ لاہور میں سہی کہیں تو خرچ کیا ہے مگر پی پی تو سندھ کا تین ہزار چار سو ارب کا بجٹ سترہ سال سے بوٹوں میں بھر کر دوبئی بھیج رہی ہے ملک ریاض کو سندھ کی تین ہزار ارب کی زمین مفت تھما دی تھی یہ برطانیہ والا ایک سو نوے ملین پاؤنڈ وہی سندھ کا پیسہ ہے
لاہور میں پیسہ لگا نظر آتا ہے کراچی کی تو ایک یونیورسٹی روڈ سترہ سال میں بنی نہی الگ صوبہ اگر بننا تو کراچی کا حق سب سے پہلے ہے