@SanaYousafzai9 وہ صحت کارڈ یاد ہے نا جو عوامی نیشنل پارٹی نے سرعام پھاڑ دیا تھا
اپنی ترقی تو برداشت بھی نہیں ہوتی تم لوگوں سے پھر دوسروں کو دیکھتے ہو کہ پنجاب ترقی کر رہا ہے
سالا جاھل
بنگلہ دیش ۔ کیا سب اچانک ھوا ؟
21 سال تک اقتدار میں رہنے والی شیخ حسینہ واجد 5 مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوہیں ۔
لیکن
گراونڈ ریالٹی کچھ اور ہے ۔ شیخ حسینہ صرف ایک بار منتحب ہوئی باقی ہر بار زور زبردستی دھاندلی کر کے جیتی۔ آپ الیکشن ہسٹری چیک کریں۔ ایک بار تو تمام پارٹیز نے الیکشن بائکاٹ کیا اور وہ بلا مقابلہ منتحب ہوئی
حسینہ نے کبھی نگران گورنمنٹ نہی بنائی ہر الیکشن اپنی حکومت کی نگرانی میں کروایا
اپوزیشن کو سختی سے کچلنے کا ہر حربہ استعمال کرتی رہیں ۔ جماعت اسلامی ہمیشہ زیرِ عتاب رہی ۔ لیڈران کو پھانسی دی گئی ۔
یہ سب وہ چنگاریاں تھیں جو پنپتی رہیں اور آتش فشاں تب بنی جب حسینہ نے نوجوانوں کو ہی نشانے پر رکھ لیا
کوٹہ سسٹم کے نام پر میرٹ کا استحصال کیا ۔ جائز مطالبات سن��ے یا ماننے کی بجائے 300 بےگناہ نوجوان قتل کرائے۔
آج ذلیل رُسوا ہو کر بھاگی
بنگہ بندھو باپ کے مجسمے بھی تڑوا گئ
جب کسی سے نفرت حد درجے بڑھ جائے تو اس کے ہر تعلق سے بھی نفرت ہو جاتی ہے ۔ یہ ہے وجہ مجیب کے مجسمے توڑے جانے کی..
تحریر-نئیر سعید..