*موڈیز (Moody's) کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں Caa1 سے B3 میں بہتری اور آؤٹ لک کو مستحکم (Stable) قرار دینا ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ آسان اردو میں اس کے معاشی اثرات درج ذیل ہیں:*
*معیشت پر بنیادی اثرات:*
سود اور قرضوں کا بوجھ: عالمی منڈی اور کمرشل بینکوں کے لیے پاکستان کے ڈیفالٹ (قرضہ نہ موڑ سکنے) کا خطرہ مزید کم ہو گیا ہے، جس سے حکومت کے لیے قرض حاصل کرنے کی لاگت (سود) میں کمی آئے گی۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری: اس اپ گریڈ سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں (آئی ایم ایف، ورلڈ بینک) اور دوست ممالک سے وقت پر رقم کا حصول آسان رہے گا اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں گے۔
بیرونی سرمایاکاری: ریٹنگ کی بہتری سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوگا، جس سے نیا غیر ملکی سرمایہ اور بزنس فنانسنگ لانے میں مدد ملے گی۔
*روپے کی قدر اور مہنگائی: بیرونی خطرات کم ہونے اور معاشی استحکام کی وجہ سے روپے کی قدر پر دباؤ کم ہوگا، جس سے مہنگائی میں کنٹرول آئے گا۔*
*پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا پاکستانی روپے (PKR) پر مختصر اور واضح اثر درج ذیل ہے:*
*روپے میں استحکام: امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر دباؤ کم ہوگا اور فوری طور پر بڑی تنزلی (ڈی ویلیویشن) کا خطرہ ختم ہو جائے گا۔*
*ڈالر کی آمد میں اضافہ: غیر ملکی سرمائے اور قرضوں کا حصول آسان ہونے سے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں گے، جس سے روپے کو سہارا ملے گا۔*
قیمتوں کا توازن: روپے کے مستحکم ہونے سے ایندھن اور دیگر درآمدی اشیاء کی قیمتیں کنٹرول میں رہیں گی۔
*خلاصہ: اگرچہ روپیہ اچانک بہت زیادہ مضبوط نہیں ہوگا، لیکن یہ اپ گریڈ روپے کی قدر میں پائیدار استحکام لائے گا اور ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ کو روکے گا۔*
*خلاصہ:*
یہ اپ گریڈ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی معیشت بحران کے دور سے نکل کر پائیدار استحکام اور بہتری کی طرف گامزن ہے۔
*ان شاء اللہ*
ایک خواب تھا کہ Government School کے بچے بھی Air Conditioner کی ٹھنڈی ہوا میں بیٹھ کر پڑھیں اور انہیں بھی بہترین تعلیمی ماحول ملے۔
الح��دللہ، آج وہ خواب پورا ہو گیا۔
میرے بچوں کے لیے AC لگ گیا —
الحمدللہ!
یہ صرف Air Conditioner نہیں، میرے بچوں کے بہتر مستقبل کی طرف ایک اور قدم ہے۔
گورنمنٹ پرائمری سکول 519/EB بورے والا
آج سرکاری سکولوں کے شاندار نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ محنت اور لگن ہمیشہ رنگ لاتی ہے۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ سرکاری سکولوں کے طلبہ اور اساتذہ کی کامیابیوں کو بھی بھرپور انداز میں اجاگر کریں۔ حوصلہ افزائی میں اپنا کردار ادا کریں۔ عوام تک میسج جائے سرکاری سکول سب سے بہترین ہے
سرگودھا کی ہونہار بیٹی فاطمہ زہرا نے کامن ویلتھ گیمز میں باکسنگ کے مقابلوں میں کانسی کا تمغہ جیت کر نہ صرف سرگودھا بلکہ پورے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
گورنمنٹ ایم سی گرلز ہائی سکول سرگودھا سے تعلیم حاصل کرنے والی فاطمہ زہرا کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر صلاحیتوں کو محنت اور عزم کا ساتھ مل جائے تو کوئی منزل دور نہیں رہتی۔
فاطمہ زہرا کو اس شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد۔ دعا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی مزید کامیابیاں سمیٹتے ہوئے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم عالمی سطح پر مزید بلند کریں۔ 🇵🇰🥊
بھارتی حکومت کی طرح غلطی نہ کریں، پاکستانی عوام کو کاکروچ کہنے کی غلطی ہرگز نہ کریں۔
کچھ سیاستدان اپنی ہی عوام کو کاکروچ کا لقب دے رہے ہیں، جو سراسر غلط اور قابلِ مذمت ہے۔ یاد رکھیں، پاکستان کی عوام ہمارے سر کا تاج ہیں۔
یہ کاکروچ نہیں، ہمارا روشن مستقبل ہیں ، پاکستان کی ترقی کی ضمانت ہیں اور اس پاک سرزمین کے شیر ہیں جو اس وطن اور اس کی مٹی سے وفا کرنا جانتے ہیں لیکن جب شیر نکلے تو ان سیاستدانوان کو بھی بہا کر لے جائیں گے
الفاظ کا درست استعمال کریں, عوام کی عزت کریں اور اپنی ہی قوم کی توہین سے گریز کریں۔
یہ قوم کاکروچ نہیں، پاکستانی شیر ہیں! 🐅🇵🇰
میر پور ڈویژن کے انتخابات میں شاندار کامیابی پر مسلم لیگ ن کی تنظیم، کارکنان، امیدواران، کوآرڈینیٹرز مبارکباد کے مستحق ہیں۔ مسلم لیگ ن کی یہ کامیابی عوام کے اعتماد کا ثبوت ہے۔
میں میرپور کے بہادر عوام کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ترقی، خوشحالی اور خدمت کے ایجنڈے پر مہر ثبت کی۔ یہ جیت پاکستان اور آزاد کشمیر کی ترقی کے سفر کی علامت ہے۔
@AmjadHafeez19 لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور اپ لوگ شہروں کو خوبصورت بنا رہے ہیں کیا بھوکے کوکھلانا ضروری ہے یا شہروں کو خوبصورت بنانا ضروری ہے خدارا اپنی ترجیحات درست کریں لوگوں کی مشکلات کم کریں
این ایچ اے کل سے دھڑا دھڑ مبارکبادوں کے اشتہار لگوا رہا ہے کہ "الحمداللہ پچھلے دو سال میں ریوینیو میں ریکارڈ اضافہ ہوگیا ہے"۔۔مالی سال 2025 میں ریوینیو 109 ارب روپے تھا جو مالی سال 2026 میں بڑھ کر 127.47 ارب ہوچکا ہے؟ پوچھنا یہ تھا کہ کیا اس ریونیو میں وہ بھاری ٹول ٹیکسز بھی شامل ہیں جو قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر عوام سے بٹورے جا رہے ہیں اور ان میں ان مذکورہ برسوں کے دوران بھاری اضافے کرکے عوام کا بھرکس نکالا گیا ہے؟ اگر ہاں تو عوام کا کچومر نکالنے پر بھی مبارکباد��ں اور الٹا انکے خون پسینے کی کمائی سے اشتہارات؟
"پٹرولیم لیوی ایک بھتہ ہے"
(حافظ نعیم۔۔امیر JI)
یہ بات بلکل ٹھیک ہے کیونکہ
ایران/امریکہ جنگ کے بعد
سے 150 کروڑ کی آبادی کے ملک بھارت میں صرف 5% پٹرول کی قیمتوں میں مجموعی اضافہ کیا گیا۔جبکہ
پاکستان میں 55% کیا گیا(بعد میں کم بھی ہوا)
بھارت میں صرف 4 بار قیمتیں بڑھائی گئیں مگر تین بار 1 روپے سے بھی کم۔۔
حالانکہ بھارت میں بھی تیل کی قیمتیں ہر 24 گھنٹے میں Update ہونے کا نظام۔۔۔۔"Dynamic Fuel Pricing"رائج ہے مگر
بھارتی حکومت کی مداخلت پر
90 فیصد ریٹیل مارکیٹ شئیر رکھنے والی تین سرکاری کمپنیاں (IOC, BPCL, HPCL) جنگ کے عروج کے دوران پٹرول پر 18 روپے فی لیٹر تک کا نقصان ��ود برداشت کرتی رہیں، جس کی وجہ سے روزانہ قیمتیں بڑھانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
حکومت نے ان کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ روزانہ قیمتیں بڑھا کر عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے نقصان خود برداشت کریں۔
جب ان کمپنیوں کا روزانہ کا نقصان برداشت سے باہر ہونے لگا، تو روزانہ چند پیسے بڑھانے کے بجائے 10 دنوں کے اندر صرف 4 بڑے جھٹکے (Staggered Hikes) دیے گئے۔ مگر ان چار بار کے اضافے (مجموعی طور پر صرف 7.5 روپے) کے ذریعے کمپنیوں کے نقصانات کو عارضی طور پر سنبھالا گیا اور اس کے بعد قیمتیں دوبارہ مستحکم کر دی گئیں۔
بھارتی حکومت نے
ٹیکسوں میں کٹوتی (Excise Duty Cut) کر کے اور
سرکاری کمپنیوں سے نقصان جذب کروا (OMCs Absorbing Losses)کر
عوام کو بڑے معاشی جھٹکوں سے بچا کر رکھا۔
جبکہ
ہماری حکومت اپنی لیوی اور ٹیکسسز کم کرنے کو تیار نہیں
جب
تیل کی حالیہ قیمتیں کم بھی ہوئیں تو پٹرولیم لیوی بڑھا کر
فائدہ عوام کو نہیں دیا گیا۔
اور
اب روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتیں تبدیل ہونے کا فارمولہ
متعارف کروا کر
معیشت اور عوام دونوں کے لیے
غیر یقینی ص��رتحال پیدا کر دی گئی ہے۔
(اسد آر چوہدری)
ضلع جہلم پنڈدادنخان میں جلالپور نہر کو آزمائشی بنیادوں پر ایک ہفتے کے لیے کھول دیا گیا ہے اس علاقے کے لئے یہ انقلابی منصوبہ ہے جو بنجر زمینوں کو آباد کرے گا جلال پور نہر منصوبے کی ابتدائی فزیبلٹی اسٹڈی 1992-93 جبکہ عملی کام کا آغاز پچھلے دور حکومت دسمبر 2019 میں ہوا تھا سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری جن کا یہ حلقہ ہے انہوں نے اس منصوبے کو شروع کرانے پھر آگے بڑھانے میں بھرپور کردار ادا کیا تھا موجودہ دور حکومت میں بھی یہ منصوبے جاری رہا ہے 2027 تک ہر لحاظ سے مکمل ہو جائے گا اس منصوبے سے پنڈدادنخان اور خوشاب کے 80 کے قریب دیہات مستفید ہوں گے منصوبے کا بنیادی مقصد دریائے جہلم سے پانی لے کر تحصیل پنڈ دادنخان اور خوشاب کی بنجر زمینوں کو سیراب کرنا ہے