دس سال سے جبری لاپتہ ظھیر بلوچ کے کمسن بیٹے ذیشان ظھیر کو ریاستی اداروں نے اغوا کرکے تشدد زدہ لاش ویرانے میں پھینک دی . ذیشان کا جرم یہ تھا کہ اپنے والد ظہیر بلوچ کی بازیابی کا مطالبہ کررہا تھا
اقوام متحدہ دیگر عالمی ادارے بلوچ نسل کشی , انسانی حقوق کی پائمالی کیخلاف آواز اٹھائے
You cannot understand the grievances of Baloch unless you will not study painful treatment by the state, you cannot understand the reason of their bitterness unless you see how Baloch youth is targeted. Another tragic ending of a young Baloch’s life who was looking for his missing father from many years!
”سبا
آ سنج ءِ انچیں رنگے اَت
چه جمبراں در اَتک ءُ شُت
گوں آزمان ءِ شاهیگانیءَ هوار بوت
نه زندگیءَ سُدّ است
نے که مَرگ سرپد اِنت
که
کئے چه میان ءَ گار بوت“
الی جان داد
تاریخِ اُمَم کا یہ پیامِ اَزلی ہے
’صاحب نظَراں! نشّۂ قُوّت ہے خطرناک،(اقبال)
ڈی جی آئی ایس پی آر کی یہ تینوں بیانات،حقیقت، سچائی، انصاف اور حکمت سے دور ہیں، یہ کون سا طاقت کا نشہ ہے جس میں اپنے پڑوسی ملک کو،اپنے شہریوں کو دھمکیاں دینا اور اپنے صحافیوں کے سامنے پابہ زنجیر میڈیا کو آزاد کہا جاتا ہے؟؟؟
ماہرنگ جبری گمشدگی، مسخ شدہ لاشوں کیخلاف جدوجہد کررہی ہے اگر آپ کے پاس ثبوت ہیں تو پریس کانفرنس میں بھی لیکن پارلیمنٹ اور عدالتوں میں پیش کیجئے ثابت کیجئے، سب پاکستانی واہ واہ کرینگے( اور آپ ابھی تک نہیں کرسکے)ورنہ یہ الزام تراشی کہلائے گی۔لوگوں کو دل سے لگائیے دیوار سے نہیں، تاریخ سے سبق سیکھئے۔
ایک پاکستانی ایک ہزار افغانی یہ قطعی غیر ضروری بیان ہے جو سراسر پاکستان کےوجود کی بنیاد ،نظریہ اسلام کیخلاف ہے۔افغانستان ہمارا برادر ملک ہے اس کیساتھ اختلاف کو بات چیت ،گفتگو سے حل کیجئے نہ کہ توہین و تذلیل اور دھمکیوں سے۔
اور پاکستان میں میڈیا آزاد ہے؟؟واہ صاحب ،آپ مذاق بھی خوب کرتے ہیں۔
صاحب !حکمت،تدبر، صبر سے کام لیجئے۔
ماما قدیر بلوچ ان دنوں کراچی کے ایک نجی اسپتال میں شدید علالت کے باعث زیرِ علاج ہیں۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے اس عظیم انسان نے نہ صرف اپنی پوری زندگی بلوچ قوم کی آواز بننے میں گزاری، بلکہ عمر، بیماری اور ریاستی جبر جیسے تمام تر چیلنجز کے باوجود اپنے عزم اور حوصلے میں کبھی کمی نہیں آنے دی۔
پندرہ سال سے زائد عرصے پر محیط ان کی پُرامن جدوجہد — خصوصاً بھوک ہڑتال کیمپ میں روزانہ کی بنیاد پر بیٹھنا — ایک ایسی مثال ہے جو نہ صرف ناقابلِ تصور ہے بلکہ ناقابلِ تقلید بھی۔ یہ مستقل مزاجی، قربانی اور استقامت کی وہ روشن علامت ہے جو ماما قدیر کو باقی سب سے ممتاز بناتی ہے۔
ماما نہ صرف اس قوم کی آواز ہیں بلکہ ایک ایسا قیمتی اثاثہ بھی ہیں جن کی صحت، زندگی اور سلامتی پوری قوم کے لیے ناگزیر ہے۔
ہم سب دعاگو ہیں کہ ماما جلد صحت یاب ہوں، اور اپنے اس عظیم مشن کو اسی عزم اور استقامت کے ساتھ جاری رکھیں۔
Sammi Deen and Farhan Mallick are confined in Jail cells because they decided to take a stand. @CMShehbaz is occupying the PM office and @AAliZardari the Presidency because they decided to bow down.
⬅️ ڈاکٹر ماہ رنگ نے شکایت کی ہے کہ انھیں اور بیبو بلوچ کو جیل میں ہراساں کیا جارہا ہے: نادیہ بلوچ
⬅️ بلوچ یک جہتی کمیٹی کا پارٹی رہنماوں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان سمیت ملک کے دیگر شہروں میں احتجاج کا اعلان
تفصیل: https://t.co/9FYr9qXJlC
میں وڈھ سے کوئٹہ تک ایک لانگ مارچ کا اعلان کرتا ہوں، جو ہماری بیٹیوں کی گرفتاری اور ہماری ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کے خلاف ہے۔
میں اس مارچ کی قیادت خود کروں گا، اور تمام بلوچ بھائیوں اور بہنوں، نوجوانوں اور بزرگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ اس مارچ میں ہمارے ساتھ شامل ہوں۔
یہ صرف ہماری بیٹیوں کی گرفتاری کا معاملہ نہیں، یہ ہمارے قومی وقار، ہماری غیرت، اور ہمارے وجود کا سوال ہے۔
جب تک ہماری ماہیں، بہنیں اور بیٹیاں محفوظ نہیں، ہم بھی خاموش نہیں رہیں گے۔
ہماری یہ تحریک پرامن ہے، ۔
ہم ظلم، جبر، اور ناانصافی کے خلاف نکلے ہیں،
اور جب تک انصاف نہیں ملتا، ہم رکیں گے نہیں۔
وڈھ سے کوئٹہ تک ہمارا مارچ صرف قدموں کا نہیں، ضمیر کا سفر ہے۔
جو خاموش ہے، وہ بھی قصوروار ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک آواز بن جائیں۔
تفصیلات اور اگلے اقدامات جلد شیئر کیے جائیں گے۔
With each act of depravity, the state exposes itself even more. Now they have arrested @SammiBaluch, @LalaWahab310954 along with other peaceful protesters in Karachi. Please raise your voice & demand their immediate release.
بلوچ ویکٹری
عزیز سنگھور
BYC کی رہنما سمی دین بلوچ کی گرفتاری کے دوران ان کا ویکٹری کا نشان بلند کرنا اس بات کی علامت ہے کہ بلوچ جدوجہد کو طاقت کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔یہ نہ صرف مزاحمت کی علامت ہے بلکہ ایک مضبوط پیغام بھی ہے کہ BYC کی قیادت کسی بھی ریاستی جبر سے خوفزدہ نہیں۔
Our friend and sangat, and a Baloch poet, @nabeel_nodh was illegally arrested by the secret agencies yesterday (March 23) at around 5 in the early morning from Gowadar. Since then, his whereabouts remain undisclosed, leaving everyone behind concerned about his safety.
کوئٹہ: آج پانچویں روز مظاہروں کا سلسلہ جاری، پولیس کی فائرنگ سے ایک نوجوان زخمی جبکہ لاٹھی چارج سے متعدد دیگر مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاعات
#Quetta#BYC#MahrangBaloch | #TBPNews