کشمیر کمیٹی نے جو 4 تاریخ کا اعلان کیا ہے وہ وزیر اعلی سہیل آفریدی کو اشارہ دیا آپ وہاں لانگ مارچ نکالے یہاں سے ہم نکالے گے مل کر اس نظام کو گراتے ہیں۔🔥🔥
شہباز گل
آپ یہ جو اتنا اچھا پروگرام دیکھ رہے ہیں میں نے آتے ہی منسٹر صاحب سے پوچھا یہ سرکاری خرچے پر ہے یا آپکے اپنے خرچے پر؟ انکو بھی نہیں معلوم تھا۔ لیکن اگر یہ سرکاری خرچے پر ہے تو یہ خرچہ میں برداشت نہیں کرونگا، یہ منسٹر صاحب جیب سے دیں گے۔ وزیراعلی سہیل آفریدی
یاددہانی
عمران خان کی دس ماہ کی قید تنہائی اور علاج کی سہولیات نہ دینے پر تحریک انصاف نے احتجاج کا اعلان کیا۔
فوج نے ساٹھ ہزار اہلکار بلا لیے۔ عمران خان کی بہنیں گرفتار کرلیں ، گھر توڑنے شروع کردیے، اراکین اسمبلی اغواء کرلیے ، گورنر راج کی دھمکیاں شروع کردیں۔ لیکن عمران خان کی ملاقاتین بحال نہیں کرنا چاہتے۔
شہباز شریف کے نام کیساتھ وزیر اعظم لکھنے اور بولنے کے بجائے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر لکھا اور پکارا جائے کم از کم ہمیں اتنی مزاحمت تو کرنی چاہیئے سب جانتے ہیں ملک میں اس وقت مارشل لاء لگا ہوا ہے!
پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت فوج کے لیے اسکیپ گوٹ ہے جس پر فوج دہشتگردی ، دفاع میں ناکامی اور اپنی بدترین پالیسیوں کے نتائج کا ملبہ ڈال سکتی ہے۔ اگر فوج پختونخواہ میں براہ راست حکومت کرے تو مہینوں اور ہفتوں میں بلوچستان جیسی صورتحال ہوجائے۔ عوام سیاست اور نام نہاد ریاست سے بددل ہوکر شدت پسندی کی جھولی میں جا گریں۔
اسی طرح فوج تحریک انصاف کو پنجاب اور قومی اسمبلی میں رکھنا چاہتی ہے۔ تاکہ یہ سسٹم چلتا ہوا دکھائی دے۔ فوج نہیں چاہے گی کہ تحریک انصاف الیکٹرانک میڈیا کا بائیکاٹ کرے۔ کیونکہ یہیں سے فوجی پراپگنڈے کو آکسیجن ملتی ہے۔ اگر دس بیس روز عوام کو تحریک انصاف کے نمائندے ان نیوز چینلز پر نظر نہ آئیں تو انکی بچی کھچی سانسیں سلب ہوجائیں گی۔
”ایک طرف بلوچستان کا وزیراعلیٰ کی��ٹ ایریا سے باہر نہیں نکل سکتا، اور وہاں گورنر راج نہیں لگ سکتا، کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ وہاں کے وزیراعلیٰ صاحب کس طرح اقتدار میں آئے۔دوسری طرف ایک ایسے وزیراعلیٰ کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کے ساتھ عوام کھڑی ہے اور جن کی بات پر لوگ اعتماد کرتے ہیں۔
@JunaidAkbarMNA جنید اکبر خان #AsimLaw
عطا تارڑ ہمارے صوبے میں آئے، دو دن میں چار اضلاع کے دورے کیے، لیکن کہیں پر بھی ان کو کوئی مسئلہ نہیں آیا، نہ ہم نے اس کا راستہ روکا ��ور نہ ان کے ساتھ کوئی دہشت گردی ہوئی۔
جس طرح پنجاب میں انہوں نے ہمارے وزیراعلیٰ کے ساتھ کیا تھا،ان کے ساتھ تو کسی نے نہیں کیا، پھر بھی ہم دہشت گرد!
آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟
بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟
ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو درانی@SalooDurrani بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش ہم نہ دیکھتے۔
ہمارے ساتھ حامد میر کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔
انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔
ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھ��۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔
جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔
وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے فوجیوں ��ے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔
انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘
وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔
یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ اختر مین��ل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔
سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔
تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔
عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔
عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔
مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اس کے بارے میں 2011 میں گفتگو۔ 👇
کشمیر ایلشن کمیٹی نے بھی چار اکتوبر کو فائنل کال دینے کا اعلان کیا ہے۔ ممکنہ طور پر یہ لانگ مارچ کی ہی کال ہوگی۔ نظم و ضبط کے لحاظ سے استقامت کے لحاظ کشمیری تحریک انصاف سے کہیں زیادہ سخت جان ثابت ہوئے ہیں۔ فوج کے لیے اب ہر گزرتا دن مشکل ہے۔
پاکستان کے 28 لاکھ پروفیشنل ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں، Brain Drain ہو چکا ہے لیکن ان کے بقول تو یہ Brain Export ہے کہ ہم قیمتی چیزیں ایکسپورٹ کرتے ہیں،
وزیراعلی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی
یہ مسخرے اور کارٹون جن کو ٹی وی پر لانچ کیا گیا ہے جن کا پٹا کھولا گیا اور زبان درازی کر رہے ہیں ان کا مقصد صرف دھیان پٹکھانا ہے میں ایک بات واضح کر دوں چار اکتوبر کو ہر صورت لانگ مارچ ہوگا
وزیر��علی سہیل خان آفریدی
“جو جو ایم پی ایز، ایم این ایز یا پارٹی قائدین 4 اکتوبر کو پاکستان میں موجود نہیں ہوں گے، ان کا پاکستان تحریکِ انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ وہ اپنے لیے کوئی دوسری پارٹی بنا لیں۔”
- @JunaidAkbarMNA#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
پچھلے 80 سال سے دو خاندان جرنیلوں کے ساتھ مل کر اس ملک کو لوٹ رہے ہیں معزرت کے ساتھ آپکے اعداد شمار درست کر دوں شریف خاندان کے 5 وزیر اعظم اور 7 وزیر اعلی مسلط رہے اور بھٹو خاندان کے تین وزیر اعظم اور تین بار صدر مسلط رہے !