ہم پاکستان کی مضبوط دفاعی قوت کے قائل ہیں، لیکن ہم سیاست میں ان کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔ اس سے ہمارا اتفاق نہیں ہے۔
ہمارے ملک میں جو قانون سازیاں ہوتی ہیں، ابھی تازہ قانون سازی ہوئی ہے، جس میں اس تیزی کے ساتھ قانون سازی کی گئی ہے کہ بعد میں جب ہم نے اس کا مطالعہ کیا تو وہاں بحث ہوئی نہ، میرے خیال میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے بھی اس کو ب��ریکی سے نہیں دیکھا۔ لیکن جو اس کی شکل سامنے آ رہی ہے، اس سے اندازہ لگ رہا ہے کہ یہ قانون سازی آئین کی بھی خلاف ہے، آئین سے متصادم ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے اس میں کہ یہ قانون، جس میں فوج کے اندر کے نئے انتظام اور ان کے اختیارات کا ذکر کیا گیا ہے، اس میں وزیراعظم کے انتظامی اختیارات، جو ان اداروں میں ہونے چاہئیں، چاہے بری فوج کے اندر ہو، چاہے فضائیہ کے اندر ہو، چاہے بحریہ کے اندر، وہ بھی وہاں ایک شخص کے اندر مرکوز کر دیے گئے۔
اور پھر یہ قانون تمام قوانین پر بالاتر ہوگا، یعنی اگر کسی قانون کا اس قانون سے تصادم ہوگا تو وہ غیر مؤثر ہو جائے گا۔ اب پہلے غیر مؤثر تو بناؤ نا! غیر مؤثر بھی نہیں بنایا، وہ اپنی جگہ پر موجود ہیں، وہ دفعات بھی موجود ہیں اپنی جگہ پر، اور نیا قانون لا کر کہہ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی دفعہ اور شق اس قانون سے متصادم ہوگی تو غیر مؤثر ہوگی۔ لیکن اب تک اس کی نہ نشاندہی کی گئی ہے، نہ اس کو غیر مؤثر کیا گیا، نہ اس پر ترمیم کی گئی۔
آپ بتائیں کہ یہ ایک قانونی تضاد ہے یا نہیں؟ اور یہ قانون سب پر بالاتر ہوگا۔ اب پتہ نہیں، یہ تو قانون دان جانے کہ کیا قانون کی دنیا میں اس طرح کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں، لیکن میں آئین کے حوالے سے جانتا ہوں کہ جس زمانے میں پارلیمنٹ میں یہ بات آئی کہ قرآن و سنت سپریم لا ہونے چاہئیں اور بالاتر قانون ہونا چاہیے، قرآن و سنت کو، تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب نسیم حسن شاہ مرحوم نے یہ فیصلہ دیا کہ نہیں، آئین کی تمام دفعات برابر ہیں اور کوئی ایک دفعہ بھی دوسرے دفعہ پر بالادست نہیں ہو سکتی۔
شریعت کے حوالے سے تو تمام دفعات آئین کے برابر ہیں، لیکن اسٹیبلشمنٹ اور مقتدرہ کو طاقت اور اختیارات کا ارتکاز، اور پھر تمام قوانین پر اس کی بالادستی، اس کے لیے قانون سازی ہو گئی۔
پاکستان اس لیے بنا تھا؟ آپ اپنے ادارے کے اندر انتظامی تبدیلیاں لائیں، اس سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں۔ آپ آرمی چیف بھی ہو، آپ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہو، آپ فیلڈ مارشل بھی ہو، اس سے ہمارا کوئی سروکار نہیں۔ لیکن وہ اختیارات جو پارلیمنٹ کے ہونے چاہئیں، وہ مقتدرہ کے اندر ایک فرد کو دے دیے گئے ہیں۔
اب اس کا اختیار اپنی بری افواج پر بھی، فضائیہ پر بھی اور بحریہ پر بھی تسلط کر دیا گیا ہے، اور وہ تمام اختیارات رکھے گا؛ کسی کو برخاست کرنے کا، کسی کی ملازمت میں اضافہ کرنے کا، کسی کے استعفے کو منظور کرنا، نہ کرنا، تمام اختیارات ��س کو دے دیے گئے ہیں، جبکہ یہ کنٹرول، یہ کمانڈ، یہ وفاقی حکومت کا ہوا کرتا تھا، اور وفاقی حکومت نے اپنے اختیار ان کے حوالے کر دیے ہیں۔
اور پھر آگے کہتے ہیں کہ اگر کسی قانون سازی کی ضرورت ہوگی تو وفاقی حکومت کرے گی۔ یعنی اس میں پارلیمنٹ کو بھی نکال دیا گیا ہے۔ تو قانون سازی اور اس حوالے سے آئین میں ترمیم اور تبدیلی اور اس قسم کی چیزیں، وہ بھی حکومت کے حوالے کر دی گئی ہیں، کیونکہ حکومت کو اپنے راستے پہ لانا اور بوٹ کے نیچے دبانا ان کے لیے شاید آسان ہے۔
ہم چیزوں پر اختلاف کر رہے ہیں، ہم اصولی اختلاف کر رہے ہیں۔ ہم کسی کو گالی تو نہیں دے رہے، کسی کے ساتھ جھگڑا تو نہیں ہے ��مارا۔ لیکن اگر ہم پارلیمنٹ کے اندر ہیں تو ہمیں پارلیمنٹ کے اندر تو اس پر میں مزید بھی کام کرنا چاہتا ہوں، اور اسی وجہ سے میں لیڈر آف اپوزیشن کے دفتر میں گیا اور میں نے ان کو سمجھایا کہ اگر ہم اس طرح بکھرے بکھرے نظر آئیں گے اور پارلیمنٹ کے اندر بھی ہماری کوئی مشترکہ حکمتِ عملی نہیں ہوگی تو پھر یہ سب کچھ ہوتا رہے گا۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پشاور میں ورکرز کنونشن سے خطاب، 23 اگست 2026