@PTIofficial اپ کے والد نے بھی شریف خاندان کے ساتھ یہی کچھ کیا تھا نہ اب کیوں اس کی پھٹ رہی ہے جو اس نے رونا شروع کر دیا ہے۔
تم لوگ آ جاوؑ پاکستان اپنے باپ سے ملنے کے لیے۔
مصطفیٰ کمال نے پیپلز پارٹی کے آئینی منافقت کے چہرے سے بالکل درست نقاب اتارا ہے۔
پیپلزپارٹی نئے صوبے بنانے میں اپنا کردار ادا کرے ورنہسندھ میں "بھٹو زندہ نہیں رہے گا" اور اسے مارنے والی پیپلزپارٹی ہی ہوگی۔
ایک طرف پیپلز پارٹی خود کو آئینِ پاکستان اور بھٹو کی وراثت کی واحد ٹھیکیدار قرار دیتی ہے، اور دوسری طرف جب آئین کے اسی آرٹیکل 239 کے تحت دو تہائی اکثریت سے نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے کی بات ہو، تو یہی پارٹی اپنے ہی قائد کے بنائے ہوئے آئین کے خلاف سب سے پہلے دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔
نئے صوبوں اور بہترین انتظامی تقسیم کی مخالفت دراصل ذوالفقار علی بھٹو کے آئین اور عوام کی سہولت، دونوں کی نفی ہے۔ سیاسی مفادات کی خاطر آئین کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کا یہ دہرائی معیار اب بند ہونا چاہیے۔
#سیاسی_گدھ_نامنظور
18+
In Maharashtra, a city of Modi’s greatest democracy, a primary school teacher was publicly assaulted and subjected to violence.
But Modi’s devotees are so full of honour that no one came to help this oppressed person.
This is the real face of India
@MoeedNj@YouTube سلمان اکرم راجہ خود بہت بڑی فلم ہے وہ عمران خان کے گھر والوں سے کڑوروں کی فیس لے رہا ہے مگر وہ ابھی تک ایک فائل نہیں تیار کر سکتا ثبوتوں کی جو اس نے عدالت میں دینی ہے مگر اب میڈیا پر صرف ڈرامے کر رہا ہے۔
Afghan Taliban praying in opposite directions like they can’t even find the Qibla.
Yet these same people lecture the world about Sharia and claim they’ll impose True Islam everywhere.
When you don’t know the basics of namaz, what authority do you have left?
@MoeedNj ملک ریاض نے تو پنکی کو بھی بہت پیسا دیا ہے بدلے میں وہ کیا دیتی تھی اسے؟ یہ تو تھوڑی پرانی ویڈیو ہے مگر بعد کی ویڈیو آئی تو لیڈر تمہارے کا نام بھی پہلے نمبر پر ہو گا انگوٹھیا جی۔
تجھے جرنلیوں کی فکر ہو رہی ہے مگر مرے ہوئے باپ کے انگوٹھے لگواتے تجھے شرم نہیں آئی۔
@RealWahidaAFG انڈیا کے ٹٹے چاٹنے سے کچھ نہیں ہو گا انھوں نے پھر بھی ایسے ہی تم لوگوں کی گ مارنی ہے کیونکہ تم لوگ ان کے اگے بھیک کے لیے جکتے ہو اور وہ تم لوگوں کا ایسے ہی استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
@SHABAZGIL تمہارا کیا کام ہے؟ تم خود کیوں نہیں آ رہے پاکستان؟ کیوں لوگوں کا استعمال کر رہے ہو اپنے چکر میں۔ پھ دی انسان خود آ جا پاکستان بیٹھ کر مشورے نہ دیے۔
انتظامی طور پر بڑے صوبوں کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم نہ کرنے کے نقصان کا اندازہ اگر کرنا ہو تو پاکستان کے صرف 1 صوبے ، بلوچستان کا جائزہ لے لیں تو یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ اس صوبے کی موجودہ جغرافیائی اور انتظامی ہیئت ہی یہاں دہشت گردی، عسکریت پسندی اور علیحدگی پسندی کے پھلنے پھولنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اگر صوبوں کو چھوٹے انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر دیا جاتا، تو آج پاکستان کا امن اور سلامتی کا نقشہ بالکل مختلف ہوتا
اگر سیکیورٹی سائنس کے مطابق دیکھیں، تو بلوچستان کا رقبہ (347,190 مربع کلومیٹر) جرمنی یا برطانوی جزائر سے بھی بڑا ہے۔
برطانیہ اور جرمنی میں اتنے حجم کو سنبھالنے اور اس کی مائیکرو مانیٹرنگ کے لیے وہاں درجنوں آزاد انتظامی ریاستیں، کاؤنٹیز اور سینکڑوں سیکیورٹی زونز کام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، بلوچستان میں اتنے بڑے رقبے کا پورا سیکیورٹی کنٹرول، ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی جی پولیس کا مین سینٹر صرف ایک شہر (کوئٹہ) میں مرکوز ہے۔
صوبے کی موجودہ جغرافیائی اور انتظامی ہیئت ہی دہشت گردوں کی سب سے بڑی مربی اور مددگار ہے۔ سیکیورٹی سائنس کا ایک بنیادی اصول ہے: "ایریا ٹو فورس ریشو" (Area-to-Force Ratio)، یعنی کسی بھی علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے وہاں کی زمین کے رقبے اور وہاں تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد اور ان کے کمانڈ سینٹر کے فاصلے میں ایک منطقی توازن ہونا ضروری ہے۔ بلوچستان اس اصول پر پورا نہیں اترتا۔
دنیا بھر میں صوبوں کے اندر کی سیکیورٹی وہاں کی لوکل انتظامیہ اور پولیس کے پاس ہوتی ہے،
ایک محدود دائرے کے اندر مائیکرو لیول پر چپے چپے کی نگرانی (Micro-monitoring) کرنا، سی سی ٹی وی نیٹ ورک پھیلانا اور پٹرولنگ فورس کی موومنٹ کو ٹریک کرنا آسان ہوتا ہے۔ لیکن جب ایک ہی صوبائی انتظامیہ کے انڈر ایک دیو ہیکل اور لا محدود رقبہ دے دیا جائے، تو وہ چپے چپے کی مائیکرو مانیٹرنگ کرنے میں فطری اور سائنسی طور پر ناکام ہو جاتی ہے، جس کی مثال بلوچستان میں بی ایل اے کی موجودگی ہے ۔
۔ دہشت گرد سیکیورٹی سائنس کے اسی رقباتی خلا کا فائدہ اٹھاتے ہیں؛ وہ جانتے ہیں کہ انتظامیہ کے لیے اتنے بڑے رقبے کے چپے چپے پر نظر رکھنا ممکن نہیں ہے، اسی لیے وہ شاہراہوں پر ناکہ لگا کر معصوم مسافروں کو بسوں سے اتارتے ہیں، شناختی کارڈ چیک کر کے انھیں نشانہ بناتے ہیں اور فورسز کے پہنچنے سے پہلے فرار ہو جاتے ہیں۔
صوبے کی وسیع و عریض اراضی کے مقابلے میں سیکیورٹی اہلکاروں (پولیس، ایف سی اور لیویز) کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ جب انتظامیہ رقبے کے مطابق اتنی ہو تو وہ صرف "ری ایکٹو پولیسنگ" (Reactive Policing) کر سکتی ہے، یعنی حادثہ ہونے کے بعد وہاں پہنچنا۔
بلوچستان میں مسافروں کا بسوں سے اترنا اور دہشت گردوں کا دندناتے پھرنا انٹیلیجنس فیلیئر نہیں یہ اس "انتظامی اور جغرافیائی حجم کا المیہ" ہے جسے ایک مرکز سے کنٹرول کرنا ناممکن ہے۔ جب تک بلوچستان کو چھوٹے انتظامی صوبوں میں تقسیم کر کے اپنی آزاد سیکیورٹی انتظامیہ، اپنی ہوم منسٹری اپنی انتظامیہ نہیں دی جاتی، تب تک چپے چپے کی نگرانی کا خواب محض ایک لفاظی رہے گا اور جغرافیہ اسی طرح ریاست کی رٹ نگلتا رہے گا
Under #Taliban rule in #Afghanistan, #homosexuality has become so common that two men are formally holding a wedding for this impure act and no one is stopping them.That is,Afghanistan has become even more advanced than Europe. Calling it an Islamic country is an insult to Islam.