@BalochistanPost اب کیوں تکلیف ہو رہی ہے جب یہ بی ایل اے والے جوانوں کو مارتے ہیں تو تم لوگ کچھ نہیں بولتے اب جب ان دہشتگردوں کو مارا جا رہا ہے تو ان کی پھ ٹ رہی ہے۔
ہلکی ہو جاو ادی، بےنظیر سندھ جہیز میں نہیں لائی تھی نہ ہی بےنظیر سندھ کی وارث ہے۔ سندھ کے وارث سندھی ہیں جن کا سہولات اور وسائل پر اتنا ہی حق ہے جتنا بےنظیر کے مال پر اسکے سسرال والوں نے اپنا سمجھ رکھا ہے۔ اس لئے اس معاملے کو بےنظیر ٹچ دینے سے پہلے یاد رکھیں اگر جیالوں نے بےنظیر کے قاتلوں کا گریبان پکڑ لیا تو بھٹو میں لاتعداد زرداری اور زرداری میں درجنوں بھٹو فٹ کرنے سے بھی بات نہیں بنے گی مس فریال تالپور زرداری بھٹو صاحبہ 🙂
آج جب حکومت یہی کر رہی ہے تو ان کی کیوں پھٹ رہی ہے وہ بھی تو انہیں سڑکوں سے ہی ہٹا رہی ہے نا مگر اب انہیں زیادہ تکلیف ہو رہی ہے یہ بھی ویلاگ ڈال کر اپنی دکان چمکا رہا ہے۔
جب اس کے باپ کی حکومت تھی وہ جو کر رہا تھا وہ سہی کر رہا تھا گرگٹ سے بھی زیادہ رنگ بدلتا ہے یہ۔
@dtnoorkhan یہ گینڈے پاکستان کو بدنام اس لیے کر رہا ہے کیونکہ اسے پاکستان کے دشمن افغانستان اور انڈیا امداد دے رہے ہیں اس کے بدلہ میں وہ ریاست پر بھونک رہا ہے جو بھی دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ہوتا ہے وہاں پر یہ کھڑا ہو جاتا ہے صرف اپنے ڈالر کے چکر میں پاکستان کا دشمن بنا ہوا ہے۔
بھارت افغان طالبان ریجیم کے زریعے فضلو میں ڈیزل بھر رہا ہے
بھارتی گودی میڈیا کی فضلو کے حق میں اچانک مہم
سوال صرف یہ نہیں کہ بھارتی میڈیا انہیں ’’جمہوریت کی آواز‘‘ بنا کر کیوں پیش کر رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ اس غیر معمولی پذیرائی کے پیچھے مفاد کیا ہے؟؟؟
جبکہ فضلو خود ایک ڈکٹیٹر ذہنیت کا حامل شخص ہے اور لالچی بھی یہ بات پوری دنیا جانتی ہے
فضلو کے افغان طالبان ریجیم کے ساتھ روابط کوئی نئی بات نہیں ان کی جماعت کے دہشتگرد پیدا کرنے والے مدارس اور افغان طالبان ریجیم قیادت کے تاریخی و مذہبی روابط پر طویل عرصے سے بحث ہوتی رہی ہے جبکہ فضلو خود بھی مختلف ادوار میں افغان طالبان ریجیم کے ساتھ رابطے اور من مانیوں میں شریک رہا ہے 2024 میں وہ افغان طالبان ریجیم حکومت کی دعوت پر افغانستان گیا اور افغان طالبان ریجیم کے سب سے بڑے جاہل ہیبت اللہ اخوندزادہ سمیت اعلیٰ جہلا سے ملاقاتیں کیں اس کے بعد ہی اس ڈکٹیٹر ذہنیت کے شخص نے پاک فوج پر گھٹیا الزامات کا سلسلہ شروع کیا اور شہداء پاکستان کی توہین کر رہا ہے
ایسے وقت میں جب فضلو ریاستی اداروں اور ملکی نظام کے خلاف سخت بیانیہ اختیار کر رہا ہے بھارتی میڈیا کی بڑھتی ہوئی دلچسپی صاف ظاہر کرتی ہے فضلو میں ڈیزل کون بھر رہا ہے
پاکستان کے اندر سے ریاستی اداروں اور قومی پالیسیوں کے خلاف سخت بیانیہ بھارت کے لئے اپنے پروپیگنڈے کو تقویت دینے کا ذریعہ ہمیشہ سے رہا ہے اور فضلو جیسے لوگ وہ ذریعہ ہیں
جاپان کے 47 پریفیکچرز اور فلپائن کے 80 سے زائد صوبے بتا رہے ہیں کہ بڑا رقبہ چھوٹے یونٹس سے بہتر چلتا ہے۔
پاکستان جیسے متنوع ملک میں ایک ہی بڑے صوبائی مرکز سے اندرون سندھ کا کچا، سیلاب زدہ دیہات، جنوبی پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وسیع علاقے سنبھالنا مشکل ہے۔
چھوٹے یونٹ سے:
نگرانی قریب ہوگی۔
فیلڈ وزٹ مؤثر ہوں گے۔
بجٹ مقامی ضرورت پر لگے گا۔
تعلیم، صحت، سڑکیں اور آبپاشی کی نگرانی بہتر ہوگی۔
مسائل فوری حل ہوں گے۔
امن و امان اور آفات میں ردعمل تیز ہوگا۔
احتساب آسان ہوگا۔چھوٹا یونٹ خود ترقی نہیں لاتا۔ بجٹ، اختیارات، مضبوط بلدیات اور احتساب کے بغیر صرف نقشہ بدلے گا۔
ضرورت بڑے صوبوں کی نہیں، ایسے یونٹس کی ہے جہاں حکومت عوام تک پہنچے اور عوام کی آواز حکومت تک جلد پہنچے۔
#PublicDemandNewProvinces
#عوامی_مطالبہ_نئے_صوبے
کیا یہ ظلم نہیں کہ ایک غریب شہری کو اپنے ایک چھوٹے سے سرکاری کام کے لیے پورا دن اور ہزاروں روپے خرچ کر کے سیکڑوں کلومیٹر دور دارالحکومت جانا پڑے؟
آج 24 کروڑ سے زائد آبادی والا پاکستان صرف چار صوبائی مراکز کے رحم و کرم پر چل رہا ہے۔یہ پرانا نظام اب مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
اس مسئلے کا واحد اور پائیدار حل نئے اور چھوٹے انتظامی علاقے بنانا ہے۔
اگر ہر ڈویژن کو ایک آزاد انتظامی یونٹ بنا دیا جائے تو سرکاری دفاتر اور ہائی کورٹ بینچز شہریوں کی اپنی دہلیز پر ہوں گے۔ اس سے ناصرف عوام کے وقت اور پیسے کی بچت ہوگی بلکہ حکمرانی میں بھی شفافیت آئے گی۔
آج تمام ترقیاتی فنڈز اچھے اسکول اور بڑے ہسپتال صرف لاہور کراچی اور پشاور جیسے چند بڑے شہروں تک محدود ہو چکے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ بڑے شہر آبادی کے بوجھ سے تباہ ہو رہے ہیں جبکہ راجن پور لیہ اور گوادر جیسے دور دراز کے علاقے شدید پس ماندگی اور احساسِ محرومی کا شکار ہیں۔
نئے انتظامی یونٹ بنانا اب کوئی سیاسی بحث نہیں بلکہ ملک کو بچانے کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
اگر ہم واقعی اپنے شہریوں کو انصاف سہولت اور برابر کی ترقی دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اس دقیانوسی نظام کو توڑ کر انتظامی بنیادوں پر نئے زونز فوراً بنانے ہوں گے۔
فسادی جتھے کی اصلیت سامنے آتے ہی لوگوں نے اس سے لاتعلقی کا اعلان کرنا شروع کر دیا۔ کیونکہ یہ لوگ یہ لالچ دے کر لوگوں کو لائے یہ کہ ہم اپنے مطالبات منوانے آئے ہیں مگر حقیقت میں یہ سب بھارت سے پیسے لے کر ریاست پاکستان کے دشمن بنے ہوئے تھے۔
اس لیے یہ کہتے تھے کہ یہ پرامن احتجاج کر رہے ہیں تقریباً دو مہینے میں سو سے زائد رینجر اور پولیس کے اہلکار ان فسادیوں کی وجہ سے شہید ہو چکے ہیں کیونکہ ان کے پاس جدید اسلحہ ہے جو بھارت انہیں دے رہا ہے۔
@911y3 یہ طالبان فارسی زبان کو ختم کر کے ان لوگوں کی پہچان کو ختم کرنا چاہتے ہیں مگر شکر ہے کہ وہاں پر کوئی لوگ ان کے خلاف آواز اُٹھانے والے بھی ہے ورنہ یہ طالبان تو ان لوگوں کی شناخت ہی ختم کر دیے۔
Khorasani’s warning exposes growing ethnic and linguistic tensions within the Taliban
Taliban commander Abdul Hamid Khorasani says that if he witnesses injustice against Tajiks,the Persian language, or other non Pashtun communities,he would“prefer death”rather than accept it👇
@AXlanShah_ بلاول بھائی نے شادی سردی میں کرنی ہے مگر لوگوں نے پہلے رولا ڈال دیا اس نے انھوں نے کہا میں نہیں جانتا تاکہ لوگوں اس ٹاپک کو کلاوز کریں باقی فلم وہ پوری ہے۔
گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا اور میڈیا حلقوں میں یہ خبریں زبانِ زدِ عام تھیں کہ صدر آصف علی زرداری کے خفیہ یورپی دورے کا اصل مقصد اپنے 38 سالہ بیٹے بلاول بھٹو زرداری کا رشتہ یورپ کے انتہائی بااثر اور تاریخی شاہی خاندان "ہبسبرگ خاندان" کی چشم و چراغ شہزادی گلوریا (Gloria von Habsburg) سے طے کرنا ہے۔ اس خبر کے وائرل ہوتے ہی پیپلز پارٹی کے ترجمانوں اور خود بلاول نے شدید بوکھلاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس رشتے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
بلاول بھٹو نے تو ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ "وہ کسی شہزادی گلوریا کو جانتے تک نہیں اور یہ سب سوشل میڈیا کا تماشہ ہے"۔
سیاسی ترجمان اور رہنما جتنا چاہیں جھوٹ بول لیں، لیکن ڈیجیٹل دور میں حقائق کو چھپانا ناممکن ہو چکا ہے۔ بلاول کے اس دعوے کی قلعی اس وقت کھل گئی جب آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کی سڑکوں سے ایک انتہائی اہم ویڈیو ثبوت سامنے آ گیا۔ ویانا سے گزرتے ہوئے ایک عام پاکستانی شہری نے رات کی تاریکی میں بلاول زرداری کو اسی شہزادی گلوریا کے ساتھ انتہائی قریبی انداز میں چہل قدمی کرتے ہوئے اپنے کیمرے میں قید کر لیا۔
عوام اب یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ اگر بلاول زرداری کا یہ دعویٰ سچ ہے کہ وہ شہزادی گلوریا کو "جانتے تک نہیں"، تو پھر وہ رات کے اندھیرے میں ویانا کی سڑکوں پر ان کے ساتھ کیا کر رہے تھے؟ ایک غیر معروف اور اجنبی خاتون کے ساتھ پاکستان کا ایک سابق وزیرِ خارجہ اور خود کو مستقبل کا وزیرِ اعظم اس طرح تنہائی میں وقت کیوں گزار رہا تھا؟ یہ ویڈیو اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ یہ رشتہ محض ایک افواہ نہیں بلکہ سو فیصد کنفرم تھا، اور اس کے پیچھے مہینوں کی باقاعدہ پلاننگ موجود تھی۔
ویڈیو ثبوت کے باوجود اب جو پیپلز پارٹی اس معاملے پر مٹی ڈالنے اور مکمل انکار کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اس کے پیچھے اب واضح طور پر دو بڑی سیاسی و تزویراتی وجوہات نظر آتی ہیں
آسٹریا کے اس انتہائی بااثر، تاریخی اور کھرب پتی شاہی خاندان کے پسِ پردہ مہروں نے پاکستان کے موجودہ حالات کو بھانپ لیا ہے۔ عالمی مبصرین اور ان خاندانوں کے انٹیلی جنس نیٹ ورکس کو یہ اندازہ ہو چکا ہے کہ پاکستان میں عوامی رائے بدل رہی ہے، عوام خاندانوں اور سیاسی ورکر مجاوروں کی بجائے کارگردگی دیکھ کر اپنے نمائندے اور قیادت منتخب کرنا چاہتے ہیں
ایسے میں بلاول بھٹو زرداری کا مستقبل میں پاکستان کا وزیرِ اعظم بننا اب کسی طور ممکن نظر نہیں آ رہا۔
جب مغربی ماسٹر مائنڈز کو لگا کہ ان کا یہ امپورٹڈ پراجیکٹ اقتدار کے تخت تک نہیں پہنچ سکتا، تو انہوں نے اس ممکنہ ڈیل اور رشتے سے خود ہی ہاتھ کھینچ لیے، جس کے بعد پیپلز پارٹی کو عزت بچانے کے لیے فوری انکار کا سہارا لینا پڑا۔
آصف علی زرداری ملکی سیاست کے داؤ پیچ اور عوامی نبض کو خوب سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سندھ میں کرپشن کی وجہ سے بارود کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔ ایسے میں ایک غیر ملکی، مغربی اور صیہونی اثر و رسوخ رکھنے والے یورپی شاہی خاندان کی خاتون کو پاکستان کی اگلی "فرسٹ لیڈی" کے طور پر پیش کرنے سے ملک میں ایک شدید عوامی اور مذہبی ردعمل پیدا ہو سکتا تھا، جو زرداری خاندان کی بچی کھچی سیاست کو بھی ہمیشہ کے لیے دفن کر دیتا۔ اسی عوامی غیص و غضب اور سیاسی نقصان کے خوف سے صدر زرداری نے خود ہی قدم پیچھے ہٹا لیے ہیں اور اب اس پورے معاملے کو دبا کر مٹی پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ پورا ماجرا اس جاگیردارانہ اور استحصالی اشرافیہ کی اس ذہنیت کو ننگا کرتا ہے جو پاکستان کے 25 کروڑ عوام کو صرف ٹیکس دینے اور غلامی کرنے کے لیے کیڑے مکوڑے سمجھتی ہے، لیکن جب بات اپنے نجی تعلقات، شادیاں اور مستقبل بسانے کی ہو، تو انہیں اپنے پورے ملک میں ایک بھی بیٹی اس لائق نظر نہیں آتی۔ یہ مغرب کے سامنے ان کی گہری ذہنی غلامی اور گوری چمڑی کے سحر کا وہ اعتراف ہے جسے یہ اب چاہ کر بھی ویانا کی سڑکوں پر بننے والی ویڈیو کے بعد چھپا نہیں سکتے۔ بلاول بھٹو کا یہ "ہبسبرگ پراجیکٹ" فی الحال عوامی خوف اور گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کی وجہ سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن ویانا کی سڑکوں کا سچ پاکستانی عوام کے سامنے آ چکا ہے۔
صحافت کی دنیا کا ڈبل شاہ- باقر سجاد‼️‼️
🔺ڈان نیوز کبھی قائد کا اخبار ہوتا تھا لیکن اس کی موجودہ LGBTQ قیادت نے اس کی گراوٹ شام کے اخبار سے بھی نیچے کر دی۔ چن چن کر صحافتی گنگوبائیوں کو اس میں شامل کیا گیا۔ انہی بدکاروں میں ایک نام باقر ساجد ہے۔
🔺باقر ساجد کا تعلق تلہ گنگ کے مشہور قبضہ گروپ اور منشیات فروش عنائیت شاہ خاندان سے ہے۔ باقر ساجد اپنی صحافتی پوزیشن کو اپنے ان مجرم رشتہ داروں کی پشت پناہی کے لیے استعمال کرتا ہے۔
🔺باقر ساجد کو 2019 میں برٹش ڈپلومیٹ کے ساتھ میٹنگ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، لیکن اسوقت حکومت تاریک انتشار کی تھی اور باقر کا سالا اسی جماعت کا ایم پی اے تھا۔ سیاسی مداخلت سے یہ بچ گیا۔
🔺باقر سجاد ہی وہ صحافی تھا جس نے UN کی تقریب میں وزیر دفاع کے پیچھے بیٹھی شمع جونیجو کے نان ایشو کو ایشو بنایا۔
🔺جب تاریک انتشار نے نیازی کی آنکھ کا ڈرامہ کھیلا تو اس کو بھی صحافتی کور اس کذاب نے دیا، جس نے نیازی کی آنکھ کو اس درجے گرایا کہ اس کا نام کانا دجال پڑھ گیا۔
🔺باقر سجاد کے سالے عنائیت شاہ وغیرہ پر فرقہ ورانہ فساد کرانے کے بھی کیس ہیں۔ ان کا مکہ اگریمنٹ پر اعتراض بھی ان کی فرقہ ورانہ سوچ کی عکاس ہے۔
🔺باقر سجاد کے اسی مجرم سالے نے پچھلے سال تلہ گنگ میں ایک مکان پر ناجائز قبضے کی کوشششکی، جب 15 کی کال پر پولیس نے یہ کوشش ناکام بنائی تو جناب نے ایک الف لیلی کی کہانی والی ٹویٹ کر کے اپنا بغض فوج ظاہر کیا۔
درحقیقت باقر سجاد ایک وہ بدکار انسان ہے جو اپنے صحافتی قلم کو ہمیشہ اپنے گھٹیا اور مجرمانا اقدامات کو چھپانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔