حکومت کی قربانی دے دی۔ نہیں یہ غلط بیانیہ ہے۔
حکومت سے تو اب جانا ہی تھا۔ خان کی پہلی ملاقات پر حکومت سے ہٹنا پڑنا تھا۔ پورے سال کا حساب یاد کرنا پڑے گا۔
حکومت قربان نہیں ہوئی۔ خان کا مینڈیٹ قربان ہوا ہے۔ بغیر لانگ مارچ کئیے۔ بغیر احتجاج کئیے۔ خان کا آخری قلعہ قربان کر دیا گیا ہے۔
یہ حق صرف خان کا تھا۔ کہ وہ اپنی حکومت کیسے قربان کرے۔ یا نہ کرے۔ جن کو آج سمجھ نہیں کوئی بات نہیں کل سمجھ آ جائے گی۔ جس دن خان کا پیغام باہر آیا اس دن سمجھ آ جائے گی۔
تنقید کرنے والوں کی نییت بری نہیں۔ اس لئے ہر تنقید سر آنکھوں پر۔
باڑہ ضلع خیبر میں گزشتہ روز سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد ٹی ایم اے آفس کی بلڈنگ سے گورنر راج کے خلاف احتجاج کرنے والے تحریکِ انصاف کے نہتے کارکنان پر سیدھی گولیاں برساتے رہے، کیا خیبر پختونخوا پولیس نے گورنر راج میں سنائیپرز بھرتی کر لیے ہیں؟
خیبرپختونخوا میں گورنر راج نے مختلف شہروں میں تین روز کے دوران 476 منصوبوں کی تختیاں اتار دیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تختیاں انتہائی خطرناک دہشتگرد حملوں میں ملوث تھیں۔
یہ ن لیگ اور پی پی کتنی بے شرم جماعتیں ہیں!
پہلے پی ٹی آئی کی جیتی ہوئی نشستوں پر ڈاکہ مارا۔
پھر ان کی مخصوص نشستیں چھین لیں۔
اب ان کی بنی بنائی حکومت گرا کر اپنے لوگ نافذ کر دئے۔ یار ان کو کس دن شرم آۓ گی؟
کے پی حکومت برطرف کر کے جو فوری بڑا اجلاس بلایا وہ معدنیات پر بلایا گیا، اب تو کوئی شک ہی نہیں کہ یہ سارا کام اس لیے کیا گیا تھا قمیتی پتھر ٹرمپ کو پہنچانے ہیں
نیا حکمنامہ۔ تمام چینلز پر بندش لگا دی کہ وہ کسی احتجاج یا حادثے یا فائرنگ کی live کوریج نہیں کر سکتے۔ شرمناک۔ میڈیا پر ایک اور وار۔ میڈیا پہلے ہی آخری سانسیں لے رہا ہے۔
وزیر اعلٰی سہیل آفریدی کے وکیل بشیر خان اغواہ کر لیا گیا۔ بشیر خان نے سہیل آفریدی کے اغواہ کا کیس پشاور ہائی کورٹ میں دائر کیا تھا۔
جہوریت آئین اور قانون کا مزاق جاری
صوبے کا وزیراعلٰی جبری طور پر لاپتہ ہے
صوبے کا اسپیکر اسمبلی جبری طور پر لاپتہ ہے
جو ان کی بازیابی کیلئے آواز اٹھانے کیلئے نکل رہے ہیں ان کا خون بہایا جارہا ہے ، یہ سب ظلم کسی جنگل میں یا کسی منگول کی سلطنت میں نہیں بلکہ اسلام جمہوریہ پاکستان میں ہو رہا ہے
خیبر سے ایک وزیر اعلی ملا تھا ۔ لوگ اس کے ساتھ خوش تھے۔ اس کے ساتھ جھومتے تھے ۔ اسے چومتے تھے۔۔ وہ کہہ رہا تھا اس کے پاس امن کا فارمولا ہے۔۔ اس کی سن لینے میں کیا حرج تھا؟
باڑہ میں پُرامن مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلانا انتہائی تشویش ناک اور ناقابلِ برداشت ہے۔ ڈی پی او خیبر صاحب! آپ کو نہتے مظاہرین پر گولیاں چلانے اور اس خونریزی کا حکم کس نے دیا؟ اس ظلم کا جواب دینا ہوگا۔ اس واقعے پر بھرپور اور سخت ردعمل آئے گا۔ ہر زخمی کارکن کو انصاف دلانے اور اس تشدد کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے تک خاموش نہیں بیٹھیں گے۔