امام حسن علیہ السلام کے بارے میں بہت کم لکھا جاتا ہے، بہت کم بات کی جاتی ہے
نامور اسکالرز بھی بنو امیہ کے پیروکار ملاؤں کے دباؤ میں آ جاتے ہیں
اور امام حسن علیہ السلام کا ذکر نہیں کرتے
اہل تشیع علماء کے ہاں بھی امام حسن علیہ السلام کا تذکرہ بہت کم ملتا ہے
اور تو اور اردو ادب میں جہاں نبی کریم ﷺ، مولا علی علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے فضائل و مناقب بہت زیادہ بیان ہوئے ہیں
وہیں پہ امام حسن علیہ السلام کی شان میں کلام نہ ہونے کے برابر ہے
امام حسن علیہ السلام پانچویں خلیفہ راشد ہیں
اسلام کی تاریخ میں ان کا عظیم کردار کسی بھی لحاظ سے دیگر اہل بیت رسول ﷺ سے کم نہیں ہے
مگر پھر بھی امام حسن علیہ السلام کو لے کر محتاط رویہ کیوں ؟؟
امت کا ایک بڑا حصہ امام حسن علیہ السلام کے معاملے میں بنو امیہ کے پراپیگنڈے کا شکار ہو گیا
اور صلح امام حسن علیہ السلام کو امام حسن علیہ السلام کی کمزوری اور شاید خظا تسلیم کر بیٹھے
یہ بھول گئے کہ اہل بیت رسول ﷺ کو اللہ نے ہر عیب سے پاک پیدا کیا ہے
اور امام حسن علیہ السلام تو ہو بہو شبیہ رسول ﷺ تھے، امام حسن علیہ السلام نے جو بھی کیا
وہ حق تھا
مدمقابل باغی تھا اور خطا پر تھا
کہ امام الانبیاء ﷺ نے اسے باغی ، قاتل اور جہنم کے راستے پر چلنے والا قرار دے کر مہر ثبت کر دی تھی
(بخاری 2812)
امام حسن علیہ السلام نے وہی کیا جو قرآن نے کہا :
قرآن کہتا ہے جنگ کے دوران اگر کوئی کافر بھی صلح کی درخواست کرے تو اس سے صلح کر لو
اور امام حسن علیہ السلام نے صلح اس شرط پر کی تھی کہ باغی گروہ کا سربراہ اپنے بعد خلافت راشدہ کو بحال کر دے گا
مسلمانوں کو ان کے خلیفہ کے انتخاب کا حق واپس دے گا
امام حسن علیہ السلام کا یہ مطالبہ گہری بصیرت ، فراست اور دور اندیشی پر مبنی تھا
اگر باغی گروہ کا سربراہ معاہدے پر عمل کرتا اور خلافت راشدہ بحال ہو جاتی تو آپ دیکھتے کہ آج پوری دنیا پہ اسلام بطور سسٹم نافذ ہوتا
اور کیا عجیب معاملہ ہے
کہ جس باغی گروہ کے سربراہ نے امام حسن علیہ السلام سے بغاوت کی
پھر امام حسن علیہ السلام کے سپہ سالار عبیداللہ بن عباس کو خرید کر آپ کو نہتا کیا
اور پھر اطیعواللہ و اطیعوالرسول و اولی الامر منکم کے فرمان پر عمل کرنے کی بجائے امام حسن علیہ السلام سے صلح کا مطالبہ کیا
اور بعد میں صلح کا معاہدہ توڑ بھی دیا
اس اہل بیت رسول ﷺ کے دشمن کا تو یزیدی گروہ عرس تک مناتا ہے
اور امام حسن علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے سب پریشان ہو جاتے ہیں ؟؟
لہجہ دفاعی ہو جاتا ہے
کیوں ؟؟
اللہ کے بندو !
بنو امیہ کی پوری ذریت کل ملا کر بھی امام حسن علیہ السلام کے ایک جوتے کی خاک کے برابر عزت نہیں رکھتی ہے
آپ لوگ کیا گمان کر کے بیٹھے ہو ؟؟
فرزند رسول ﷺ نے جو کیا وہی حق تھا
اور باغی گروہ نے جو بھی کیا
سب باطل تھا
لہذا امام حسن علیہ السلام کا تذکرہ کھل کر کرو
بعین ویسے ہی کہ جیسے امام حسین علیہ السلام کا کرتے ہو
اور امام حسن علیہ السلام کے قاتلوں پر ویسے ہی لعنت بھیجو کہ جیسی امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں پر بھیجتے ہو
اللھم صل علی محمد و علی آل محمد ﷺ
#شہادت_امام_حسن_علیہ_السلام
مولا علی علیہ السلام :
ہجرت کی رات تلواروں کے سائے میں سوئے
بدر میں جب کوئی لڑنے کو تیار نہ تھا
مولا علی علیہ السلام لڑنے کو بیتاب تھے
احد میں جب سب بھاگ گئے
مولا علی علیہ السلام اکیلے رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کرتے رہے اور ثابت قدم کھڑے رہے
خندق میں جب سب سہمے ہوئے تھے مولا علی علیہ السلام نے عمرو عبدود کو جہنم واصل کر کے جنگ کا ماحول بدل دیا
اور خیبر میں جب سب ناکام ہو گئے
مولا علی علیہ السلام نے ایک ہی حملے میں خیبر فتح کر لیا
دین اسلام کے نفاذ میں رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے بڑا کردار مولا علی علیہ السلام کا ہے
#فاتح_خیبر
مسلمان میں سے منافق برآمد کرنا ہو تو اس کے سامنے مولا علی علیہ السلام کا ذکر شروع کر دو
مولا علی علیہ السلام کے فضائل و مناقب بیان کرو
برداشت ہی نہیں کر پائے گا
پھٹ جائے گا
تڑپ اٹھے گا
چہرے کے نقوش بگڑ جائیں گے
منہ سے جھاگ نکلنے لگے گی
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
علی سے محبت رکھے گا مگر صرف مؤمن ،
اور علی سے بغض رکھے گا مگر صرف منافق ،
#جشن_مولا_علی
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس طرح دعا فرماتے:
"اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا کر اور میری موت اپنے رسول ﷺ کے شہر میں مقدر کر دے۔
(بخاری، ۱۸۹۰)
جن چیزوں سے رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی پناہ مانگی، وہ مندرجہ ذیل ہیں :
1. قرض سے۔ (بخاری: 6368)
2. برے دوست سے۔ (طبرانی کبیر: 810)
3. بے بسی سے۔ (مسلم: 2722)
4.جہنم کے عذاب سے۔ (بخاری: 6368)
5. قبر کے عذاب سے۔ (ترمذی: 3503)
6. برے خاتمے سے۔ (بخاری: 6616)
7. بزدلی سے۔ (مسلم: 2722)
8. کنجوسی سے۔ (مسلم: 2722)
9. غم سے۔ ( ترمذی: 3503)
10. مالداری کے شر سے۔( مسلم: 2697)
11. فقر کے شر سے۔ (مسلم: 2697)
12. ذیادہ بڑھاپے سے۔ بخاری: 6368]
13. جہنم کی آزمائش سے۔ بخاری: 6368]
14. قبر کی آزمائش سے۔ بخاری: 6368]
15. شیطان مردود سے۔ بخاری: 6115]
16. محتاجی کی آزمائش سے۔ بخاری: 6368]
17. دجال کے فتنے سے۔ بخاری: 6368]
18. زندگی اور موت کے فتنے سے۔ بخاری: 6367]
19. نعمت کے زائل ہونے سے۔ مسلم: 2739]
20. الله کی ناراضگی کے تمام کاموں سے۔ [مسلم: 2739]
21. عافیت کے پلٹ جانے سے۔ مسلم: 2739]
22. ظلم کرنے اور ظلم ہونے پر۔ نسائی: 5460]
23. ذلت سے۔ نسائی: 5460]
24. اس علم سے جو فائدہ نہ دے۔ ابن ماجہ: 3837]
25. اس دعا سے جو سنی نہ جائے۔ ابن ماجہ: 3837]
26. اس دل سے جو ڈرے نہیں۔ (ابن ماجہ: 3837]
27. اس نفس سے جو سیر نہ ہو۔ (ابن ماجہ: 3837]
28. برے اخلاق سے۔ حاکم: 1949]
29. برے اعمال سے۔ حاکم: 1949]
30. بری خواہشات سے۔
[حاکم: 1949]
31. بری بیماریوں سے۔
[حاکم: 1949]
32. آزمائش کی مشقت سے۔
[بخاری: 6616] کے
33. سماعت کے شر سے۔
[ابو داﺅد: 1551]