ولی خان اور آج کا پاکستان
ولی خان انتہا کے مستقبل شناس تھے۔ ضعیف ہوئے۔ بیمار رہنے لگے۔ ایک مرتبہ مولانا فضل الرحمان مزاج پرسی کے لئے گئے۔ ولی بابا نے آؤ بھگت کی۔ لڑکوں کو دوڑایا کہ مولانا صاحب کی مہمان داری میں کوئی کمی کوتاہی نہ آئے۔ پھر مولانا سے گفتگو کرنے لگے۔ مولانا سے پوچھا کہ بیٹا یہ بتاؤ کہ یہ جو افغانستان میں جنگ ہوئی یہ ک فر اور اسلام کی لڑائی تھی یا روس اور امریکہ کی۔ تب تک تو بات کھلی چکی تھی۔ مولانا بولے کہ بابا یہ تو امریکا اور روس کی لڑائی تھئ۔ اگلا سوال کیا کہ روسی کتنے مرے اس جنگ میں۔ مولانا نے کہا اتنے۔ اور امریکی کتنے مرے؟ وہ تو بابا کوئی نہیں مرا۔ امریکیوں کی طرف سے کون مرا؟ زیادہ تر قبائلی پشتون اور باقی پاکستان کے لوگ۔ تب ولی خان نے کہا کہ بیٹا یہی بات جب ہم آپ کے والد صاحب کو سمجھاتے تھے کہ مفتی صاحب یہ جہاد نہیں فساد ہے تو ہم پہ فتوے لگتے تھے۔ ہم نے مفتی صاحب کو یہ بھی عرض کی تھی کہ مفتی صاحب اس خطے کے لوگ پیدائشی مسلمان ہیں۔ ان کے اندر زور زبردستی مزید اسلام نہ گھسائیں۔ یہ اضافی اسلام ان کے اندر خراب ہوجائے گا اور اس خراب اسلام کو نکالنے کے لئے اس سے زیادہ خون خرابہ کرنا پڑے گا۔
تو بات یہ ہے۔ کہ یہ وہ اضافی اسلام ہے جو اندر جا کے خراب ہو چکا ہے۔
@LTAli03@X please note of this tweet as he is clearly threatening a renowned politician to kill him. @elonmusk this platform should not be used to issue life threats
اس ملک میں امن کی آواز اس لیے ٹارگٹ ہوتی ہے کیونکہ سچ اور انصاف طاقتور لوگوں کے مفادات کو خطرہ پہنچاتے ہیں اس لیے وہ امن مانگنے والوں کو خاموش کرانا چاہتے ہیں۔ امن کی للکار مزید ابھریں گی پختونخوا کی سرزمین کے ہر گوشے سے امن کی للکار ہوگی
#ReleaseaUbaidkhanSalarzai