وزیراعظم نوازشریف کی باغیانہ تقریر آرمی ہائوس راولپنڈی میں معروف بیوروکریٹ روئیداد خان اور آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے ایک ساتھ سنی ۔کاکڑ نے کہا ،صدر تک میرا پیغام پہنچادیں کہ آئینی حدود کے اندر وہ جو بھی کارروائی کریں گے انہیں فوج کے سربراہ کی تائید و حمایت حاصل ہوگی۔ اگلے دن روئیداد خان صدر غلام اسحاق خان کا پیغام لیکر آرمی چیف کے پاس پہنچے اور بتایا کہ صدر نے اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے،اس حوالے سے مطلوبہ حفاظتی انتظامات کرلیں۔ 18اپریل 1993کی شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر غلام اسحاق خان نے نوازشریف کی حکومت برطرف کرنے کا اعلان کردیا اور میر بلخ شیر مزاری کو نگران وزیراعظم بنادیا گیا
سوائے 4 برسوں کے، ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ عمدہ رہی۔ آٹھ دہائیوں میں چین اور امریکہ سے ہمارے تعلقات میں بیلنس رہا ھے۔ پاکستان جب ایٹمی ہتھیار بنا رہا تھا مگر امریکی صدر لکھ کر سرٹیفکیٹ دیا کرتا تھا کہ یہ معصوم پاکستانی لوگ ایٹم بم نہیں بنا رہے، انکی مدد جاری رکھی جاے۔ا
@Naseem_khera دجال کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ عورتوں کو اگررسوں سے بھی باندھا جائے گا تو وہ رسے تڑوا کر دجال کے پاس جائیں گی۔
یعنی کہ دجال کچھ لوگوں کی ممیوں کا کرش ہو گا اور ان کے ابا جی کو اعتراض بھی نہیں ہو گا۔ گھٹیا اور بدبودار یوتھیے تم دجال کی ناجائز اولاد لگتے ہو۔
@Badass1ZQ1 تم جس موضوع پر لکھتی ہو وہی مناسب ہے۔ سیاست کی نہ تمہیں سمجھ ہے اور نہ ہی مناسب علم۔ ان افغانیوں نے سی پیک پر کام کرنے والے بیشمار چینی مارے۔ اور انہی دہشت گردوں کی وجہ سے سی پیک چل نہیں رہا۔ پاکستان نے جب ان کی مرمت شروع کی ہے تو چین کیوں روکے گا۔
لیہ : وزیراعلیٰ مریم نواز کی ریڈ لائن کو تھانیدار نے ایک ٹانگ پر کھڑا کردیا ۔۔۔۔
جاؤ جا کر بتا دو مریم نواز کو اس نے جو کرنا ہے کر لے ۔۔۔۔۔۔
یہ سچی کہانی لیہ کی تحصیل چوبارہ کی ماں بیٹیوں کی ہے جنہوں نے وراثتی جائیداد سے 110 زمین کا کیس عدالت اور وزیراعلیٰ پنجاب کے کمپلینٹ سیل کی مدد سے جیت لیا تو ماں بیٹیوں کی یہ جیت مخالف رشتہ داروں کو ہضم نہ ہوئی ،
ان خواتین کے مخالف رشتہ داروں نے مقامی پولیس کو پیسے کھلائے اور ایک رات پولیس چار دیواری پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئی ، جوان لڑکیوں کے کپڑے پھاڑ دیے گئے انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا اور انہیں دھندہ کرنے کا الزام لگا کر پولیس والے تھانیدار کے کوارٹر میں لے گئے ،
اس نام نہاد ریڈ میں لیڈی پولیس کا کہیں کوئی وجود نہ تھا ، تھانے کی بجائے تھانیدار کے کوارٹر میں ان ماں اور دو بیٹیوں کے ساتھ غنڈہ گردی کی انتہا کردی گئی ان سے شرمناک سوال و جواب کیے گئے ، ماں بیٹیوں کو تھانیدار نے ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کا حکم دیا ، اس حکم پر بزرگ خاتون اور ایک بیٹی عمل نہ کرسکیں جبکہ ایک لڑکی کافی دیر ایک ٹانگ پر کھڑی رہی اور پولیس والے قہقہے لگاتے رہے اور صبح ہونے پر ماں بیٹیوں کو بغیر کسی کاغذی کارروائی گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ۔۔۔۔
دو روز قبل ماں بیٹیاں لاہور پہنچیں اور ڈی آئی جی کی کھلی کچہری میں اپنا معاملہ سامنے رکھا ہے ، دیکھتے ہیں ان ماں بیٹیوں کے ظالم رشتہ داروں اور فرعون صفت تھانیدار و اہلکاروں کے خلاف کیا ایکشن ہوتا ہے ۔۔۔
شئیر کریں اور ان مظلوموں کی آواز بنیں