June is the only window available to PTI to build sufficient pressure to end Imran Khan’s isolation and ensure he is transferred to Shifa International Hospital for proper medical treatment in the presence of his family and personal doctors.
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
چکوال: CCD کی فائرنگ سے 9 سالہ بچی جاں بحق، آسٹریلیا سے آئے خاندان کے 2 افراد زخمی
چکوال میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں مبینہ طور پر CCD اہلکاروں نے ڈاکوؤں کا تعاقب کرتے ہوئے ایک فیملی کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں 9 سالہ ہانیہ احمد جاں بحق جبکہ اس کے والد عادل احمد اور بھائی آفان احمد شدید زخمی ہو گئے۔ رپورٹس کے مطابق عادل احمد، جو آسٹریلیا سے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حال ہی میں پاکستان آئے تھے، اپنے رشتہ دار کے گھر کے باہر رکے ہوئے تھے کہ دو مسلح ڈاکوؤں نے انہیں لوٹ لیا۔ اسی دوران CCD اہلکاروں اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ شروع ہوئی خوفزدہ ہو کر عادل احمد گاڑی لے کر وہاں سے نکلے تو اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان کی گاڑی کو ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھ کر فائرنگ کر دی۔واقعے کے بعد ایک CCD اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) تشکیل دے دی گئی ہے۔ حکام نے متاثرہ خاندان کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
📢 آ سردار امان خان کا پاکستانی عوام کے نام اہم پیغام:
"پاکستانیو! یہ ہماری مشترکہ لڑائی ہے۔ جو ظلم ہم پر ہو رہا ہے، وہی آپ پر بھی ہے۔ ہماری لڑائی اس غاصب طبقے سے ہے جو قابض ہے۔ ہمیں متحد ہو کر نکلنا ہو گا اور اس قبضے سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔"
واحد راستہ: اتحاد اور جدوجہد! 🇵🇰
📢 بین الاقوامی برادری کا بڑا قدم!
کینیڈا کی پارلیمنٹ میں عمران خان اور تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کے لیے قرارداد پیش۔
کینیڈین رکنِ پارلیمنٹ نے 3 سال سے جاری ناحق قید پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آواز اٹھا دی۔ حق اور انصاف کی یہ گونج اب پوری دنیا میں پھیل رہی ہے!
راولاکوٹ دھرنے میں پہلی بار خواتین کی بڑی تعداد پہنچ گئی۔
دھرنے کے مقام پر ہزاروں افراد جمع ہیں۔
خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ ہیں، دوسری جانب آج رات کریک ڈاون کا بھی خدشہ ہے۔
گزشتہ کئی مہینوں سے جیل میں عمران خان کو ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ اُنکے پاس کتابیں ہیں نہ ٹی وی اور نہ کسی کو ان سے بات کرنے کی اجازت ہے۔ انکی آنکھ میں کلاٹ آیا ہے، ہمیں کم از کم تسّلی ہی کروا دیں کہ آپ انکے کھانے میں کچھ ملا نہیں رہے۔ دسمبر میں عمران خان میری بہن سے کہہ چُکے ہیں کہ یہ مجھے مار دینگے۔ ہم اپنے بھائی کی فکر کیوں نہ کریں؟ ہم پی ٹی آئی سے ہی امید کرسکتے ہیں کہ عمران خان کیلئے کچھ کریں۔ دباؤ ڈالیں تاکہ انہیں اس ظلم سے تو نجات ملے۔ ورنہ ان اسمبلیوں اور ووٹوں کا عمران خان کو کیا فائدہ ہے؟“
جان بوجھ کے پاکستانی بکاو میڈیا یہ خبر پھیلا رہا ہے کہ راولاکوٹ میں دھرنا ختم ہو گیا ہے
یہ راولاکوٹ کے تازہ ترین مناظر ہیں اور یہ صرف ایک عوامی اجتماع کے مناظر ہیں جب کہ راولاکوٹ کے گرد مختلف مقامات پر اس وقت لاکھوں لوگ موجود ہیں
علیمہ خان کی قوم سے اپیل 🚨🚨
میں عوام سے کہتی ہوں کہ اگر عمران خان کی زندگی کو بچانا ہے تو گھروں سے باہر نکل آئیں
اگر سپریم کورٹ انصاف نہیں دیتا تو پارٹی سے اور پورے پاکستان سے کہتے ہیں احتجاج کے لئے باہر نکل آئیں