10 اکتوبر کو سہیل آفریدی کا کنٹینر خراب ہوا
10 اکتبر کو سہیل آفریدی کو پشاور میٹنگ کے بہانے بُلایا گیا
11 اکتوبر کو ایمرجنسی اور گوؤنر راج لگایا گیا اور سہیل آفریدی سمیت کافی لوگ گرفتار ہوئے۔۔۔۔۔
جس نے اس سب میں سہولت کاری کروائی ہے، اللّٰہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔۔۔۔۔
سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر گوہر میں اوسط درجے کی سیاسی ذہانت موجود نہیں ہے۔ جس وقت مذاکرات میں اچانک سے دہشتگردی کو موضوع بنایا گیا تو تب آپ کو ہوش نہیں آئی؟ آج دس دن بعد آپ کو تفصیلات بتانی یاد آرہی ہیں؟ ان نااہل لوگوں کو عہدوں پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔
12 اکتوبر ہے۔ آج ہی کے دن 1999 میں پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا۔ اس کا انجام کیا ہوا، وہ دنیا نے دیکھا۔ لیکن اُس وقت میری پارٹی کا سربراہ مجھے تنہا چھوڑ کر بھاگ گیا۔ وہ نہ بھاگتا تو شاید وہ مارشل لا زیادہ دیر نہ چلتا۔ تمام اپوزیشن، خصوصاً بینظیر بھٹو، نے اس مارشل لا کا خیرمقدم کیا۔ تقریباً سب نے مٹھائیاں بانٹیں۔
میں نے تنہا اس مارشل لا کا مقابلہ کیا۔ آج کے نام نہاد وزیر نے سعودی عرب اور دبئی میں نوکریاں لے لیں۔ مجھے 23 سال کی سزا ہوئی۔ مجھ پر تشدد بھی ہوا۔ میرے ساتھ سیل میں موجود لوگ جان کی بازی ہار گئے۔
ہم نے مقابلہ کیا، لڑ گئے، اور پھر وہ ڈکٹیٹر مرتے دم تک ملک میں قدم نہ رکھ سکا۔
آج اُس سے کئی گنا برا مارشل لا ہے۔ لیکن آج کے دن بھی، 27 سال بعد، اسلام آباد میں 111 بریگیڈ نافذ ہے۔
فرق اتنا ہے کہ آپ کا لیڈر ڈٹ کر ایک ڈکٹیٹر کا مقابلہ کر رہا ہے۔ وہ اس ڈکٹیٹر کو ہرا رہا ہے، اسے خوف زدہ کیے ہوئے ہے۔ اس کا کارکن بھی آج قربانیاں دے رہا ہے۔
میرے پاکستانیوں! اس کی اس قربانی کو رائیگاں نہ جانے دینا۔ اور مجھے یقین ہے کہ آپ ایسا نہیں کریں گے۔
ہو سکتا ہے میری باتیں آپ کو بری لگیں، لیکن یہ حقائق ہیں۔
مردان کے اندر جب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی چلے گئے تھے تو شاہد خٹک صاحب کدھر تھے؟ شفیع جان صاحب کدھر تھے؟ عاطف خان کدھر تھے؟ باقی لیڈرشپ کیوں موجود نہیں تھی؟ جب ورکر موجود تھے تو وہاں انہیں لیڈ کرنے والا کیوں نہیں تھا؟ انہیں بے یار و مددگار کیوں چھوڑا گیا؟ انہیں یرغمال کیوں بنوایا گیا؟
ایک نے ڈی چوک میں عمران خان صاحب کے ورکر کو یرغمال بنوایا، اور ایک نے مردان کے اندر ورکر کو یرغمال بنوایا۔
پشاور میں ایک رات ورکر کو کھانا تک نہیں دیا گیا تھا
کسی نے محمود اچکزئی صاحب کو بتایا ہے کہ جس کے ووٹوں پر وہ اپوزیشن لیڈر بن کر بیٹھے ہیں اس کی حکومت ختم کر دی گئی ، وزیراعلی لاپتہ ہے یا اچکزئی صاحب ابھی تک وہ درخت ڈھونڈ رہے ہیں جس کے نیچے بیٹھ کر مذاکرات کرنے تھے انہوں نے؟
آج سپیکر ہاؤس خیبر پختونخوا اسمبلی پر بھی فوجی وردیوں اور سادہ کپڑوں میں ملبوس سینکڑوں لوگوں نے حملہ کیا اور سپیکر بابر سلیم سواتی، سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید اور سٹاف کے ممبران سمیت کئی افراد کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا
اس دوران سپیکر ہاؤس پر فائرنگ بھی کی گئی، توڑ پھوڑ بھی کی گئی
صوبائی اسمبلی کا سپیکر ایک آئینی عہدہ ہے اور اسمبلی اور حکومتیں ختم ہونے پر بھی ان کا عہدہ قائم رہتا ہے لیکن عاصم لأ نے ملک کے آئین و قانون کو بوٹ کی نوک پر رکھا ہوا ہے اور پاکستان کے ہر اصول اور ہر قاعدے کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں.
#YahyaKhanPart2 #AsimLaw
مولانا کے پیچھے مت بھاگو، یہ جرنیلوں کا 12 واں کھلاڑی ہے!
وہ اب بھی پارلیمنٹ پارلیمنٹ کھیل رہاہے، وہ اس جرنیلی نظام کو خفیہ کندھا دیتے آرہے ہیں اور آگے بھی دیتے رہیں گے۔ مولانا کے پیٹ بھرنے کےلیے زرداری جو پیسہ دےرہا ہے وہ آپ کی سوچ سے بھی باہر ہے۔
استعفیٰ دیں اور نکلو سڑکو پر
بریکنگ نیوز 🚨عادل راجہ کا تہلکہ خیز بڑا انکشاف۔ سہیل آفریدی کو گرفتار کروانے میں گوہر کا ہاتھ ہے 🔥🔥
کل جب قافلہ مردان پہنچا تو سہیل آفریدی نے وہاں روکنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ برسٹر گوہر نے کال کی سہیل آفریدی کو کہ آپ سے مجھے ملنا ہے۔ آپ چیف منسٹر ہاؤس آئیں۔ جب سہیل آفریدی وہاں گئے تو معاملات نہیں بنے۔ گوہر واپس چلا گیا۔ جب گوہر واپس گیا تو راتوں رات پورا چیف منسٹر ہاؤس سیل کردیا گیا اور یہاں سے گورنر راج لگا، وہاں سہیل آفریدی کو گرفتار کرلیا گیا۔ میری بات غور سے سنو اگر گوہر کو نہ ہٹایا گیا تو معاملات اور زیادہ خراب ہوجائیں گے۔
محمود اچکزئی، علامہ راجہ، بیرسٹر گوہر، سلما آکرم راجہ آپ لوگوں کو یہ عہدے عمران خان کی بدولت ملے ہیں۔ اب پختون خواہ پر کھل کر سامنے کر قبضہ کر لیا گیا ہے، اب کیمٹیاں، اسمبلیاں، سینیٹ، اپوزیشن وعیرہ وعیرہ کھیلنا بند کردیں اور فوری استعفیٰ دے کر اس مارشل لا نظام سے باہر نکل آٸیں
پنجاب، سندھ، سینیٹ اور قومی اسمبلیوں سے فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ اب کوٸی جواز نہیں رہا اس اسمبلیوں میں رہنے کا۔
اگر اس پر بھی کمیٹی کمیٹی کھیلنا ہے تو یہ عمران خان کے غداری تصور ہوگی!
اس مارشل لا پلس کو کندھا دینا بند کرو اور اسمبلیوں سے باہر نکل آٸیں!