ن لیگ کی تیرہ سے اٹھارہ والی حکومت میں ایکسپورٹس میں اضافہ ہوا صفر۔ جی ہاں صفر ارب ڈالرز۔ تحریک انصاف کے ساڑھے تین سال میں یہ اضافہ ہوا قریب نو ارب ڈالرز۔ اس کا ڈیٹا آپ کو جس سرکاری ویب سائٹ سے کہتے ہیں مہیا کردیتا ہوں۔ آپ نے بجلی گھروں کا ذکر کیا تو اسکی بھی یاددہانی کہ عمران خان نے معاہدے ریوائز کرکے کرنسی ریٹ فکس کرکے کچھ تپش کم کرنے کی کوشش کی۔
عمران خان کو وہی سسٹم ورثے میں ملا جو ستر سال سے فوج اور پھر چالیس سال سے میاں صاحب چلا رہے تھے۔ کچھ بھی آئیڈیل نہیں تھا۔ مطیع اللہ جان کے ساتھ ہوا ، اسد طور کیساتھ جو ہوا یہ غلط تھا اور اسکا برابر ذمہ دار عمران خان بھی تھا۔ پھر بھی مطیع اللہ جان کو عمران خان نے اگلے روز بازیاب کروا لیا۔ اسد طور کو انصاف نہ مل سکا۔ سانحہ ساہیوال بھی آئی ایس آئی کا انٹیلی جنس فیلئیر تھا۔
لیکن ہم نے موازنہ کرنا ہے۔ کرلیتے ہیں۔ سانحہ ساہیوال کا موازنہ مریدکے سے کریں ، چھبیس نومبر سے کریں ، نو مئی سے کریں ، ہر روز کی غنڈہ گردی سے کریں ، گھر توڑے جانے سے کریں ، بچے اغواء کرنے سے کریں ، خواتین کے نام پر بلیک میل کرنے سے کریں۔ سانحہ ساہیوال عمران خان کی پالیسی نہیں تھا۔ چھبیس نومبر ، مریدکے ، گھر توڑنا یہ سب فوج اور موجودہ کٹھ پتلیوں کی پالیسی ہے۔
صحافیوں کی صورتحال ارشد شریف سے موازنہ کرلیں ؟ عمران ریاض سے کرلیں ؟ ہر دوسرے روز کسی نا کسی پر تشدد ہوتا ہے ، کسی کے گھر والوں کو دھمکیاں ملتی ہیں ، کسی کا بھائی اغواء ہوتا ہے۔ ایک بار پھر اسد طور اور مطیع اللہ جان کے ساتھ ہونے والا سلوک عمران خان کی پالیسی نہیں تھا فوج کا اختیارات سے تجاوز تھا۔ اب یہ سب فوج اور موجودہ کٹھ پتلیوں کی پالیسی ہے۔
ہیلٹھ کارڈ
چھ فیصد گروتھ ریٹ
ایکسپورٹس میں نو بلین ڈالرز کا اضافہ
روزگار کے ساٹھ لاکھ مواقع
سیٹزن پورٹل
پناہ گاہیں
لنگر خانے
گندم کا ریٹ چار ہزار مکمل ادائیگی کیساتھ
فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری سو فیصد آپریشنل
بلین ٹری سونامی
پختونخواہ میں ساڑھے تین سو چھوٹے ڈیمز کی تعمیر
سات نئے ہسپتالوں کی تعمیر
سکولز میں ای ٹرانسفر پالیسی
نیب کی ریکارڈ ریکوریز
علیم خان کو خلاف کرلیا سوسائٹئ ریگولیٹ نہیں کرنے دی
ترین کو خلاف کرلیا سبسڈی لینے پر انکوائری بٹھا دی
ان سب میں سے موجودہ کٹھ پتلیوں کے پاس ایک بھی اچیومنٹ نہیں ہے۔ کوئی ایسی مثال لائیں نا ہمارے لیے پچھلے سنہری ادوار کی۔ بہت کچھ ٹھیک ہوسکتا تھا۔ بہت کچھ غلط ہوا۔ عمران خان نے غلطیاں کیں۔ نہیں ہونی چاہییں تھیں۔ لیکن فرق کوئی نہیں ؟ یہ ظلم ہے۔ بات پھر وہی ہے۔ آئی فون اٹھارہ پرومیکس برگنڈی اور نوکیا تیتی دس دونوں سے کرنی تے کال ہی ہوتی ہے۔ لیکن فرق بہت ہے۔
ہمارے کچھ صحافی 78 سال سے آئین شکنی کا راستہ اختیار کرنے والوں کی معصومیت اور نظام انصاف سے مایوسی کا عمدہ ثبوت یہ لیکر آئے ہیں کہ ایک انسانی حقوق کے لئیے سرگرم وکیل کیخلاف جب جنرل باجوہ نے قانونی شکایت درج کرائی تو جج صاحب نے غیر قانونی فیصلہ دیا اور یوں یہ جی ایچ کیو مجبوراً غیر قانونی راستہ اختیار کرتا ہے۔
ایسے خوشامدی یہ دلیل بھول جاتے ہیں کہ جنرل باجوہ اور انکے پیش رو جرنیلوں کے دور میں ان موصوف سمیت جتنے سیاستدانوں اور صحافیوں کو اغوا، قتل یا قاتلانہ حملوں اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا یا جو عدالتی قتل کا شکار ہوئے اسکی وجہ بھی ہماری عدالتیں ہی تھیں کہ بیچارے فوجی آمر عدالتوں سے مایوس اور نا انصافی کا شکار ہو کر مارشل لأ لگاتے رہے اور ججوں سے پی سی او پر حلف لیتے رہے۔
جنرل(ر) باجوہ جیسے سیاسی انجینئیروں نے نواز شریف اور پھر عمران خان حکومت کیخلاف جو جو "قانون کا راستہ” اپنایا آج تک ہم اسکا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ جسٹس من اللہ نے تو ایمان مزاری کی ضمانت منظور کرنے کا اعتراف کیا تو خوشامدی موصوف کی رگ پھڑک اُٹھی مگر جسٹس نسیم حسن شاہ نے جو فوجی حکومت کے دباؤ میں بھٹو کے عدالتی قتل کا اعتراف کیا تو کیا وہ بھی جنرل ضیا کا عدالتوں سے مایوسی کا ثبوت تھا؟
بیچارے مظلوم فوجی آمر اور انکے "قلم کے ____ " کیسی کیسی دلیلیں گھڑ کر نمبر ٹانگتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کم از کم قلم کا سپاہی کہنا تو ایک قلم اور سپاہی دونوں کی توہین ہے۔ ہم صحافیوں کی عزتِ نفس اس مقام پر آ گئی ہے کہ خود پر تشدد کرنے والوں کیساتھ مل کر اب سچ کا اور تاریخ کا بھی عدالتی قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے۔
Breaking: Federal Constitutional Court has summoned all record of Imran Khan cases regarding his shifting in Shifa International Hospital for medical treatment from the Supreme Court.
Breaking: Big embarrassement for the Supreme Court as Attorney General for Pakistan Mansoor Awan has requested the Federal Constitutional Court to summon record of Imran Khan case from SC.
آئینِ پاکستان کو محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک مضبوط ریاست، قومی یکجہتی، انصاف، قانون کی حکمرانی اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کی ضمانت سمجھا جانا چاہیے۔ اگر آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے تو یہ ملک اور تمام شہریوں کے مفاد میں ہوگا۔
جہاں تک لانگ مارچ اور پُرامن احتجاج کا تعلق ہے، شہریوں کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے جائز مطالبات کے لیے آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے۔ عمران خان صاحب کی حقیقی آزادی کے خواب کے مطابق ہماری جدوجہد کسی عہدے یا کرسی کے لیے نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کے حصول کے لیے ہے۔
ہم تشدد یا قانون شکنی کے حامی نہیں۔ ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ عدالتیں اور متعلقہ ادارے آئین و قانون کے مطابق غیر جانب دارانہ اور منصفانہ فیصلہ کریں۔ جب تک ہمارے جائز مطالبات پر قانون کے مطابق انصاف نہیں ہوتا، ہم اپنے پُرامن اور آئینی حقِ احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
27 ستمبر انشاء اللّٰہ ✌🏻
Justice Ali Baqar Najfi, who himself allowed Nawaz Sharif travel abroad for medical treatment says that there should not be any discrimination as jail manual is very clear that prisoners will be shifted in govt hospital for treatment.
اللہ کا شکر ہے مروت جب پہلے دن پی ٹی آئی میں سرگرم ہوا میں نے خان صاحب کو جیل میں پیغام بھیجا کے یہ جنرلز کا ٹاؤٹ ہے۔
اللہ کا شکر ہے اس غدار کو پہلے دن پہچان لیا تھا۔ لیکن کچھ لوگ اسے باقاعدہ پرموٹ کرتے رہے۔
زرا آج یاد کریں کس کس نے پروموٹ کیا۔ وہ سب جنرلز کے کہنے پر اس کے سہولت کار تھے۔
آج تحریک انصاف ہر اس بیغرت سے سوال ضرور کرے جو کم از کم پچھلے ایک سال سے مروت کو گلے لگائے پھرتے ہیں اور سوال یہ بھی بنتا ہے کہ عمران خان کی واضح ہدایات کے باوجود اسے جماعت سے کیوں نہیں نکالا گیا؟
چک شہزاد میں تیار ہونے والی سازش کے ہر کردار کو سامنے لایا جاے
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے وزیر اعلی کا حلف نامہ اپنی عدالت میں پڑھوایا آرٹیکل 5 ریاست سے وفاداری متعلق سوال اٹھایا پوچھا وزیر اعلی نے (5 اگست) بیان کیوں دیا ؟؟
اس کے ردعمل میں
بابر سلیم سواتی اسپیکر خیبرپختونخواہ اسمبلی نے اسمبلی اجلاس میں چیف جسٹس ہائیکورٹ کا حلف نامہ پڑھوا دیا ممبران سے پوچھ بھی لیا حلف نامہ پر عمل کر رہے ہیں ؟؟ ممبران نے نو نو کہہ دیا
اسی لئے کہتے ہیں سیاسی معاملات میں عدالت کو نہیں جانا چاہیے کیونکہ سیاسی بیانات کی بنا پر "ریاست سے وفاداری" جانچنا شروع کر دیں گے تو پھر کون سیاسی لیڈر بچے گا
پھر حلف تو سب نے اٹھایا ہوتا ہے کیا عدلیہ سمیت سب حلف کی مکمل پاسداری کر رہے ہیں ؟؟؟ سوال تو بنتا ہے
پلاننگ جنہوں نے بھی کروائی ہو ۔ اصل بات ھے وفاقی آئینی عدالت نے درخواست پر نمبر بھی لگا دیا اور سماعت کے لیے فکس بھی کردیا اس وقت جب لانگ مارچ کا اعلان ہو چکا ھے۔ درخواست پر رجسٹرار آفس کی طرف کوئی اعتراض بھی نہیں لگایا گیا ۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی طرف سے کہا جاتا ھے کہ ماضی میں عوامی مفاد کے نام پر سپریم کورٹ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوئی اور ان کی حکومتوں کو کسی کی ایماء پر کمزور کیا لحاظ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد اب آئینی عدالت میں ایسا نہیں چلے گا۔ لیکن اس کے برعکس گزشتہ دس ماہ میں موجودہ وفاقی آئینی عدالت نے تین کیسز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف ڈائریکٹ entertain کیے ہیں اور 2 میں تو عبوری احکامات بھی جاری ہو چکے ہیں۔
شیر افضل صاحب صرف اتنا بتا دیں کہ “وہ کون تھے” جنہوں نے اس پٹیشن کی پلاننگ کروائی؟ آپ کہاں بیٹھے تھے اور اس وقت ساتھ کون کون بیٹھا ہوا تھا؟
اگر آپ اتنا ہی سچ بول دیں تو عمران خان کے ووٹرز کو پتہ چل جائے گا کہ اس سب کے پیچھے “وہ کون تھے”؟
ویسے یہ پٹیشن کروانے والوں نے آپ کو یہ نہیں بتایا تھا کہ آپ لوگ تو خود اسمبلی اور عہدوں میں عمران خان کے دئیے ہوئے ٹکٹ کی بدولت پہنچے ہیں جسے اب آپ سزا یافتہ اور نااہل قرار دے رہے ہیں؟
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر ایک 'غیر معمولی' کیوں چیف جسٹس؟
پہلے اپنی ہی ہائیکورٹ کے جج طارق محمود جہانگیری کو جوڈیشل آرڈر کے ذریعے گھر بھیجا ۔
اس کے بعد اپنے ہی ہائی کورٹ کے 3 ججز کی ٹرانسفر ان کی مرضی کے خلاف کروائی ۔
اب ایک صوبہ (خیبرپختونخوا)کے 2 سینئر ترین آفیسرز چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل سے بیان حلفی طلب کرلیا ھے۔
شاید 'غیر معمولی' فیصلہ کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے حکومت نے لاہور ہائیکورٹ میں سینیارٹی پر 15 نمبر پر کام کرنے والے جج کا اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کیا اور پھر چیف جسٹس بنوایا
نوٹ: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی جسٹس ڈوگر کے ٹرانسفر کی منظوری دی ۔
"Let's rejoice it"
There is an impression that majority high courts judges can't annoy the federal govt otherwise their elevation to higher courts (SC & FCC) will not be approved by JCP wherein. executive has dominant role in decision making. Most of senior HC judges are already beneficiary of present appointment system working after 26 & 27th amendments .
ایسے کالے قانون منصفانہ ٹرائل کے آئینی تقاضے کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور انکا اطلاق کسی بھی جگہ نہیں ہونا چاہیئے۔ ذمے دار ریاست اور ریاستی ادارے اپنا نام اور چہرہ چھپاتے نہیں بلکہ ڈٹ کر کھلے عام قانون کے مطابق کاروائی کرتے ہیں۔ خفیہ اداروں کے علاوہ انصاف دینے والے اداروں کو دھشت گردوں اور چوروں کی طرح اپنا چہرہ اور اپنی شناخت چھپانا نہیں چاہئیے۔ ایسا کرنا حکومت اور ریاستی اداروں کی کمزوری اور عوام کا ان پر عدم اعتماد بڑھاتا ہے۔ ایک ایٹمی ملک میں ریاستی اداروں کا بینامی انصاف غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تو کیا ملکی سرمایہ کاروں کو بھی بھگا دیگا۔
جسٹس راحیل کامران ایک بار پھر وکالت کیطرف لوٹ آئے
پانچ سال کی ججی کے بعد اب لاہور ہائی کورٹ سے پنشن بھی ملے گی
شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
جلال لکھنوی
My sister, Dr Uzma Khan, filed a petition before the Supreme Court on the 6th of May 2026 through Uzair Karamat Bhandari, ASC, for Imran Khan’s examination and treatment in the presence of his personal doctors and family members.
On 18th August, a three-member Supreme Court bench ordered the government to shift Imran Khan to Shifa International Hospital within 2 days. The government blatantly violated the order.
The government did not shift Imran Khan to Shifa International Hospital. All the other aspects of the order have also been disobeyed.
The Supreme Court had also ordered:
1.Constitution of a medical board in consultation and coordination with the management of Shifa International Hospital
2.Dr Faisal Sultan, Imran Khan’s personal physician, to be associated with the medical examination and treatment
3.Imran Khan be allowed to speak to his sons twice a week
4.Imran Khan be allowed to meet with his family once a week.
All the above reliefs were in accordance with the Constitution, Prison Rules and earlier orders/precedents.
NONE of the above directions have been complied with. The only limited access granted to the family has been to my sister, Noreen Niazi, who was allowed to meet Imran Khan on each of the previous two Tuesdays. Inexplicably, before meeting Imran Khan she was made to sign an affidavit undertaking that she will not speak to the press after the meeting.
In view of the gross and deliberate violation of the order, Dr Uzma Khan filed a petition for contempt of court. Despite the fact that our lawyer, Uzair Bhandari, filed two applications, early fixation and hearing of the contempt petition has not been granted and it has been fixed on 16th September.
The Constitution and the law require proper check up and treatment for Imran Khan and an END to his torture through isolation and solitary confinement!! This is what the Supreme Court order required. The demand that this be done is not extraordinary: these are Imran Khan’s fundamental rights guaranteed by the Constitution. If the government has no respect for the Constitution and the decisions of the Supreme Court, and can simply disregard its orders, what other forum is left for us?