السلام علیکم جناب عزت مآب سیکرٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم صاحب، امید ہے آپ اس وقت جہاں بھی ہوں گے ٹھیک ہوں ��ے 🤩
ایک سوال پوچھنا تھا، پنجاب میں 4 اکتوبر لانگ مارچ کے حوالے سے خاموشی کیوں ہے؟
کوٹ لکھپت میں بہنوں سمیت خواتین کی بھوک ہڑتال کو 48 گھنٹے ہو چکے ہیں ، عظمی خان صاحبہ کو ادویات نہیں پہنچائی گئیں نہ ہی نظر کی عینک پہنچائی گئی اور عظمی خان اب جیل والی ادویات بھی نہیں کھا رہیں : یاد رہے وہ دل کے عارضہ میں مبتلا ہیں.
تشویشناک خبر؛🚨
پاکستان پہلی بار گلوبل ٹیررازم انڈیکس میں دنیا میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ یہ ملک کے لیے انتہائی تشویشناک اور افسوسناک صورتحال ہے۔
پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر میڈیا اس اہم اور تشویشناک موضوع پر بات تک نہیں کر رہا۔
آج فہد کی سالگرہ ہے۔
اُس کی زندگی کا ایک اور سال ناحق ملٹری قید کی نذر ہوگیا۔
بوڑھے ماں باپ آج بھی اپنے بیٹے کی رہائی اور انصاف کی آس لیے بیٹھے ہیں۔ آخر انصاف کے لیے مزید کتنے سال انتظار کرنا ہوگا؟ کب ظالموں کو رحم آئے گا؟ کب سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل ہو گا؟ کب یر اندھیری رات، یہ تکلیف ختم
ہو گی۔
تم بہت ہمت والے ہو فہد۔ تم ہمارے ہیرو ہو!
#ہمیں_اپیل_کا_حق_دو
#خاموش_صدائیں
#khamosh_sadayen
عمران خان کی تینوں بہنوں نے پچھلے 42 گھنٹے سے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔
عالیہ حمزہ، صنم جاوید اور فلک جاوید بھی آج سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔
آپ کی پیاری قیادت اس پر مکمل طور پر خاموش ہے۔۔۔۔۔
تحریک انصاف کے کچھ MPAs کو اغوا کیا جارہا ہے تاکہ عدم اعتماد کے زریعے خیبرپختونخوا سے حکومت ختم کی جائے۔ تحریک انصاف کو اس معاملے کو دیکھنا چاہیے۔
Rt please
سوات میں رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان اور مردان میں رکن قومی اسمبلی مجاہد خان کی رہائش گاہوں پر نامعلوم افراد کے حملے، گھروں میں موجود سامان کی توڑ پھوڑ اور چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی انتہائی تشویش ناک اور قابلِ مذمت اقدام ہے۔
خیبر پختونخوا کا اپنا سیاسی و سماجی کلچر ہے، جہاں شدید سیاسی اختلافات کے باوجود بھائی چارے، رواداری اور باہمی احترام کو ہمیشہ مقدم رکھا جاتا ہے۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے سے گریز کیا جائے۔
سوچ، نظریے اور سیاسی جدوجہد کو طاقت کے زور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جبر اور خوف کے ذریعے سیاسی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوششیں معاشرے میں فاصلے مزید بڑھاتی ہیں۔
یہ کارروائیاں کس نے کیں اور ان کے ذمہ دار کون ہیں؟ ایسی کارروائیاں ان نقاب پوش عناصر کو تقویت دیتی ہیں جو آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کو نہیں مانتے۔
کے پی وزیر شکیل خان پولیس سٹیشن گئے پرچہ درج کروانے کے لیے، پولیس نے انکا پرچہ درج کرنے کی بجائے ایجنسیوں کے بندوں کو بلوا کر سادہ وردی میں، شکیل خان کو گرفتار کروا دیا۔
ریستی غنڈہ گردی اسکو بولتے ہیں
عجیب صورتحال ہے جماعت اسلامی نے لانگ مارچ موخر کیا تو حکومت اسکی تعریفیں کر رہی ہے مگر تحریک انصاف نے اپنا لانگ مارچ موخر کیا تو حکومت اور ٹاؤٹ صحافی غصے میں پاگل ہو رہے ہیں کہ پی ٹی آئی نے لانگ مارچ موخر کیوں کیا....
😥