My rana and i are still alive in Gaza.🇵🇸
If you see this photo, please don't scroll past in silence.
Write anything - even a single dot means so much to us and reminds us that we are not alone.🥹💔🙏
https://t.co/dZz4mSRv4i
عمران خان کی کشمیر اور بھارت کے حوالے سے پالیسی بہت تگڑی اور موثر تھی جبکہ اسٹیبلشمنٹ برطانوی ہائی کمشنر کی درخواست پر عمران خان کو ہاتھ ہولا رکھنے کا کہا کرتی تھی ۔۔۔ یہ کہنا ہے نسیم زہرا اور مشاہد حسین سیدّ کا جو کبھی پی ٹی آئی کے حامی نہیں رہے۔
My family desperately needs £200 to buy food. 💔
We’ve raised only £70 so far, and we are still far from reaching what we need.
Please, if you can help even a little, it could mean food on our table tonight.
https://t.co/yRZkDzAWVN
سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک اسرائیلی سنائپر کو ایک معصوم فلسطینی بچے کی پیٹھ پر گولی چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ 11 سالہ لڑکا، صدام رجب، اس واقعے کے 9 دن بعد شہید ہو گیا.
امت کے حکمرانوں، جرنیلو۔۔کیا کل روزحشر اس کا جواب دے سکو گے؟؟؟
امت مسلمہ کے حکمران، جرنیل اور ہر وہ فرد جو خاموش رہا وہ اس قتل عام میں سہولت کار ہے۔۔۔
فلسطین فلسطینیوں کا ہے پورا کا پورا ہے اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہوگا انشاءاللہ۔
Starvation is eating away at their bodies before the bombing.
An elderly Palestinian man, exhausted by hunger and illness, lying on the sidewalk with an emaciated body unable to get up, his injured foot wrapped in a worn-out bandage.
مسکینوں کا کھانا لانے والی گاڑی کو بھی معاف نہیں کیا جا رہا، دیدہ دلیری یہ کہ اگر چالان کی وجہ پوچھی جائے تو پرچہ کاٹ دوں گا اور حوالات میں بند کردوں گا
یہ فوٹیج 35 سال پرانی ہے۔
اس میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیل کئی دہائیاں قبل فلسطینیوں کے ساتھ کیسا سلوک کر رہا تھا۔
اسرائیل کا یہ ظلم و جبر 7 اکتوبر کو شروع نہیں ہوا. یہ نسلوں سے ایک حقیقت رہا ہے۔
کیا میں آپ کا ہاتھ پکڑ سکتی ہوں؟
وزیراعظم عمران خان جب ملائشیا مہاتیر کی دعوت پر گئے تو مہاتیر کی بیوی فرسٹ لیڈی نے عمران خان سے کہا “کیا میں آپ کا ہاتھ پکڑ سکتی ہوں”۔ یہ ایک ماں والی خواہش تھی جو عمران خان کا ایک دفعہ ہاتھ پکڑنا چاہتی تھی۔
عمران خان نے عمران خان کو دُنیا کے طول و عرض میں جتنی مقبولیت اور عزت دی یہ برصغیر پاک و ہند میں کسی اور لیڈر کے نصیب میں نا آی، لیکن احساس کمتری کا شکار چند بونوں نے اُسے تین سال سے جیل میں قید رکھا ہوا ہے۔
آج مہاتیر کی سو سالہ بیوی تُن سیتی حسماں بنت محمد علی صبح نو بج کر بیس منٹ پر نیشنل ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کوالالمپور میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔