پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی کابینہ کا اہم اجلاس
پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی کابینہ کا اہم اجلاس سینئر نائب صدر سینیٹر نور الحق کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں صوبے کی منتخب حکومت کو معطل کرنے، گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ جیسے غیر جمہوری اقدامات کی شدید مذمت کی گئی۔
خیبر پختوُخوا کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، صوبائی صدر جنید اکبر خان، سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید اور پارٹی قائدین کے اغوا کو شرمناک قرار دیا گیا۔
کابینہ کا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر اغوا قیادت کی فوری بازیابی اور رہائی کا مطالبہ۔
وفاقی حکومت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف صوبہ بھر میں پُرامن احتجاج کے لیے تمام تنظیموں کو ہدایات جاری کی گئیں۔
منتخب حکومت کو ہٹانے کی کوشش عوامی مینڈیٹ اور جمہوری اقدار پر حملہ ہے، اجلاس میں مؤقف۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عوام کے مینڈیٹ کا سودا نہ کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
گورنر نے ڈکٹیٹر کے لہجے میں خیبرپختونخوا کے عوام کو مخاطب کیا، جو قابلِ مذمت ہے۔
ساڑھے چار کروڑ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، اجلاس میں مطالبہ۔
چیئرمین عمران خان کو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق حقوق فراہم کیے جائیں۔
صوبائی کابینہ کی جانب سے چیئرمین عمران خان کی فیملی کو فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ۔
بلوچستان کے بدتر حالات سے منہ چھپا کر خیبرپختونخوا پر اپنی انا کی تسکین کرنا صرف بغضِ تحریک انصاف ہے۔
لانگ مارچ سے خوفزدہ عناصر نے دہشت گردی کے مسئلے کو جواز بنا کر عوامی مینڈیٹ پر حملہ کیا، اجلاس میں مؤقف۔
پی ٹی آئی ملک کی مقبول اور ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے، غیر جمہوری اقدامات جمہوری پارٹیوں کا شیوہ نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف جمہوری حقوق، آئین کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، اجلاس میں عزم۔
خیبرپختونخوا کے عوام کے فیصلے کا احترام کیا جائے اور سیاسی انتقام کا سلسلہ بند کیا جائے، اجلاس میں مطالبہ۔
کابینہ کا صوبے میں جمہوری نظام، آئینی حقوق اور سیاسی استحکام کے تحفظ کے عزم کا اعادہ۔
صوبائی کابینہ کا عدلیہ سے اپنے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ تاکہ ملک مزید بحران کا شکار نہ ہو۔
ڈپٹی جنرل سیکریٹری نواز شانگلہ نے میٹنگ کا اعلامیہ پیش کیا۔
اکرام کھٹانہ ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری تحریک انصاف خیبرپختونخوا
سہیل آفریدی کو سمجھایا جارہا ہے کہ سیاست میں مصلحت ہوتی ہے ، لچک دکھانا پڑتی ہے،حالات دیکھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں، ان نصیحتوں میں ایک وضاحت نہیں ملتی کہ مصلحت کے وہ کون سے تقاضے تھے جو پورے نہیں کیے گئے ؟ منتخب حکومت کو اپنے وجود کے بدلے آخر کیا چھوڑنا چاہیے تھا ؟ حبیب اکرم
رجیم چینج کے وقت کہا تحریک انصاف نے معیشت تباہ کردی ہے
عمران خان نے بڑے بڑے جلسےشروع کردیے تو کہا یہ انتشار کی سیاست کرتے ہیں
پھر بھی تحریک انصاف قابو نہ آئی تو عمران خان کو عدالت سے اغواء کرکے کہا یہ شہیدوں کی توہین کرتے ہیں
پھر خود ہر جگہ سے ناکام ہوگئے تو اب تحریک انصاف کو دہشتگرد بنا دیا ہے
عوام کے حقوق، ووٹ کی حرمت اور جمہوری آزادیوں کا تحفظ آئینی ریاست کی پہچان ہے۔ آئین کی خلاف ورزی کسی صورت معمول نہیں بننی چاہیے۔
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
ایاز صادق کو اسپیکر کہنا جرم ہے، اب اسے حوالدار اسپیکر نہیں نہیں بلکہ لانس نائیک کہوں گا، اس کی جو حرکتیں ہیں، اس کا ایک رینک نیچے کرتا ہوں، محمود خان اچکزئی
محمود خان اچکزئی کہتے ہیں کہ اسپیکر حلف لیتا ہے، قسم کھاتا ہے کہ وہ غیرجانبدار رہے گا، اس اسپیکر کی مدد سے پی ٹی آئی کے 97 ایم این ایز کو 72 پر لا کھڑا کیا گیا،پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ اراکین اسمبلی کی تقاریر کا ریکارڈ غائب کیا جارہا ہے، ان کی کی تقاریر کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جا رہا، حالانکہ پاکستان بننے سے آج تک قومی اسمبلی کی تمام تقاریر کا ریکارڈ موجود ہے، آپ پچاس سال پہلے کا ریکارڈ دیکھ سکتے ہیں کہ کس نے کیا تقریر کی تھی؟
پہلے طالبان کو واپس لائے۔ پھر دہشت گردی کروائی۔ پھر اس کے بہانے حکومت پر قبضہ۔ اب جنرلز اصل کام کی طرف آئیں گے۔ لائے ہوئے دشت گرد اب دہشت گردی کم کر دیں۔ جنرلز معدنیات نکال کر بیچیں گے۔ اور کہیں گے دیکھو صوبے میں امن ہو گیا۔
جس دن نیازی کی ٹانگ پر گولی لگی یوتھیے اُس دن کو بھی ٹانگ ڈے مناتے جبکہ 12 اکتوبر کو میاں صاحب کی گانڈ پھٹی مجال ہے ایک پٹواری نے بھی میاں صاحب سے کہا ہو گانڈ دے۔۔۔
ان کے منہ کو خون لگ چکا ہے اپنے شہریوں پر گولیاں چلانے کی لت پڑ چکی ہے۔ ایک طرف تھوڑ پھوڑ اغوا کا سلسلہ جاری ہے دوسری طرف نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں اسی مقصد کے لیے ایمرجنسی لگائی نا کہ انہیں بادشاہ سلامت کی غلامی قبول نہیں تو کچل ڈالو، کرش کر دو۔ دہشت گردوں کو بسانے والے پر امن شہریوں پر ہی گولیاں برسا سکتے ہیں۔ اسی خیبر میں جب صوبائی اسمبلی کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ منعقد ہوا اور امن کے لیے پورا صوبہ سیاسی مذہبی برداری کی تقسیم سے بالاتر ہوکر متحد ہوا تو اگلے دن تم نے ہیلی کاپٹرز بھر کر اینکرز روانہ کیے، خیبر کو دہشت گردی کا مرکز اور پاکستان کے مسائل کا جڑ بنا کر پیش کیا، بیانیہ بنا کر عوام کو نکالنے کا حکم جاری کیا۔ صرف اس لیے کہ اس حلقے سے منتخب پہلا قبائلی وزیراعلی بدنام ہو۔ پورے خیبر نے چیخ چیخ کر کہا کہ برف باری میں کون سا آپریشن، کیوں بے گھر کر رہے ہو، کہاں جائیں گے ہم؟ پھر جب وہ اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوکر کہنے لگا کہ اب جب تم نے بندوق کی زور پر میری قوم کو نکالا ہے تو میں انہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ جواباً تم نے پریس کانفرنس کرکے سینہ ٹوک کے کہا، یہ کہتے رہیں کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے، آپریشن تو ہو رہے ہیں۔
پھر کیا ہوا؟ وہی۔ سردیوں میں آپریشن ہونا نہیں تھا، نہیں ہوا۔ عوام بے گھر ہوگئے پھر جب صوبائ حکومت نے زبردستی بے گھر افراد کو ریلیف دیا تو اسی کی لسٹ جاری کرکے کہا کہ صوبائ حکومت نے آپریشن کی حمایت کرلی۔ ان کو بے گھر، برف باری میں بغیر ٹینٹ، بغیر کھانے کے چھوڑ دیتے؟ تم سے ظالم ہیں کیا؟
آج دیکھ لو وہی خیبر عمران خان کے لیے کھڑا ہے تمہارے خلاف اور تم وطن فروش، ضمیر فروش۔ دہشت گردوں کے بجائے اس قوم پر گولیاں برسا رہے ہو۔ کتنے مکار ہو، عیار ہو، غدار ہو تم!
فوج تحریک انصاف کے ہاتھوں کارکردگی ، الیکشن ، میڈیا ، احتجاج ، بیانیے اور مقبولیت میں ہر جگہ شکست کھا چکی ہے۔
بندوق کی طاقت کے خلاف تو خود فوج بنگالیوں اور بلوچوں کے سامنے نہیں ٹھہر پائی۔
IMP: Dear Pakistan Army soldiers and officers. You can either be involved in destruction of democracy in your country, or leak inside information to us.
I will be responsible with that info and protect your identity with my life.
Email my secure line: [email protected]
The Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa Sohail Afridi and Speaker of the provincial assembly Babar Saleem Swati are still missing after they were abducted on Sunday from their official residence by the military regime of General Asim Munir.
#AsimLaw#EndEnforcedDissapearences
حیرت اور افسوس ان تبصرہ پاڑوں پر ہے جو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی عمران خان سے خفیہ ملاقات کو سنجیدگی سے پھیلا رہے ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل ہے تنویر مرغی فروش نہیں کہ خفیہ ملاقات کرے گا۔ اس سے پہلے ایک اور صحافی ہفتوں تک بضد رہا کہ عمران خان شفاء کے ایک خفیہ وارڈ میں ہے۔