بلوچ گروہوں اور ریاست کے درمیان لڑائی میں دونوں جانب سے شدت آئی ہے۔ ہم اس پر کچھ نہیں کہہ سکتے، انہوں نے اپنے لئے یہی راستہ چنا ہوگا لیکن اس کا یہاں رہنے والے پشتونوں پر خطرناک اثرات پڑے ہیں۔ نا ہمارے لوگوں کی گاڈیاں محفوظ ہے، نا عزتیں محفوظ ہے۔ سینکڑوں کوئلے کے مزدور قتل ہوئے
ہنہ، ہرنائی، زیارت میں لوگ قتل ہوئے۔ نا کسی تحصیلدار، نا کسی اے سی، نا کسی ڈی سی، نا کسی سیکرٹری داخلہ، نا چیف سیکرٹری، نا وزیر اعلی نے استعفی دیا۔ نا کسی کو نوکری سے نکالا گیا نا کسی کو اس کا زمہ دار ٹہرایا گیا۔
یہ مذاق ہے ہمارے عوام کے ساتھ۔
کوئٹہ کراچی شاہراہ پر لوگوں کو بسوں سے اتار کر مارا جارہا ہے، بسیں جلائی جا رہی ہے، عورتوں کو مارا جارہا ہے۔ کوئی زمہ داری قبول نہیں کرتا۔
آپ آزادی کے متوالے ہیں تو آپ کی زمہ واری بنتی ہے کہ آپ کے علاقے میں کوئی بدمعاشی نا کریں۔
پشتونوں کی تمام شاہراہیں بند کردی گئی، تجارت بند کردی گئے ہے۔ پشتونوں کے حلیہ کو دنیا کے سامنے دہشتگرد کے طور پر پیش کیا گیا کہ بس جہاں داڑھی اور پگڑی والا دکھائی دے اسے پکڑو۔
باجوڑ سے خیبر تک بدامنی ہے، سندھ و پنجاب میں بھی ہم گزارہ نہیں کر پارہے۔ پشتونوں کی زندگی تنگ ہوگئی ہے
پاکستان میں پشتونوں کی زندگی مشکل میں پڑ گئی ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 29،30 اور 31 اگست کو جنوبی پشتونخوا کے پشتونوں کا کوئٹہ میں جرگہ بلا رہے ہیں۔
دوستوں سے مشورہ کرکے شاید ستمبر یا اکتوبر میں تمام پشتونوں کا جرگہ بلائیں۔
کشمیر میں پہلے بھی لوگ مارے گئے اور کل پھر براہ راست لوگوں پر گولیاں برسائی گئی جیسے پرندوں کا شکار کیا جارہا ہو۔ اس بربریت کی ہم شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
پاکستان کے تمام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہم سب کو یک زباں ہو کر اس وحشت کے خلاف کشمیری عوام کا ساتھ دینا ہوگا۔
جو اپنا ضمیر فروخت کرے، وہ وفادار کہلاتا ہے،
جو ضمیروں کا خریدار ہو، وہ بھی وفادار گردانا جاتا ہے،
مگر جو شخص ان دونوں مکروہ افعال سے متنفر ہو،
اور صدائے عدل بلند کرے، اسے غدار قرار دیا جاتا ہے۔
تف ہے ایسے فرسودہ نظامِ عدل پر، اور صد ہزار لعنت!
ہمارے لوگوں کی جدی پشتی ہزاروں ایکڑ زمینیں لوگوں کو الاٹ کی جارہی ہے۔
گوادر میں آپ کہتے ہیں کہ غیر مقامی لوگوں کے آلاٹمنٹس کینسل کی جائیں پھر آپ یہاں یہی کام کیوں کر رہے ہے؟
پشتونخوامیپ ان ناجائز آلاٹمنٹس کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔
کوئٹہ کراچی شاہراہ پر لوگوں کو بسوں سے اتار کر مارا جارہا ہے، بسیں جلائی جا رہی ہے، عورتوں کو مارا جارہا ہے۔ کوئی زمہ داری قبول نہیں کرتا۔
آپ آزادی کے متوالے ہیں تو آپ کی زمہ واری بنتی ہے کہ آپ کے علاقے میں کوئی بدمعاشی نا کریں۔
کشمیر میں پہلے بھی لوگ مارے گئے اور کل پھر براہ راست لوگوں پر گولیاں برسائی گئی جیسے پرندوں کا شکار کیا جارہا ہو۔ اس بربریت کی ہم شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
پاکستان کے تمام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہم سب کو یک زباں ہو کر اس وحشت کے خلاف کشمیری عوام کا ساتھ دینا ہوگا۔
پاکستان میں پشتونوں کی زندگی مشکل میں پڑ گئی ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 29،30 اور 31 اگست کو جنوبی پشتونخوا کے پشتونوں کا کوئٹہ میں جرگہ بلا رہے ہیں۔
دوستوں سے مشورہ کرکے شاید ستمبر یا اکتوبر میں تمام پشتونوں کا جرگہ بلائیں۔
پاکستان ہوا میں لٹکتی کوئی چیز نہیں بلکہ چار بڑی قوموں کے وطنوں پر مشتمل ایک ملک ہے۔ نا کوئی کسی کا مفتوح ہے نا کوئی فاتح۔ نا کوئی کسی کی کالونی ہے نا کوئی آقا۔ ایک رضا کارانہ فیڈریشن ہے لیکن پاکستان کے بنتے ہی آئین نہیں بننے دیا گیا اور اسی کشمکش میں ایک دفعہ ہمارا ملک ٹوٹ گیا۔
انسان اپنی اجتماعی دانش میں اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ملک جمہوریت کے تحت چلے گا۔ اس کی بنیادی وجہہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہماری انگلیاں جلتی ہے اور وہ یہ تھی کہ جس آدمی کو بندوق کا شوق ہے وہ جا کر سرحدوں کی رکھوالی کریں، جرگے میں بیٹھنا اس کا کام نہیں ہے، جرگہ سسٹم چلائے گا۔
پاکستان کے جاسوسی ادارے اتنے competent ہے کہ گدلے پانی میں سوئی ڈھونڈ سکتی ہے لیکن باجوڑ سے بلوچستان تک جو کچھ ہوریا ہے یہ کسی کو نظر نہیں آتا۔ کیوں؟
ارادہ کیا ہے؟
اور جب ہم کچھ کہتے ہیں تو فورا غداری کے فتوے لگ جاتے ہیں۔
کشمیر کے لوگ چاقو چھریوں، بندوقوں سے دور لوگ تھے۔ وہ اس حد تک کیوں مجبور ہوئے؟
ان پر گولیاں چلائی گئیں اور ۱۱ سے زیادہ لوگ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس دوران کشمیر کی مختلف تنظیمیں ہم سب کے پاس آئیں۔ انہوں نے کہا بھائی مہربانی کریں ہمارے درمیان میں پڑیں۔
اگر آپ کو شوق ہے، بھیج دو ہمیں
جیل۔
ویسے بھی آپ نے کوٹ لکھپت جیل کے 70 سالہ اسیران کو 280 سال سزائیں سنائی۔ ہوا کیا ہے۔ خدا کو مانو۔
جو لوگ اسمبلیاں بیچتے ہیں، وہ پاکستان کے ہیروز ہیں اور ایک جو جمہوری پاکستان چاہتے ہیں آپ اس کے خلاف ہے
12 بجے زیارت سانحے میں ان لوگوں نے اپنے افسران کو کہا کہ ہماری گولیاں ختم ہو رہی ہیں، خدا کے لیے ہم تک مدد پہنچائیں۔ پانچ بجے تک وہ محنت کرتے رہے، پانچ بجے کے بعد انہوں نے اپنے عزیزوں کو ٹیلی فون کیا کہ ہم بالکل بے بس ہو گئے ہیں، اگر وہ نہیں آتے تو آپ کچھ امداد پہنچائیں۔