بی ایل اے اور اُس کے سہولتکاروں کو ایک زعم تھا،خوش فہمی تھی اور بڑے تکبر سے کہتے تھے کہ اِن پہاڑوں پر آکر دکھاؤ،نو گو ایریا ہے،رسائی نہیں ہے،بی ایل اے کے سرمچاروں کو تلاش نہیں کرسکتے۔
اب نہ صرف پہاڑ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی دسترس میں ہیں بلکہ بی ایل اے کی کمین گاہیں،خفیہ ٹھکانوں پر بھی جوان پہنچے ہوئے ہیں لیکن وہاں سرمچار نہیں ہیں کیوں کہ کچھ تو فرار ہوتے مارے گئے اور کچھ مارے جانے کے ڈر سے فرار ہوگئے۔
بلوچستان میں عوام کو محفوظ بنانے اور صوبے کو ایک ترقی یافتہ ماڈل بنانے کے لئے جو بھی کارروائی درکار ہے،اقدامات کی ضرورت ہے وہ تمام کیے جارہے ہیں۔
اس ویڈیو میں پاکستان کیلئے ایک سبق ہے کہ ایک پاگل کتے نے بھینس کو کاٹا ۔ تو ایک بندے نے آکر کتے کو ڈنڈے سے مارا اور بھینس کو بچالیا لیکن ایک شخص کتے کا دفاع کرنے پہنچ گیا کہ اس کو نہیں مارو ۔ تھوڑی دیر بعد کتے نے اُسی دفاع کرنے والے کو کاٹ لیا ۔
اور ناظرین ابصار عالم کو فرشی اور سرخ سلام ہے جنہوں نے بی بی سی جیسے ادارے کی اتما رول کر رکھ دی ہے اور ایک ہی مطالبہ کیا ہے کہ آپکا ادارہ غزہ میں جاری نسل کشی پر آواز کیوں نہیں اٹھاتا
بی بی سی والیو سناؤ فیر