کسی ایپلی کیشن کو کھولنے، اسکرین پر نگاہ ڈالنے اور ہر روز انسانیت کے مشترکہ وجود کو یوں بکھرتے دیکھنے کے لیے ایک اذیت ناک حوصلہ درکار ہے۔
آپ محض ایک سکرول کرتے ہیں، اور چند ہی لمحوں میں آپ کے کئی گھنٹے چھن جاتے ہیں، روح پر ایک بوجھ اتر آتا ہے اور آپ خود کو اندھیرے میں بیٹھا ہوا پاتے ہیں، ایسی حقیقتوں پر رو رہے ہوتے ہیں جنہیں شاید کسی انسانی دل کو کبھی برداشت کرنے کے لیے بنایا ہی نہیں گیا۔
ہر روز ہماری اسکرینوں پر ایک نیا قیامت خیز منظر لہو لہان ہوتا ہے۔ کہیں ایک ماں خود غرض ہو کر، اپنے ہی بچوں کی زندگیاں ختم کر دیتی ہے۔ کہیں ایک باپ معاشی تباہی کے گھٹن زدہ بوجھ تلے اس قدر کچل جاتا ہے کہ اپنا ہی گھر ایک قبرستان بنا دیتا ہے۔ کہیں کوئی خودکشی کی طرف چلا جاتا ہے، ایک ایسی دنیا کا گلا گھونٹتے ہوئے جس نے اسے تحفظ، آسودگی اور جینے کی کوئی پناہ گاہ نہیں دی۔
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں یاسیت اور بربادی روزمرہ کا معمول بن چکی ہے۔ روز ایسی داستانیں سسکتی ملتی ہیں جو ہمارے وجود کا مذاق اڑاتی ہیں
مگر جب ظلم کا رخ ننھے بچوں، خصوصاً معصوم بچیوں کی طرف ہو تو اس کی اذیت کی نوعیت ہی کچھ اور ہو جاتی ہے۔ روح کو چیر دینے والا ایسا کرب بن کر دل پر ایک دائمی زخم چھوڑ جاتا ہے۔
وہ پانچ سالہ معصوم بچی۔۔۔
ایک ننھا سا پھول، جس کی ہنسی ابھی دنیا کی سختیوں سے آشنا بھی نہ ہوئی تھی۔۔۔ جس کی معصوم زندگی کو درندگی نے بے رحمی سے خاموش کر دیا، اور جس کے ننھے، بے جان وجود کو بے حسی کے ساتھ ایک تاریک اور سرد کنویں کی گہرائیوں میں پھینک دیا گیا۔
میرا ذہن اس وحشت کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔۔۔۔۔
انسان سوچتا ہی رہ جاتا ہے: ایسی درندگی کرنے والے لوگ پھر سانس کیسے لے سکتے ہیں؟
آدمی حیوان سے تشبیہ پانے کو بھی گراں سمجھے، مگر انسان آخر کس مقام تک گر جائے کہ حیوان سے بھی نیچے اتر جائے؟
اور یہ زوال صرف انفرادی چہروں تک محدود نہیں ہے، یہ ہمارے پورے نظام کی رگوں میں اتر چکا ہے۔
ظلم کا وہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ جس میں انسانی جان شاید دنیا کی سب سے سستی چیز بن چکی ہے۔
ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں۔۔۔ ریاستی جبر کا شکار ہزاروں بے گناہ ہوں یا ہمارے اپنے معاشرے کا گھٹن زدہ نظام۔۔۔۔۔۔
ہم خود اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ ہم نے اس ظالم نظام کی شکل میں خود پر ہی وہ قیامتیں ڈھائی ہیں کہ اب اپنے ہی گھروں میں، اپنے ہی وجود کے ساتھ محفوظ نہیں۔۔۔۔
ہم نے ظلم کے ایسے جال بن لیے ہیں جو اتنے تنگ اور گھٹن زدہ ہیں کہ اب ہم خود اپنی ہی نسلوں کا سکون نگل رہے ہیں۔ ہم نے ایسا معاشرہ تشکیل دیا ہے جہاں ایک ماں اپنی بیٹی کے مستقبل سے خوف زدہ ہے، جہاں ایک بچہ اپنے ہی اردگرد محفوظ نہیں، جہاں غربت انسان کو اپنے ہی گھر کا قاتل بنا دیتی ہے، جہاں بے حسی آہستہ آہستہ ظلم کی معمول کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
لفظ اب ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔۔۔
رونے کی بھی طاقت نہیں رونا تو یہی ہے۔۔۔
فریاد امتی جو کرے حالِ زار میں
ممکن نہیں کہ خیر بشر کو خبر نہ ہو
یا رسول اللہ ﷺ!
ہم صرف آپ کی بارگاہ میں التجا کرتے ہیں، صرف آپ سے استغاثہ لے کر بیٹھے ہیں۔ اس مبارک مہینے کی نسبت کا واسطہ، یا رسول اللہ ﷺ! نگاہِ کرم فرمائیے۔ ہم ٹوٹ چکے ہیں، اندر سے بالکل پاش پاش ہو چکے ہیں۔ آپ کے سوا کوئی فریادرس نہیں۔۔ امت کی دستگیری فرمائیے۔۔۔
ہمارے دلوں کے اس بوجھ کو ہلکا کر دیجیے۔
ہمیں اس اندھیرے سے نکال کر نور کی طرف لے جائیے۔ یا رسول اللہ ﷺ! جب کوئی ہمارا پرسانِ حال نہیں۔۔۔ ہمارے پاس آپ کے سوا کوئی سہارا نہیں۔۔۔۔
ہمیں امن دے دیجیے، ہمیں رہائی دے دیجیے۔۔۔
ہمیں اس بے حسی سے رہائی چاہیے۔۔۔۔
اک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا
تم نے تو چلتے پھرتے ہیں مردے جلا دیئے ہیں
جب آگئی ہیں جوش رحمت پہ ان کی آنکھیں
جلتے بجھا دیئے ہیں روتے ہیں ہنسا دیئے ہیں
پارٹ نمبر 1
نام نہاد انسانی حقوق والوں کو فلسطینی عوام پر کیا گیا ظلم نظر کیوں نہیں آتا قادیانی عناصر اور نام نہاد انسانی حقوق کا 295C کے خلاف ایجنڈا بـے نقاب
تحریکِ لبیک پاکستان کا سخت ردِعمل اور دوٹوک پیغام
Enforce 295C
#295C_Our_RedZone
پارٹ نمبر 2
نام نہاد انسانی حقوق اور قادیانی عناصر کا 295C کے خلاف ایجنڈا بـے نقاب
295 سی کی طرف دیکھا بھی نہیں ورنہ لبیک والے لگام ڈالنا جانتے ہیں
تحریکِ لبیک پاکستان کا سخت ردِعمل اور دوٹوک پیغام
Enforce 295C
#295C_Our_RedZone
@Hassanbxd پوسٹ نمبر 222
ہم اپنے آقا کے میلاد کی خوشی منا
کر تمام دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ
امتِ مسلم اپنے نبی سے بے پناہ
محبت کرتی ہے۔
Enforce 295C
#295C_Our_RedZone
@Hassanbxd پوسٹ نمبر 132
ختم نبوت ﷺ کا پروانہ ہر قیمت پر قانونِ
توہینِ رسالت کا دفاع کرے گا اور اس کی
طرف دیکھنے والوں کی بینائی چھین لی جائے گی۔
Enforce 295C
#295C_Our_RedZone
جب حضور ﷺ تشریف لے آئے
تو اب دین اور سیاست جدا جدا نہیں ہیں
Celebrating Milad-un-Nabi ﷺ is not just about emotional remembrance only it is about honoring the ultimate Prophetic Mission that transformed every dimension of human life:
Ethics, Justice, Economics, and Governance.
When Revelation touched the Earth it dismantled unjust elite privileges and established Justice-driven Governance under Tawhid.
Celebrating the arrival of the Prophet ﷺ means understanding the purpose of his arrival!
🔥 We are taking this vital discussion live on our X Space!
Get ready for an eye-opening session as we bridge classical Seerah with modern institutional reform:
From Rituals to Systemic Change