ہندوستان ایکشن کمیٹی کا دعویٰ تھا کہ کشمیری عوام کسی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں اور انتخابات میں ریاستی مشینری اپنا جادو دکھا رہی ہے جبکہ آج راولاکوٹ کی بغل حویلی میں کشمیریوں کے اکٹھ نے بوتھا تروڑ جواب دے دیا ہے اور آزاد کشمیر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا ہے
ہمارے پاس 16 گھنٹے کام کرنے والا وزیراعظم ہے جس نے ان مشکل حالات میں بھی FBR کا ریونیو بڑھا لیا ، ہم نے war جیت لی ہم نے سفارتی کامیابی حاصل کر لی بس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کے اگر سسٹم اور بہتر ہوتا تو ویراعظم اس بھی بہتر کام کرتے ۔
وزیراعظم شہباز شریف پانچ سال پورے کریں گئے
وہ جو وہاں مسلح اسلحے کے ساتھ بیٹھے ہیں وہ حقِ رائے دہی، الیکشن اور ووٹنگ کو روکنے کے لیے مظفرآباد کی طرف لشکر کشی کرنا چاہتے تھے۔ جو لوگ بندوق کی نوک پر الیکشن روک رہے ہیں ان کی حمایت اور ابھارنے کی کوشش کو کبھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ہم نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 31 ارکان کے تمام جائز مطالبات اکتوبر 2025 میں تسلیم کیے۔ ان کا واحد مقصد الیکشن کو روکنا تھا جو کہ دشمن اور مودی کے سندور ٹو ایجنڈے کو کامیاب کرنے کے مترادف تھا۔ آزاد کشمیر میں الیکشن کا انعقاد ہی اس دشمنانہ ایجنڈے کی ناکامی کی ضمانت ہے۔
اگر آپ میاں نواز شریف کو یہ کہیں گے کہ وہ پہلی دفعہ , یا ہمیشہ دھاندلی سے وزیراعظم بنے ہیں تو پھر آپ یاد کریں
یہاں پہ یہ بھی بات ہوتی ہے
کہ کوئی پہلی دفعہ ملک توڑ کے بھی وزیر اعظم بنا تھا۔
آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر سیاست میں شامل کیا اور الحمد للہ یہ 34 سالہ وفا کا سفر آج بھی جاری ہے اور آخری دم تک رہے گا۔ آزمائش ہو، اقتدار ہو یا اپوزیشن , ہمیشہ آپ کے وفادار سپاہی اور رفیق کی طرح ساتھ کھڑا رہا ہوں۔ اس رفاقت پر مجھے اور میرے خاندان کو فخر ہے۔
اگر ماضی کے بیانات پر ہی کھیلنا ہے تو مولانا فضل الرحمان کے والد کا بیان ڈاکٹر اسرار احمد کی زبانی سن لیجئیے
ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں ہیں
مولانا صاحب سناؤ فیر