آزاد کشمیر میں فری بجلی کے حقائق
جب ڈیم بنا تو اسکے بدلے ان لوگوں کو پیسے اور پنجاب میں زمینیں دی گئیں انگلینڈ کے ورک پرمٹ دئیے گئے 1967 کے معاہدے میں کہیں بھی مفت بجلی دینے کا ذکر موجود نہیں بلکہ ترجیح اور برابری کی شق تھی مشرف دور میں انکو پھر سے 70 ارب کا معاوضہ اور بجلی کی رائلٹی کی مد میں سالانہ 75 کروڑ روپے دینے کا فیصلہ ھوا اور ساتھ ھی انکو رعایتی ریٹ پر گندم اور بجلی دینے کا فیصلہ ھوا اس سب کے باوجود، میرپور کے لوگ ابھی تک نالاں ہیں اور اسے اپنے حقوق کی پامالی قرار دیتے ہیں۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ انہوں نے نیا میرپور شہر بسانے اور پانی کی مد میں اربوں روپے خرچ کیے ہیں، جبکہ لوگ اسے اپنے حق سے محرومی قرار دیتے ہیں اور اپنی رائلٹی کی تحریک کو آج بھی ایک اہم علاقائی مسئلہ مانتے ہیں۔
اس نوجوان نے آزاد کشمیر میں پانی کے ذخائر اور سیاحت متعلق حقائق کو اعداد و شمار سے بتایا ھے
2025 میں سیاحت کا ریکارڈ ٹوٹا 15 لاکھ سیاح آزاد کشمیر گیا جس سے معیشت کو 60 ارب کا فائدہ ھوا اور پاکستان صرف آزاد کشمیر کو گندم کی مد میں 38 ارب کی سبسڈی دیتا ھے
کوئی بلیک میل ایکشن کمیٹی کا بندہ ھے جو ان حقائق کو غلط ثابت کر سکے ؟
اخے ہمارے کُوک پنجاب کھا گیا
پنجاب میں عام آدمی سردیوں میں بھی اپنے گھر بجلی پر گیزر نہیں چلا سکتا جبکہ آزاد کشمیر میں جانوروں کو پانی بھی سردیوں میں گیزر کے ذریعے گرم کر کے پلایا جاتا یورپ سے زیادہ سستی بجلی اور آٹا لیکر پاکستان اور پنجاب کو گالی دیتے ہیں اتنی آزادی مقبوضہ کشمیر میں ھے ؟
سوڈان میں متحدہ عرب امارت کی چھیڑی ہوئی خانہ جنگی کی وجہ سے شدید قحط پڑ گیا ہے جس سے بچے متاثر ہو رہے ہیں
ان کے لیے آواز اٹھائیں تاکہ دنیا اور اقوام متحدہ ان کی مدد کر سکے
دیساں دا راجا، میرے بابل دا پیارا، ویر میرا گھوڑی چڑھیا
پنجاب میں تقریبا" ہر شادی پر گائے جانے والے اس گیت کو عام طور پر لوک گیت سمجھا جاتا ہے. حالانکہ یہ فلم "کرتار سنگھ "کیلئے لکھا ہوا گیت ہے جسے ایک ایسے سیدھے سادے شاعر نے لکھا، جس کے دن کا بیشتر حصہ بھینسوں کی دیکھ بھال میں گزرتا تھا۔ وہ خود ان کا دودھ دوہتا تھا.
یہ تھے وارث لدھیانوی ،جن کا اصل نام چودھری محمد اسماعیل تھا،11 اپریل 1928 کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔1947 میں ہجرت کرکے لاہور آنا پڑا۔ پہلے عاجز تخلص تھا۔ استاد دامن کے شاگرد ہونے کے بعد وارث لدھیانوی ہوگئے۔ کہتے تھے استاد نے سر پر ہاتھ رکھا تو میں وارث لدھیانوی بنا ورنہ وارث تو بڑے رلتے پھرتے ہیں۔
وارث لدھیانوی نے بے شمار فلموں کے گیت اور مکالمے لکھے۔ مکھڑا، کرتار سنگھہ ، یار بیلی، بابل دا ویہڑا ان کی مشہور فلمیں ہیں۔
وارث لدھیانوی نے 5 ستمبر 1992 کو لاہور میں وفات پائی.
وارث لدھیانوی کا ہمارے دوست اظہر جاوید کے ساتھ بہت محبت کا تعلق تھا. کئی بار دفتر تخلیق میں ملاقات ہوئی. وارث کے مزاج میں عجز اور انکسار تھا. چائے پانی پکڑانے میں پہل کی کوشش کرتے. سب کو خود سے زیادہ علم والا سمجھتے. حالانکہ پنجابی گیت لکھنے میں جو کمال انہیں حاصل ہوا وہ بہت کم کو نصیب ہوا ہوگا.
احمد عقیل روبی راوی ہیں، جنرل ضیاء الحق کا زمانہ تھا۔ پولیس والے لوگوں کے منہ سونگھتے پھرتے تھے۔ وارث لدھیانوی کا بھی سُونگھا اور اسے پکڑ کر تھانے لے گئے۔ حوالات میں بند کر نے لگے تو وارث لدھیانوی نے تھانیدار سے پوچھا
‘‘پتر، تیرا ویاہ ہویا اے؟’’
تھانیدار نے کہا
’’ہاں ہویا اے، تے ایس تھانے وچ سارے ویاہے ہوئے نیں۔ ’’
’’وارث نے کہا ’’تے فیر ساریاں دے ویاہ تے اک گیت ضرور بھیناں نے گایا ہونا اے
’’تھانیدار نے پوچھا
’’کیہڑا گیت ؟‘‘
’’دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا
امڑی دے دل دا سہارا
نی ویر میرا گھوڑی چڑھیا‘‘ وارث نے کہا
’’ہاں ایہہ گیت گایا سی، پر تیرا ایس گیت نال کیہ تعلق؟‘‘ تھانیدار نے کہا۔
وارث لدھیانوی نے ہنس کے کہا
’’یار ایہہ گیت میں لکھیا اے تے میرا ناں وارث لدھیانوی اے۔‘‘
تھانیدار نے تانگا منگوایا اور ایک سپاہی کی ڈیوٹی لگائی۔
’’ جا وارث صاحب نوں سلطان پورے چھڈ کے آ۔ کدھرے کوئی ہور پولس والا نہ پھڑ لوے‘‘
وارث لدھیانوی کے کچھ اور مقبول گیت
اک کڑی دی چیز گواچی، بھلکے چیتا آوے گا(شہری بابو)
دلا ٹھہر جا یار دا نظارہ لین دے (مکھڑا)
ڈورے کھچ کے نہ کجلا پائیے (مکھڑا)
میرا دل چناں کچ دا کھڈونا (مکھڑا)
چھم چھم پیلاں پاواں (یاربیلی)
چن چن دے سامنے آگیا ( پگڑی سنبھال جٹا)
ڈاڈھا بھیڑا عشقے دا روگ (رن مرید)
گوری گوری چاننی دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں نی (کرتار سنگھ)
ربا ایہدے نالوں موت سکھالی، وچھوڑا مکے سجناں دا (پگڑی سنبھال جٹا)
چھپ جاؤ تاریو پادیو ہنیر وے (لنگوٹیا)
وے سب توں سوہنیا، ہائے وے من موہنیا ( رنگیلا)
سانوں وی لے چل نال وے باؤ سوہنی گڈی والی (چن پتر)
دھیاں دتیاں تے کیوں نہ دتا مال مالکا (بابل دا ویڑھا)
دلاں دیاں میلیاں نیں چن جہیاں صورتاں ( مٹی دیاں مورتاں)
دلا ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے (مکھڑا)
پہلی واری اج اوہناں اکھیاں نیں تکیا، ایہو جیہا تکیا کہ ہائے مار سٹیا(ٹھاہ)
آسینے نال لگ جا ٹھاہ کر کے (ٹھاہ)
جھانجھریا پہنا دو، بندیا وی چمکا دو (شیر خان)
گھنڈ کڈھ کے میں پیلاں پاواں لکاندی پھراں انگ انگ نوں( جنج)
ڈاڈھا بھیڑیا عشقے دا روگ ( رن مرید)
لوکو وے لوکو، ایس منڈے نوں روکو (دو رنگیلے)
اسی کی کی بھیس وٹائے یار تیرے ملنے نوں (ٹھاہ)
پہلی واری اج اوہناں انکھیاں نے تکیا (ٹھاہ)
نی چنبے دئیے بند کلئیے، تینوں جہڑے ویلے رب نے بنایا (پہلا وار)
بشُکریہ : اسلم ملک
اسرائیل اب ہر دن فلسطینی بچوں کو اغوا کر رہے ہیں. اسرائیل میں اگرچہ اعضاء کا عطیہ (آرگن ڈونیشن) ممنوع ہے، لیکن دنیا کا سب سے بڑا جلد (اسکن) بینک اسرائیل میں موجود ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ اعضاء کی تجارت اسرائیل کرتا ہے،
اور ممکن ہے کہ یہ اعضاء فلسطینی بچوں سے چوری کیے جاتے ہوں.
میرا خاوند بے روزگار ہے.... کوئی بات نہیں اگر بے روزگار ہے تو میں کونسا مرنے لگی ہوں بھلا....میں اسکے ساتھ ہوں وہ میرے ساتھا.
بھئی ایسی عورت مرد کے ساتھ ہو تو واقعی دنیا جنت ہوتی مرد کی 😊😊
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ پاکستان کے مایا ناز ڈاکٹر کاڈیولوجسٹ دل کے دورے کے رزق کی معلومات فراہم کر رہے ہیں غور سے سنیے سب دوستوں کے لیے ضروری چیز کمنٹ کیجئے اور دوستوں کو شیئر کیجئے شکریہ
میرے پیارے پاکستانیوں آپ نے صرف قصے کہانیوں میں سنا ہوگا۔
آؤ۔۔۔
آج میں آپکو سچ میں دو منہ والا سانپ دیکھاتا ہوں۔
ارے بھائی ڈرنے کی ضرورت نہیں
ہماری رینجر نے اس کا زہر نکال دیا ہے۔
اب آنے والی نسلوں کو عبرت کے لیے دیکھانے کے واسطے اڈیالہ میں رکھا ہوا ہے۔
خطرناک ہوتا تو مار دیتے۔
💔 ایک فلسطینی بچہ چیخ رہا ہے… "خدا کا واسطہ… مجھے چھوڑ دو…!"
مگر سامنے کھڑے لوگوں کے دل پتھر بن چکے ہیں 😢
نہ رحم… نہ احساس… نہ انسانیت!
اس کی معصوم آواز آسمان تک جا رہی ہے…
لیکن زمین پر انسانیت دم توڑ چکی ہے… 🥀
آخر کب تک؟
کب تک یہ ظلم؟ کب تک یہ خاموشی؟
یہ ہیں وہ فرشتہ صفت درویش بزرگ صوفی برکت علی لدھیانوی جنہوں نے 36 سال پہلے فرما دیا تھا کہ ایک دن اقوام عالم کے فیصلے پاکستان کی ہاں اور ناں میں ہوا کریں گے۔
الحمدللۀ آج نواز شریف کے بھائی شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان اقوام عالم کے فیصلے کررہا ہے۔
ﷲ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے