انسان کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ
ہمیں سنبھالنا کسی اور کی ذمہ داری نہیں ہوتی
خود کے سوا سب دوسرے ہوتے ہیں
اور یہ بات انسان جتنی جلدی جان لے گا
اتنا لوگوں سے کم مایوس ہوتا جائے گا
#قومی_زبان
قبائیل کے نام نہاد مَشر کل سہیل آفریدی کے سامنے کہہ رہے تھے عمران خان کا شکریہ جس نے ایک قبائیلی کو وزیر اعلی بنایا آج اُسی قبائیلی کو اغوا کرنے والوں سے طاقت کی بھیک مانگ رہے ہیں موقع پرست اپنے فائیدے کے لیے قوم کا سودا کرنے والے ! یہ دیکھیں انکی حقیقت !
بسمہ اللہ الرحمٰن الرحیم*
*جناب بیرسٹر گوہر علی خان چئیرمین پاکستان تحریک انصاف*
*جناب سلمان اکرم راجہ
سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف*
*ممبران پارلیمانی پارٹی نیشنل اور صوبائی اسمبلی و سینٹ*
*ممبران سیاسی اور کور کمیٹی*
پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت تاریخی دوراہے ہر ہے ۔ اس کا مضبوط اور منضبط رہنا نہ صرف اُس کے اپنے وجود کے لئے ضروری ہے بلکہ پاکستان کی نوجوان نسل کی امیدوں کو بارآور کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہے ۔
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین جناب عمران احمد خان نیازی کی گذشتہ 3 برس کی جیل اور تقریباً ایک سال کی قید تنہائی نے تحریک انصاف کے لئے صورت حال گھمبیر کر دی ہے۔ ایسے میں باقیماندہ پی ٹی آئی قیادت کے لئے مشکلات اور آزمائش بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ۔
کوٹ لکھپت جیل میں مقید پی ٹی آئی رہنما ، پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ زیادہ بردباری، درگزر اور صبر کا مظاہرہ کریں گے ۔ محض خیروں اور افواہوں کی بنیاد پر رد عمل کا اظہار نہ کریں اور باہم مل بیٹھ کر معاملہ فہمی، صلاح مشورے اور بحث و تمحیص کے بعد زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے سے فیصلے کریں ، مختلف اجلاسوں میں ہونے والی بحث امانت کا درجہ رکھتی ہے ، میڈیا پر اپنی ذاتی آراء کا اظہار کرنے کی بجائے پارٹی پالیسی کے آنے کا انتظار کریں اور اُس کے مطابق ذرائع ابلاغ پر اپنے خیالات کا اظہار کریں. یہ وقت استعفیٰ دینے اور استعفوں کا مطالبہ کرنے کا نہیں ہے۔
کوٹ لکھپت جیل میں مقید تحریک انصاف کے رہنما ، تحریک انصاف کی قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ وائس چیئرمین پی ٹی آئی جناب شاہ محمود قریشی کی رہائی کو پارٹی پالیسی کی اولین ترجیحات میں رکھیں ۔
وائس چیئرمین پی ٹی آئی تین برس سے زیادہ عرصہ سے جیل میں ہیں ۔ وہ اپنے اوپر بنائے جائے والے تمام مقدمات میں سے چھ میں بری اور باقی مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے ۔ اُسی طرح کے باقی دو مقدمات میں عرصہ دراز سے ضمانت کی درخواستیں فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں، اس ضمن میں بیسوں پیشیاں / تاریخیں پڑ چکی ہیں ۔ ریکارڈ ہی پیش نہیں ہوتا ! اُن کی رہائی موجودہ پی ٹی آئی قیادت کیلئے تقویت کا باعث ہوگی ۔
*شاہ محمود قریشی*
*ڈاکٹر یاسمین راشد*
*سینیٹر اعجاز احمد چوہدری*
*میاں محمود الرشید*
*عمر سرفراز چیمہ*
بذریعہ! رانا مدثر عمر ایڈووکیٹ
احمد فرہاد صاحب نے جانی مالی ہر لحاظ سے اس مشکل راستے کی قیمت چکائی ہے۔یہ کتاب خرید کر ہم اس پبلشر کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں جس نے عمران خان کے نام سمیت یہ کتاب چھاپنے کی حامی بھری۔بہت بہت مبارکباد
وزیر اعلی سہیل آفریدی کے ترقیاتی پیکجز بمقابلہ وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان
وفاقی حکومت کا اعلان: وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا۔ اطلاعات کے مطابق اس رقم کا 70 فیصد ضم اضلاع اور 30 فیصد صوبے کے دیگر اضلاع کے لیے مختص کرنے کی بات کی گئی۔ دوسرے سائیڈ پروزیر اعلی سہیل آفریدی نے صرف پشاور شہر کے لیے 200 ارب کا تاریخی پیکج دیا، جس پر آج بھی درجنوں جگہوں پر کام ہو رہا ہے۔
- ضم اضلاع کا پیکج: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ضم اضلاع کی ترقی کے لیے ایک ہزار ارب روپے کے مجوزہ ’’روشن قبائل‘‘ پیکج کا اعلان کیا، جس میں تعلیم، صحت، سڑکوں، روزگار اور بنیادی سہولیات کے منصوبے شامل ہیں۔ 
ہزارہ ڈویژن: سہیل آفریدی نے 200 ارب روپے کے خصوصی ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا، جس میں 50 ارب روپے سیاحت کے منصوبوں کے لیے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔ 
مردان: سہیل آفریدی نے مردان کے لیے 50 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا۔ 
اہم فرق: وزیراعظم کا 160 ارب روپے کا اعلان وفاقی ترقیاتی تعاون سے متعلق ہے، جبکہ سہیل آفریدی کے اعلانات مختلف علاقائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے ہیں۔
جب مذاکرات میں وفاقی حکومت کی طرف سے دہشتگردی کے بارے میں پیرا 4 شامل کیا گیا ۔ تب وزیر اعلی سہیل آفریدی نے پیشکش کی دہشتگردی ایک ناسور ھے ۔ سب ملکر بیٹھتے ھیں وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت اور ریاستی ادارے اور ایک ہی دفعہ پالیسی بناتے ھیں دہشتگردی سے اور اس کے سہولت کاروں سے چھٹکارا حاصل کرتے ھیں لیکن نیت دہشتگردی ختم کرنی کی ھونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ھوئی جو پالیسی ہم آپ کو بتا رہے اس من وعن عمل کیا جائے تو سو دن کے اندر اندر پختونخواہ امن آجائے گا ۔ اگر نہیں آیا تو اپنی پالیسی پر عمل پیرا ھوجائے ۔
لیکن دہشت گردی کو وجہ بناکر عمران خان کی منتخب حکومت کو نشانہ بنایا گیا ۔
ہم اکثر بات چیت کی بات کرتے تھے ۔ اور عمران خان بھی بات چیت کے حامی تھے اور ھیں ۔ اور ہم نے کافی چیزیں مذاکرات سے حاصل بھی کی ۔
اب نیچے جو موصوف ان کا لگایا ھوا ھے ۔ وہ اضلاع جہاں پر ایمر جینسی لگائی گئی وہاں جو کونسل بنایا گیا اس کے ڈپٹی چیرمین ھے ۔ وہ بھی اب مذاکرات اور بات چیت کی بات کر رہے ھیں ۔ اب وہ صحافی اور وفاقی وزراء جو اس مذاکرتی عمل کے خلاف تھے اور اس کو جواز بنا کر عمران خان کی حکومت کو نشانہ بنایا۔اس بارے میں کیا خیالات رکھتے ھیں ۔
بےشک اللہ الحق ھے ۔
https://t.co/NQTmrvnzOn
🚨نئے آرمی چیف کے آنے تک اور عاصم منیر کے جانے تک حالات بہتر نہیں ہو سکتے واضح طور عاصم منیر کا واحد مشن صرف اور صرف میرے والد عمران خان کو ٹارگٹ کرنا ہے میری سمجھ سے باہر ہے عاصم منیر کے کے قریبی لوگ عمران خان پر عاصم منیر کو ظلم کیوں کرنے دیتے ہیں کیوں اسے لوگوں کو گولیاں مارنے سے نہیں روکتے عمران خان 90 فیصد پاکستانیوں کی حمایت سے موجود ہے ۔
قاسم خان @Kasim_Khan_1999
انہتائی شرمناک : ایک وزیراعلی پولیس کسٹڈی میں ملزم پر تشدد کا حکم دے کر تشدد کو پروموٹ کر رہی ہے ؛ پنجاب پولیس پہلے ہی خود کو قانون سے بالاتر سمجھ کر تباہی پھیر رہی اور پھر جب ان جیسی وزیراعلی ہو تو قانون کی دھجیاں ہی اُڑیں گی۔
ابھی تک لوگوں میں انسانیت باقی ہے۔پچھلے دنوں بھی نون لیگ کے کچھ اکاؤنٹس کو ہمارے بابا کےرشتہ داروں نے ہماری ذاتی تصویریں دیں کہ وہ اپنے اکاؤنٹس پر لگائیں۔۔ اج بھی ایک اکاؤنٹ نے مجھے سکرین شاٹ ڈی ایم کیے کہ دیکھیں اپ کا کوئی رشتہ دار *** کہتا ہے کہ اپ کی بہنوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر لگاؤ اس کے بدلے جتنے پیسے کہیں گے وہ دیں گے
بہت شکریہ اس شخص کا حالانکہ وہ سیاسی مخالف ہیں ان کا اکاؤنٹ بھی پڑا ہے ۔۔لیکن انہوں نے لکھا
"بیٹی مجھے اپ سے سیاسی اختلاف ہے۔۔لیکن میں بھی غیرت نہیں "
"عمران خان صاحب کی تینوں بہنوں کی جس دن گرفتاری ہوئی اس دن تھری ایم پی او کا ایک آڈر سامنے آیا جو گرفتاری کے بعد جاری ہوا جس کو ہم نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اس پر ہوم سیکرٹری نے سماعت کی تیس دن گزرنے کے باوجود عدالت احکامات کے مطابق فیصلہ نہ ہوا، 19 اکتوبر کو 30دن پورے ہوئے آج تین دن اوپر ہوچکے ہیں لیکن رہائی نہیں ہوئی آج ہم نے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی اور عدالت سے استدعا کی کہ اس طرح غیرقانونی بغیر کسی جرم کے کسی کو زیرحراست نہیں رکھا جا سکتا عدالت ان کو فوراً عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم جاری کرے اور جنہوں نے غیرقانونی قید رکھا ان کے خلاف کاروائی کی جائے اور اس کے ساتھ عدالتی حکم نہ ماننے پر توہین عدالت کی کاروائی بھی کی جائے عدالت نے 28 تاریخ کو ہوم سیکرٹری اور سپرنڈنٹ جیل کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا"۔
علیمہ خان کے بیٹے شاہریز خان کے وکیل رانا مدثر کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو
یاد ہے نا اک شو میں اک دلیر مرد قلندر عمران احمد خان نیازی نے کہا تھا ISI مجھے کیا دے سکتی ہے
میری کوئ قیمت نہیں ہے خریدے وہ جاتے ھین جن کی کوئ قیمت ہو
میں چیلنج کرتا ہوں مجھے کوئ خرید کر دیکھائے
ٹل لگا لیا ساری دنیانے نا تو اسے خرید سکی اورنا اسے ڈرا سکے
عاصم منیر کو تاریخی جملے بولے تھے جو آنے والی نسلیں پڑھیں گئ
تو مجھے ڈرا ہوا دیکھنا چاہتاہے یہ تیرا وہم ہے
مرشد کو ڈرانے کے لیے تین چار باری پیدا ہونا پڑے گا
آنے والے بچے ٹیپو سلطان نہیں
عمران خان کی مثال دیا کریں گئے
عمران خان کی ایک سینکڈ کی زندگی عاصم منیر کی ہزار سالہ زندگی سے افضل ہے
جنیوا پریس کلب میں شہید ارشد شریف ہیومن رائیٹس ایوارڈ کا اعلان کر دیا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والوں کی شرکت۔
اگلے سال سے شہید ارشد شریف ہیومن رائیٹس ایوارڈ انسانی حقوق کے لیے خدمات سر انجام دینے والے پاکستانیوں کو ہر سال دیا جائے گا۔
جو سلوک ضیاء الحق نے آپکی پارٹی سے کیا اس سے بڑھ کر ظلم آج آپ ضیاءالحق کے قبیلے کیساتھ مل اپنے مخالفین پر کر رہے ہیں۔ تو پھر رونا کیسا؟ اپنی باری کا پھر سے انتظار کریں۔ کیونکہ
باری باری سب کی باری