بادشاہ سلامت ! ضیاءالحق دور میں امریکی جنگ لڑنے پر ملک میں امریکی ڈالرز کی ریل پیل تھی، پاکستان کی معیشت کا وہ ستیاناس نہیں تھا جو آج ایس آئی ایف سی ڈھکوسلے پر معاشی اشاریے بتا رہے ہیں۔ ڈکٹیٹرشپ کے قوانین کو نافذ کرکے سیاست کا رستہ بند کر دو، میڈیا پر سینسرشپ لگا دو اور فسطائیت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دو لیکن حقیقت سے آنکھیں کیسے چرا سکتے ہو ؟ کئی کم��نیاں ملک چھوڑ گئیں کئی تیار بیٹھی ہیں، لاکھوں قابل نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں، کسان سے لیکر تاجر تک ہر طبقہ بدحالی کا شکار ہے۔ بادشاہ سلامت، ضیاءالحق ضرور بنیں لیکن حقیقت بھی جان لیں۔
“وادی تیراہ میں بمباری سے معصوم بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کے جانی نقصان پر میں شدید رنجیدہ ہوں۔ میں ایک سال سے بارہا اس بارے میں پیغام بھیج رہا ہوں کہ ان علاقوں میں آپریشن نہ کیا جائے اور نہ ہی collateral damage کے نام پر معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہونا چاہیئے، کیونکہ اس سے دہشتگردی میں مزید اضافہ ہوتا ہے- افسوس کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کے ٹریپ میں آگئی ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ہمارے دور میں اشرف غنی نے ہمیں بت��یا کہ آپریشن سے دہشتگردی میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ معصوم لوگ مارے جاتے ہیں اس سے پہلے حامد کرزئی نے امریکیوں کو بتایا تھا کہ جب بھی آپریشن ہوتا ہے بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور ان میں سے 90 فیصد طالبان کے ساتھ اس لیے شامل ہوتے ہیں تاکہ اپنے غم و غصے کا اظہار کر سکیں۔
ہم نے اپنے دور میں افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کیے جس سے ہمارے قبائلی علاقوں میں بھی امن آیا، مگر عاصم منیر نے آتے ہی اس ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ افغانستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دئیے گئے، دہائیوں سے مقیم افغان مہاجرین کو خوش اسلوبی سے نہیں بلکہ دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا اور وہاں ڈرون حملے کیے گئے جس سے تعلقات مزید خراب ہوئے۔
عاصم منیر کے یہ سب کرنے کے پیچھے یہ مقاصد ہیں
1) خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول کرنا
2) مغرب میں اینٹی طالبان لابیز کو خوش کرنا اور یہ ظاہر کرنا کہ عاصم منیر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے
عاصم منیر ساری دنیا میں پھر رہا ہے لیکن اگر تدبر سے کام لے تو سب سے پہلے افغانستان جا کر ان سے بات کرنی چاہیے، جو ہمارا برادر اسلامی ملک بھی ہے اور جن کے ساتھ ہم ڈھائی ہزار کلو میٹر کی سرحد رکھتے ہیں۔ قبائلی علاقوں اور خطے کے امن کے لیے ضروری ہے کہ چار فریقین افغانستان کی حکومت، پاکستانی حکومت، قبائلی اور افغانی عوام مل کر بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں تاکہ امن کا راستہ نکلے اور مزید نقصان سے بچا جا سکے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (24 ستمبر، 2025)
1/2
اسرائیل کے قطر کے حملے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے 7 رکنی حماس کے وفد کو معاہدہ امن بھیجا قطر بھیجا اور پھر ان کی لوکیشن اسرائیل کے ساتھ شیرٔ کی ہیں۔امریکہ نے قطر کے اندر لگے اپنے ڈیفینس سسٹم کو بھی بند کردیا، ٹرمپ واردات کر گیا۔
اب لگتا ہے عرب دنیا کو بھی چین کے پاس ہی جانا پڑے گا۔
بریکنگ نیوز 🚨: عمران ریاض کا بڑا انکشاف 🔥
مجھے ایک ملٹری اسٹبلشمنٹ کے سینیئر آفیسر نے بتایا کہ ہمیں کرپشن کرنے والے سیاستدان سوٹ کرتے ہیں ان سے کام نکلوانا ہمارے لیے آسان ہوتا ہے جو بندے ایماندار ہوتے ہیں وہ ہمارے کام نہیں آتے
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
وطن عزیز کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی لے چکی ھے اور شہریت لینی کی تیاری کر رہی ھے۔ اوریہ نامی گرامی بیوروکریٹس ھیں ۔ مگر مچھ اربوں روپے کھا کے آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہیں۔ بزدار کا ایک قریب ترین بیوروکریٹ چار ارب بیٹیوں کی شادی پر صرف سلامی وصول کر چکا ھےاور آرام سے ریتٹائرمنٹ کی زندگی گذار رہا ھے۔ سیاستدان تو انکا بچا کھچا کھا تے اور چولیں مارتے ھیں نہ پلاٹ نہ غیر ملکی شہریت کیو نکہ الیکشن لڑنا ھوتا ھے۔ پاک سر زمین کو یہ بیروکریسی پلیت کر رہی ھیں۔
آئی ایس آئی اور ایم آئی والے دفتروں میں دبک کر بیٹھے ہیں اور انڈیا والے پاکستان کے اندر گھس کر ہمارے لوگوں کو مار رہے ہیں!
ان سالوں کا زور بس پی ٹی آئی کارکنان اور آواز حق بلند کرنے والوں پر ہی چلتا ہے، اور جہاں سے گولی چلتی ہے، یہ وہاں سے بھاگ جاتے ہیں
“The recent escalation between Pakistan and India has once again proven that Pakistanis are a brave, proud, and dignified nation.
I have always said, "Mulk bhi mera, Fauj bhi meri" (this country is mine, and so is the army). Just as our soldiers defeated Modi on both aerial and ground fronts, the people of Pakistan—especially on social media—exposed and dismantled Modi and the RSS’s narrative at a global level.
By targeting innocent civilians such as children, women, the elderly, and civilian infrastructure in Pakistan, Modi displayed cowardice. Our forces responded with strength and precision. We stand in full solidarity with the families of both civilians and military personnel who were martyred in these cowardly attacks.
I pay tribute to the Pakistan Air Force and all our military personnel for their professionalism and outstanding performance. Unlike Modi, who targets civilians and public infrastructure, our forces successfully hit only the aircraft and installations directly involved in the attacks.
Narendra Modi harbors deep hatred for Pakistan. The fearless attitude shown by Pakistanis during this conflict must have only fueled his anger. He is likely furious and may attempt another false-flag operation, similar to what he orchestrated in Indian Illegally Occupied Jammu and Kashmir. We must stay alert and fully prepared. I had predicted this scenario back in 2019 as well. Modi will also try to inflict economic damage on Pakistan. In case of any new attack, the nation must remain united and ready.
During wartime, a swift response is absolutely vital. Wars are fought as much with nerves as with weapons—perhaps 60 percent of it depends on mental strength. That is why it is crucial to have leadership that enjoys the people’s trust and can make bold and timely decisions in the face of aggression.
In a state of war, the military needs public support more than ever. The morale of the nation becomes the strength of the armed forces. That is why I’ve consistently emphasized that we must not isolate our people, and we must breathe life back into our justice system”
Illegally incarcerated former Prime Minister Imran Khan’s conversation with his family at Adiala Jail today, in reference to India’s attack on Pakistan and the Pakistani nation’s resilient response (May 13, 2025)
1/2